سردار سلیم حیدرآبادی۔ ایک ہمہ جہت تخلیق کار... جمال عباس فہمی

ادب ہی سردار سلیم کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ وہ قلم کے دھنی ہیں۔ مختلف طریقوں سے ادب کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ کئی ادبی تنظموں اور انجمنوں سے وابستہ ہیں۔

سردار سلیم حیدرآبادی، تصویر جمال عباس
سردار سلیم حیدرآبادی، تصویر جمال عباس
user

جمال عباس فہمی

حیدرآباد دکن کو اردو زبان کی آبیاری کرنے کا شرف حاصل رہا ہے۔ حیدرآباد دکن نے اردو کو پہلا صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ کی صورت میں دیا۔ امجد حیدرآبادی جیسا رباعی گو اردو ادب کے دامن کو سونپا۔ جسے حکیم الشعرا کا لقب عطا ہوا۔ حیدر آباد نے اردو شاعری کو بڑے بڑے گہرہائے نایاب دیئے ہیں جن کے ناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ علی منظور حیدرآبادی، قمر جمیل،علی احمد جلیلی، شاذ تمکنت، اطیب اعجاز، فیض الحسن خیال، مخدوم محی الدین، فروغ حیدرآبادی، فاطمہ تاج، علی الدین نوید، بیدل حیدرآبادی، فاروق شکیل، جیسے بے شمار نام ہیں جو اردو شاعری کی آبرو سمجھے جاتے ہیں۔

حیدرآباد نے مدحیہ اور رثائی شاعری کے دامن کو بھی محروم نہیں رکھا۔ باقر امانت خانی، علامہ اختر زیدی سعید شہیدی، باقر محسن، رشید شہیدی، میر محمد علی وفا، علی عنایت اور آغا سروش جیسے درجنوں شعرا رثائی اور مدحیہ ادب کے آسمان پر جگمگا رہے ہیں۔ لیکن آج ہم حیدرآباد کے ایک ایسے قلمکار کا تفصیل سے ذکر کرنے جا رہے ہیں جو غزل کے ساتھ نعت و منقبت میں بھی اپنی طبیعت کی جولانیاں دکھا رہا ہے، بلکہ ناول نگاری، افسانہ نگاری کالم نگاری اور تنقید و تحقیق کے میدان میں بھی اپنی تحریر کا لوہا منوا رہا ہے۔


20 ستمبر 1973 میں حیدر آباد میں پیدا ہونے والے سردار سلیم حیدر آباد کے قلمکاروں میں اپنے ادبی قد کی وجہ سے نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔ وہ بنیادی اور فطری طور پر ایک حساس اور زود گو شاعر ہییں۔ انہیں تاریخ گوئی کے فن میں بھی مہارت حاصل ہے۔ فن تاریخ گوئی اب معدوم ہوتا جا رہا ہے لیکن حیدرآباد میں باقر محسن اور سردار سلیم جیسے کچھ شعرا اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ سردار سلیم ان معنوں میں بھی منفرد حیثیت کے حامل ہیں کہ وہ ادبی ورکشاپس کے ذریعے نئی نسلوں کو اردو شعر و ادب سے جوڑنے کی کامیاب کوششیں کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ادبی تنظیم "ادب گاہ" کے زیر اہتمام نو آموز شعراء کے لئے درس شاعری کے عنوان سے کلاسیس چلاتے ہیں۔ نو آموز شعرا کی اصلاح کے شعبے کو توسیع کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔

ادب اطفال کے حوالے سے بھی سردار سلیم کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ وہ پندرہ سال سے زیادہ عرصہ تک حیدرآباد کے اخبار روزنامہ اعتماد کے ہفت وار سپلیمنٹ "پھلواری" کے مدیر رہے، بچوں کا یہ صفحہ قارئین میں اتنا مقبول ہوا کہ اخبار نے ہفتے میں دو دن بچوں کا صفحہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا اور ہر اتوار کو ایک صفحہ "بچپن" کے عنوان سے بھی اعتماد میں شائع کیا جاتا رہا، جمعرات کو "پھلواری" اور اتوار کو "بچپن" یہ دونوں ضمیمہ بڑے شوق سے پڑھے جاتے تھے، اس کے علاوہ ادبی صفحہ "اوراق ادب" کی ادارت کے فرائض بھی سردار سلیم کے ذمے تھے۔ لیکن کورونا کی وجہ سے اخبار کو یہ سپلیمنٹس بند کرنا پڑے۔ اس وقت سردار سلیم تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈمی کی جانب سے شائع ہونے والے بچوں کے رسالہ 'روشن ستارے' کی ادارت کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔


سردار سلیم کی شعری اور ادبی خدمات کے اعتراف میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے انہیں 2016 میں "ساہتیہ کلا پورسکار" سے نوازا گیا۔ سردار سلیم کو فروغ نعت ایوارڈ، صاحب زادہ میر کلیم صدیقی ایوارڈ، حضرت شاہ طاہر ایوارڈ اور علم بردار اردو ایوارڈ سے بھی نوازہ جا چکا ہے، سردار سلیم کی 9 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 6 شعری مجموعے اور 3 نثری کتابیں ہیں اور مزید کتابیں زیر ترتیب ہیں۔ 'راگ بدن'، شعری مجموعہ، 'دھیان کی رحل'، 'شکنتلا' ناول،'رات رانی' شعری مجموعہ، 'پلکوں سے چن کر' شعری مجموعہ، 'خواب نگر' شعری مجموعہ، 'چنانچے'۔ مختصر کہانیوں کا مجموعہ اور'دھوپ نکلنے والی ہے' شعری مجموعہ منظر عام پر آکر با ذوق افراد کی داد و تحسین وصول کرچکے ہیں۔ سردار سلیم کے لئے یہ بھی منفرد اعزاز ہے کہ ان کی تقریباً ہر کتاب کو کسی نہ کسی اعزاز سے نوازہ جا چکا ہے۔۔ ان کے کلام کے محاسن پر نظر ڈالنے سے پہلے ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سردار سلیم کی شعری اور دیگر قلمی صلاحیتوں کے اعتراف میں مستند تنقید نگار اور ادبی شخصیات کی رائے کیا ہے۔

