’ڈپٹی نذیر احمد اساتذہ کے لیے ایک مثالی شخصیت تھے‘

پروفیسر غضنفر نے کہا کہ میں ”بازگشت“ کے ذمہ داران کو یومِ اساتذہ کے موقعے پرمولوی نذیر احمد کے خاکے کی پیش کش پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ ایک استاد کی زندگی پر لکھا گیا بہترین خاکہ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: ممتاز فکشن نگار پروفیسر غضنفر نے ”بازگشت“ آن لائن ادبی فورم کی جانب سے مرزا فرحت اللہ بیگ کے مشہور خاکے ”ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی۔ کچھ میری، کچھ ان کی زبانی“ کے منتخب حصوں کی پیش کش اور تجزیے پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پروگرام میں بہ طور مہمان خصوصی شرکت کرنے والے پروفیسر غضنفر نے کہا کہ ’’ڈپٹی نذیر احمد اساتذہ کے لیے ایک مثالی شخصیت تھے۔ ان کی پوری زندگی شاگردوں اور علمی کاموں کے لیے وقف تھی۔ میں ”بازگشت“ کے ذمہ داران کو یوم ِاساتذہ کے موقعے پرمولوی نذیر احمد کے خاکے کی پیش کش پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ ایک استاد کی زندگی پر لکھا گیا بہترین خاکہ ہے۔ استاد شاگرد کا رشتہ، علم کا شوق، پڑھانے کا چسکہ اور پڑھنے کا شوق، ان تمام باتوں سے اس مضمون میں بہترین انداز میں واقف کرایا گیا ہے۔“

انھوں نے مزید کہا کہ ”خاکہ میں کسی شخص کے سیاہ اور سفید دونوں رنگوں کو دلآویز انداز میں پیش کیا جاتاہے۔ مرزا فرحت نے اس میں مولوی نذیر احمد کی شخصیت کے تمام گوشے منور کردیئے ہیں۔ وہ جب مولوی صاحب کا حلیہ بیان کرتے ہیں تو ان کی شخصیت بھونڈی نظر آتی ہے لیکن جب ان کے کمالات کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے علم و فضل کے سامنے شخصیت کا بھونڈا پن دب جاتا ہے۔ وہ اپنے آرام کا وقت بھی طلبا کو پڑھانے میں صرف کرتے تھے۔“ انھوں نے ڈپٹی نذیر احمد کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات اور بشری کمزوریوں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری پر سیر حاصل گفتگو کی۔

معروف فکشن نگار اور ”بازگشت“ کے سرپرست پروفیسر بیگ احساس نے صدارتی خطبے میں کہا کہ استاد اور شاگرد کے خوش گوار رشتے کا جو سلسلہ مولوی نذیر احمد اور مرزا فرحت اللہ بیگ سے شروع ہوا تھا وہ اب تک قائم ہے۔ مرزا فرحت کا تحریر کردہ یہ اردو کا واحد خاکہ ہے جو دو اسلوب میں لکھا گیا۔ یہ فلمی تکنیک پر لکھا گیا محسوس ہوتا ہے۔ انھوں نے کیمرے کی آنکھ سے مولوی صاحب کا حلیہ، ان کے گھر کے ایک ایک کونے کی تفصیل پیش کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ جس گھر میں عورت نہیں ہوتی وہ سلیقے سے عاری ہوتا ہے۔ مرزا نے ایک جملے میں نذیر احمد کے لباس اور گھر کی بے ترتیبی کی وجہ بیان کردی۔

انھوں نے اپنے استاد کو خراج عقیدت بھی پیش کیا اور بہت فنکاری کے ساتھ ان کی شخصی خامیوں کو بھی پیش کر دیا۔ یہ آج بھی اردو کا بہترین خاکہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے شاگردوں کو اشعار پڑھنا سکھایا، ان میں ادبی ذوق پیدا کیا، ان کی تربیت کی، آہستہ آہستہ انھیں ترجمہ کی طرف مائل کیا۔ خود انھوں نے اپنی شخصیت کی تعمیر بڑی محنت سے کی تھی۔ وہ پوری طرح ایک سیلف میڈ انسان تھے۔

پسندیدہ ترین
next