شمس الرحمٰن فاروقی کی تحریروں سے روشنی حاصل کرنے کی ضرورت، بازگشت کا آن لائن تعزیتی اجلاس

پروفیسر علی جاوید نے کہا کہ فاروقی صاحب صحیح معنوں میں ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ ان میں کشادہ ذہنی بہت تھی اور وہ اپنے نظریاتی مخالفین کو بھی اپنی بات کہنے کا پورا موقع دیتے تھے۔

تصویر / پریس ریلیز
تصویر / پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

حیدرآباد: ”شمس الرحمٰن فاروقی جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔عصر حاضر کو ان کے نام سے جانا جائے گا۔ وہ اردو میں جدیدیت کے امام تھے۔ انھوں نے تنہا جتنا کام کیا کوئی ادارہ بھی اتنا کام نہیں کرسکتا۔ وہ جس کام میں ہاتھ لگاتے تھے اسے بقائے دوام حاصل ہو جاتا تھا۔ اعلیٰ ظرفی اور کشادہ ذہنی ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ انھوں نے نظریاتی اختلاف برداشت کرنا سکھایا۔ 1956سے 1970 تک کا زمانہ اردو میں تنقید کی بالا دستی کا زمانہ تھا۔“ ان خیالات کا اظہار بازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست اور معروف افسانہ نگار پروفیسر بیگ احساس نے ”بازگشت“ کی جانب سے ممتاز نقاد ادیب اور دانشور جناب شمس الرحمٰن فاروقی کی یاد میں گوگل میٹ پر منعقدہ تعزیتی جلسے میں کیا۔

پروفیسر علی جاوید سابق ڈائریکٹر قومی اردو کونسل اور استاد دہلی یونیورسٹی نے کہا کہ فاروقی صاحب صحیح معنوں میں ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ میرے ان سے پچاس برس پرانے روابط تھے۔ ان میں کشادہ ذہنی بہت تھی اور وہ اپنے نظریاتی مخالفین کو بھی اپنی بات کہنے کا پورا موقع دیتے تھے۔ الٰہ آباد میں ترقی پسند مصنفین کے ہر جلسے میں انھیں دعوت دی جاتی تھی اور وہ اس میں شرکت کرتے تھے۔ ان کی رحلت سے اردو زبان و ادب کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ ان کی تحریریں پڑھنے اور ان سے روشنی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔


پروفیسر احمد محفوظ استاد شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شمس الرحمٰن فاروقی صاحب سے اپنے دیرینہ تعلقات اور ان کی شخصیت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ ان کی علالت کے زمانے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس وقت بھی وہ پڑھنے لکھنے میں مصروف رہتے تھے۔ آخری وقت تک وہ ذہنی و فکری اعتبار سے بالکل چاق و چوبند رہے۔ نہ جانے کتنے لوگوں پر ان کے احسانات ہیں لیکن وہ کبھی انھیں ظاہرنہیں کرتے تھے۔ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ پروفیسر محفوظ نے بتایا کہ وہ جب اسپتال سے ڈسچارج ہو کر اپنی بیٹی باراں فاروقی کے گھر آئے تو میں ان سے ملنے گیا۔ میں نے ان سے بتایا کہ آپ کے لیے ہندوستان اور اس سے باہر بہت سارے لوگ دعائیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ”مگر سننے والا تو ایک ہی ہے۔“

پروفیسر فاروق بخشی استاد شعبہ اردو، مانو نے کہا کہ ایک عالِم کی موت ایک عالَم کی موت ہوتی ہے۔فاروقی صاحب کی شخصیت اتنی بڑی تھی کہ اس پر جتنی بھی بات ہو کم ہے۔ پروفیسر بخشی نے فاروقی صاحب سے متعلق اپنی بہت ساری ذاتی یادیں بھی ساجھا کیں۔ ڈاکٹر سید محمود کاظمی نے کہا کہ سر سید تحریک اور ترقی پسند تحریک کے بعد لوگوں نے کلاسیکی ادب کی طرف توجہ کم ہوگئی تھی۔ فاروقی صاحب نے دوبارہ اس کی طرف راغب کیا۔ ڈاکٹر عقیل ہاشمی نے فاروقی صاحب کی وفات پر قطعہ تاریخ ’شمس الرحمان فاروقی کشف کمالات‘ کہا۔ ڈاکٹر رحیل صدیقی اسسٹنٹ ریجنل ڈائرکٹر، مانو نے مرحوم سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر ابو شہیم خاں استاد شعبہ اردو، مانو نے کہا کہ فاروقی صاحب نے کلاسیکی سرمائے اور کلاسیکی روایات کے حوالے سے احساس تفاخر پیدا کیا اور کلاسیکی ادب کی تحسین و تفہیم کا طریقہ سکھایا۔


