صدر جمہوریہ ہند کی خدمت میں آصف اعظمی کی کتاب ’مجروح فہمی‘ پیش

مجروح سلطان پوری کی شخصیت اور کمالات پر مدون کردہ آصف اعظمی کی کتابیں ’مجروح فہمی‘ (اردو) اور ’مجروح سلطان پوری: ایک ادھین‘ (ہندی) صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کی خدمت میں پیش کی گئیں۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز

پریس ریلیز

نئی دہلی: صدر جمہوریۂ ہند رام ناتھ کووند نے راشٹرپتی بھون میں حال ہی میں شائع مجروح سلطانپوری کی شخصیت اور کمالات پر مشتمل اردوکتاب ’مجروح فہمی‘ اور ہندی کتاب ’مجروح سلطانپوری؛ ایک ادھین‘ کتابیں قبول کرتے ہوئے اردوشعر و ادب کو سندِ اعتبار بخشا۔ ان کتابوں کی تحقیق، ترتیب اور مقدمہ نگاری کا کام صحافی، قلم کار اور سماجی وثقافتی کارکن آصف اعظمی نے مجلس فخر بحرین برائے فروغ اردو کے زیراہتمام انجام دیا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ مجید میمن کی قیادت میں ایک چھ رکنی وفد کو خالصتا ً ان کتابوںکی رسم پیشکش کے لیے صدر جمہوریہ ٔ ہندنے شرف ملاقات بخشا اور اس تصویر کو راشٹرپتی بھون نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ بھی کیا۔ وفد کے دیگر اراکین میں صاحب کتاب آصف اعظمی، مجلس فخر بحرین کے بانی شکیل احمد صبرحدی، اشاعتی ادارہ گرین پیجز کی سی۔ای۔او زونیرہ عنبرین، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاد اور معروف نقاد پروفیسر شافع قدوائی، اگنو کے سابق رجسٹرا راور ہندی کے استاد پروفیسر جیتندر سریواستو شامل تھے۔ سب سے پہلے مجید میمن نے صدر جمہوریہ کو گلدستہ پیش کرکے عقیدت کا اظہار کیا۔ بعد ازیں آصف اعظمی نے جملہ اراکین وفد کا باری باری تعارف کرایا نیز کتاب کے مندرجات ، مجلس فخز بحرین کی خدمات سے بھی آگاہ کرایا۔ صدر جمہوریہ نے اراکین وفد سے دیر تک غیر رسمی گفتگو فرمائی اور کتاب کی اشاعت کے لیے ، بالخصوص مجروح فہمی کے ہندی ترجمہ کی ترتیب و اشاعت کے لیے شکیل احمد صبرحدی اور آصف اعظمی کو نیک خواہشات پیش کیں اور کہا کہ اپنی کاوشوں سے اسی طرح بھارت کا جھنڈا بلند رکھیں۔

اس موقعہ سے ایک غیر رسمی گفتگو میںایم پی و ایڈوکیٹ مجید میمن نے کہا کہ مجروح سلطانپوری ایک نا بغۂ روزگار شخصیت کا نام ہے، جس کے قلم کا جادو اس وقت تک سر چڑھ کر بولتا رہے گا جب تک شعر وا دب زندہ ہے۔اسی طرح صدیوں تک ساری دنیا میںیہ کتابیں پڑھی جائیں گی کیونکہ سرمایۂ علم ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ شکیل احمد صبرحدی نے کہا کہ مجلس اردو زبان اورہندوستان کی یکجہتی اور مشترکہ قومی میراث کے تحفظ و فروغ میں سرگرداں ہے اور اب تک شہریار، فراق گورکھپوری،عرفان صدیقی، آنند نرائن ملا، خلیل الرحمن اعظمی، برج نارائن چکبست اور مجروح سلطانپوری کے حوالہ سے عالمی مشاعرے اور قومی سمینارکے انعقادکے علاوہ دستاویزی کتابوں کی اشاعت کرچکی ہے، جن میں سے بعض انفرادی اور بعض مشترکہ طور پر آصف اعظمی اور عزیز نبیل نے ترتیب دیا ہے۔ آصف اعظمی نے کہا کہ ان کتابوں میں مجروح کی شخصیت، شاعری اورکمالات کی تفہیم و تشریح کے ساتھ ساتھ ان کی قدر شناسی اور حق ادائیگی کی کوشش کی گئی ہے۔ پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ اس کتاب کی خاص خوبی آصف اعظمی کا لکھا ہو مبسوط مقدمہ ہے، جو غور وفکر اور بحث و مباحثہ کی کئی نئی راہیں کھولتا ہے۔ پروفیسر جتیندر سریواستو نے کہا کہ یہ انتہائی محنت سے کیا گیا ایماندانہ کام ہے اور صدیوں تک تحقیق کرنے والوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ ہندی کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اگرچہ اس کا رسم الخط دیو ناگری ہے، مگر اس میں ہندی میں لکھے مضامین بھی ہیں اور اردو میں بھی۔ساتھ ہی ضرورت کے لحاظ سے اخیر میں مشکل اردو الفاظ کا ہندی مترادف بھی جمع کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسی کتاب کی ایک تقریب اجرا و پذیرائی کا انعقاد اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس کے صدر اور ہندی رتن رام بہادر رائے کی صدارت میں کیا گیا تھا۔ جس میں سابق مرکزی وزیر اور معروف دانشور عارف محمد خان نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شا عری شاعری ہوتی ہے خواہ وہ فلموں کے لیے لکھی گئی ہو یا کتابوں کے لیے۔ شاعر وہی بڑا ہوتا ہے جو دل پہ گزرتی ہے، اسے رقم کرتا ہے۔ جو سماجی سروکار ، انسانی دکھوں کی شاعری کرتا ہے۔انہوں نے طنزیہ لہجہ میں کہا کہ مجروح کے سلسلہ میں یہ شکوہ کیوں کیا جائے کہ انہیںادب میں صحیح مقام نہیں ملا، جب کہ اشرافیہ کا ایک طبقہ گزشتہ صدی تک اردو پڑھنے کو بھی معیوب سمجھتا تھا ۔ مجروح عوامی شاعری کرتے تھے اور ترسیل کے ماہر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام میں تو مقبول تھے مگر کبارِ ادب کے دروازے ان کے لیے بند رہے۔رام بہادر رائے نے کہا کہ مجروح نے جتنا کچھ سماج اور ادب کو دیا،بدلے میں اردو ادب نے ان کا جائز مقام و مرتبہ دینے میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ آصف اعظمی کی مرتب کردہ یہ کتابیں مجروح کا حق دینے کی سمت ایک بہتر پہل ہیں۔