این ڈی اے کا ’جی ایس ٹی نظام‘ ناکام ہی نہیں، چھوٹے تاجروں پر حملہ بھی ہے: راہل گاندھی

این ڈی اے کے جی ایس ٹی میں چار الگ الگ ریٹ ہیں اور وہ اس لئے ہیں کیونکہ یہ سرکار چاہتی ہے کہ جس کی پہنچ ہو وہ جی ایس ٹی کو آسانی سے بدل پائے اور جس کی پہنچ نہ ہو وہ اس کے بارے میں کچھ نہ کر پائے۔

تصویر بشکریہ یو ٹیوب
تصویر بشکریہ یو ٹیوب
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ہندوستانی معیشت کی بدحالی اور اس کی وجوہات پر راہل گاندھی نے اپنا تیسرا ویڈیو پیغام جاری کیا اور مودی حکومت کو جی ایس ٹی کی ناکامی پر ہدف تنقید بنایا۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا کہ جی ایس ٹی ہندوستان کے غریبوں پر بڑا حملہ ہے۔

جی ایس ٹی کو ہندوستانی معیشت پر دوسرا بڑا حملہ قرار دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ’’غیر منظم معیشت پر دوسرا بڑا حملہ جی ایس ٹی ہے۔ جی ایس ٹی یو پی حکومت کا آئیڈیا تھا اور اس آئیڈئے کا مقصد ایک ٹیکس، کم سے کم ٹیکس اور آسان ٹیکس کا نفاذ تھا۔ این ڈی اے کا جی ایس ٹی بالکل الگ ہے، اس میں چار الگ الگ ٹیکس ہیں، 28 فیصد تک ٹیکس ہے، بہت پیچیدہ ٹیکس نظام ہے، سمجھنے میں بہت مشکل ٹیکس ہے۔ چھوٹے تاجر یعنی اسمال اینڈ میڈئم بزنس کرنے والے اس ٹیکس کو بھر ہی نہیں سکتے اور بڑی کمپنیاں اس کو آسانی سے بھر سکتی ہیں، وہ پانچ، دس اور پندرہ کاؤنٹر لگا سکتی ہیں۔‘‘

این ڈی اے کے جی ایس ٹی نظام میں خرابیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ’’ اس میں چار الگ الگ ریٹ کیوں ہیں! یہ چار الگ الگ ریٹ اس لئے ہیں کیونکہ سرکار چاہتی ہے کہ جس کی پہنچ ہو وہ جی ایس ٹی کو آسانی سے بدل پائے اور جس کی پہنچ نہ ہو وہ جی ایس ٹی کے بارے میں کچھ نہ کر پائے۔ پہنچ کس کی ہے! پہنچ ہندوستان کے 15سے 20 بڑے صنعت کاروں کی ہے، تو جو بھی ٹیکس کا قانون وہ بدلنا چاہتے ہیں وہ اس جی ایس ٹی کے نظام میں آسانی سے بدل سکتے ہیں۔‘‘

کانگریس کے سابق صدر نے کہا ’’این ڈی اے کی جی ایس ٹی کا نتیجہ کیا ہے کہ آج ہندوستان کی حکومت ریاستوں کو جی ایس ٹی کا پیسہ ہی نہیں دے پا رہی۔ ریاستیں ملازمین کو، ٹیچرس کو پیسہ نہیں دے پا رہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جی ایس ٹی بالکل فیل ہے لیکن یہ صرف فیل یا ناکام نہیں ہے بلکہ یہ ایک حملہ ہے غریبوں پر اور چھوٹے تاجروں پر۔‘‘

راہل گاندھی نے ہندوستانی عوام سے اس کے خلاف کھڑا ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ’’جی ایس ٹی ٹیکس نظام نہیں بلکہ یہ ہندوستان کے غریبوں پر حملہ ہے، چھوٹے دوکانداروں پر، اسمال اینڈ میڈئم بزنس کرنے والوں پر، کسانوں اور مزدوروں پر حملہ ہے۔ہمیں اس حملہ کو پہچاننا ہوگا اور مل کر سب کو ایک ساتھ اس کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔‘‘

Published: 6 Sep 2020, 12:39 PM
next