ڈاکٹر ریشماں پروین استاد کھن کھن جی کالج، لکھنئو نے کہا کہ فاروقی صاحب ایک بڑے عالم کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھے انسان بھی تھے۔ ان کی کتابوں کے مطالعے سے ان کے علمی مرتبے کا اندازہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جاوید رحمانی استاد، آسام یونیورسٹی، سلچر نے کہا کہ فاروقی صاحب کا ادب سے گہرا کمٹمنٹ تھا۔ وہ پوری زندگی پڑھنے لکھنے میں مصروف رہے۔ وہ آخری عمر میں بھی روزانہ دس بارہ گھنٹے مطالعہ میں صرف کرتے تھے۔ پونے کی معروف سماجی کارکن ڈاکٹر ممتاز منور پیر بھائی نے بھی فاروقی صاحب کی علمی اور ادبی خدمات اور نئی نسل کی حوصلہ افزائی سے متعلق اظہار خیال کیا۔

ابتدا میں پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر فیروز عالم، استاد شعبہ اردو، مانو نے شمس الرحمٰن فاروقی کا مختصر تعارف پیش کیا اور آخر میں بازگشت آن لائن ادبی فورم کی جانب سے ایک تعزیتی قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ ”ممتاز نقاد، محقق، شاعر، ناول نویس اور دانشور شمس الرحمن فاروقی مرحوم کا شمار ان عظیم شخصیات میں ہوتا ہے جو دائمی اور ابدی حیثیت اختیار کرگئی ہیں۔ ان کی وفات سے اردو شعر و ادب کے ایک زریں عہد کا خاتمہ ہو گیا۔


تین درجن سے زائد کتابوں کے مصنف شمس الرحمن فاروقی نے اپنی تحریروں سے کئی نسلوں کی ذہنی تربیت کی تھی۔ وہ نہ صرف ایک رجحان کے بانی اور نظریہ ساز ادیب تھے بلکہ ادب کی مختلف اصناف میں انھوں نے اپنی تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ جہاں ”شعر شور انگیز“ اور ”تفہیم غالب“ اردو شاعری کی تفہیم کی نئی جہات سے ہمیں روشناس کراتی ہیں وہیں ”کئی چاند تھے سر آسماں“ جیسا شاہکار ناول فکشن کو نئی اونچائیوں پر پہنچا دیتا ہے۔ انہیں پدم شری، سرسوتی سمان، ساہتیہ اکاڈیمی ایوارڈ اور امتیاز پاکستان جیسے با وقار اعزازات سے سرفراز کیا گیا لیکن وہ اس سے کہیں بڑے ایوارڈ کے مستحق تھے۔ شمس الرحمن فاروقی کی ادبی شخصیت کی انفرادیت یہ بھی تھی کہ انھوں نے اردو شعروادب کی عمر بھر بے لوث خدمت کی اور اپنی ادبی سر گرمیوں کو کبھی بھی سیاست سے آلودہ ہونے نہیں دیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ انھیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔“ اس موقعے پر ایک اور ادیب جناب حسن چشتی کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی جن کا جمعہ کو شکاگو میں انتقال ہوگیا تھا۔

انتظامیہ کمیٹی کی رکن ڈاکٹر حمیرہ سعیدپرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن، سنگا ریڈی نے پروگرام کی بہترین نظامت کی اور ڈاکٹر گل رعنا استاد شعبہ اردو، تلنگانہ یونیورسٹی، نظام آباد نے پروگرام کے آخر میں اظہارِ تشکر کیا۔ اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں پروفیسر صدیقی محمد محمود رجسٹرار، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، پروفیسراشتیاق احمد، جے این یو، پروفیسرغلام شبیر رانا(جھنگ) عذرا نقوی، ڈاکٹر نوشاد عالم (دہلی) ملکیت سنگھ مچھانا (بٹھنڈہ، پنجاب) ڈاکٹر ہادی سرمدی (داؤد نگر، بہار)، غوث ارسلان، ڈاکٹر سعید نواز، فرح تزئین (ریاض،سعودی عرب) ڈاکٹر جاوید رحمانی (سلچر، آسام) ڈاکٹر ریشماں پروین (لکھنئو) ڈاکٹر عبدالرب (مرادآباد) مہ جبیں شیخ، عظمیٰ تسنیم، عظمت انور دلال (پونے) صائمہ بیگ، ڈاکٹر احمد خاں، افشاں جبیں فرشوری، منور علی مختصر، امتیاز فاطمہ، قدیر پرویز، ڈاکٹرحنا کوثر (حیدرآباد) ڈاکٹر کوثر پروین، جناب اقبال احمد(گلبرگہ) وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