شمس الرحمان فاروقی کہتے ہیں: ’سردار سلیم کا مجموعہ 'رات رانی' میں نے دلچسپی سے پڑھا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ پہلے سے بہتر شعر کہہ رہے ہیں۔ آپ کے یہاں اظہار پر ایک اعتماد اور نئے لفظوں اور نئے خیالات کو برتنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ جو اکثر کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔' پروفیسر محمد حسن کے مطابق 'آپ نے سوز زیست کے وسیلے سے غزل کی انفرادیت کو زندہ رکھا ہے۔' علامہ شارق جمال ناگپوری کے خیال میں 'سردار سلیم کی شاعری پڑھتے وقت ایسا لگتا ہے کہ پانی کی ایک چنچل مستانی لہر ہے جو ناز معشوقانہ کے ساتھ ڈھلان کی طرف چلی جا رہی ہے۔'


پروفیسر بیگ احساس فرماتے ہیں 'سردار سلیم کی شاعری پڑھتے ہوئے تازہ ہوا کے جھونکے کا احساس ہوتا ہے۔ سردار سلیم نے غزل اور نظم دونوں میں طبع آزمائی کی ہے سردار سلیم نئی لفظیات کے ساتھ ساتھ کلاسیکی لفظوں کو تخلیقی سطح پر برتا ہے۔ انہوں نے اسلوب پر خاص توجہ دی ہے۔ 'جلال الدین اکبرکہتے ہیں 'سردار سلیم کی نظر بہت تیز ہے اور دل بہت حساس ہے ان کی تنقید کھلی ڈھلی ہوتی ہے اور شاعری بالکل اچھوتی۔ الفاظ، علامتوں اور استعارات سے کام لینے کا زبردست ملکہ انہیں حاصل ہے۔ نئی زمینیں نئی لفظیات اور نئے مضامین سے مزین ان کی شاعری حسی پیکر تراشی کی بولتی تصویر ہے۔ ان کے اشعار سیدھے دل میں اتر جاتے ہیں۔

'ڈاکٹر قطب سرشارکی نظر میں 'سردار سلیم کی شاعری تخلیقی زر خیزی سے معمور ہے جو انہیں ہم عصروں میں ممیز اور منفرد کرتی ہے۔ تشبیہات، استعارے علامات شعری پیکر کی اچھوتی فضا محاوروں اور روز مرہ کے تخلیقی استعمال کے با وصف سردار سلیم کی شاعری اور نثر دونوں میں اثر آفرینی اور توانائی ایک جوہر کا درجہ رکھتی ہے۔ حق آگہی اور شدید حسیت سردار سلیم کی فطرت کا بنیادی وصف ہے۔اس لئے اظہار کے مرحلے میں انہیں ظرف سخن کم مایہ لگتا ہے۔'


سردار سلیم کی نعت گوئی کا ذکر نا کیا جائے تو ان کی شاعری ادھوری سی لگتی ہے اور اگر ان کی نعت کے اس مطلع کا ذکر نا کیا جائے تو ان کی نعت گوئی ادھوری لگتی ہے۔

نور کے خط و خال لکھتا ہوں

میم حا میم دال لکھتا ہوں

بانوے بانوے کروڑوں بار

ہندسوں کا جمال لکھتا ہوں

جو خوشی آپ کو قبول نہیں

اس خوشی کو ملال لکھتا ہوں

فخر تنہا نہیں غلامی کا

مع اہل و عیال لکھتا ہوں

یا نبی خامہ عقیدت سے

ہجر کا حال چال لکھتا ہوں

وہ جواباً نصیب لکھتے ہیں

میں سوالی سوال لکھتا ہوں

کیا لکھوں میں خدا کے ہوتے سلیم

کر کے تھوڑی مجال لکھتا ہوں

سردار سلیم کی یہ نعت پوری دنیا میں شہرت اور مقبولیت کی بلندیاں چھو چکی ہے۔ ان کی اس نعت کو دنیا کے مختلف گلوکاروں نے اپنی آواز میں پیش کرکے سرکار دو عالم کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ نعت کی طرح سردار سلیم منقبت بھی خوب کہتے ہیں۔ وہ بہت دل نشیں مگر سادہ انداز میں امام حسینؑ کی مدح و ثنا کرتے نظر آتے ہیں۔

جب بھی میں صبر ورضا پرکوئی مضمون لکھوں

حا لکھوں، سین لکھوں، یا لکھوں، پھر نون لکھوں

اے حسین آپ کے بارے میں کوئی پوچھے اگر

سر لکھوں، سجدہ لکھوں، پیاس لکھوں، خون لکھوں

ذکر شبیر سے ہر لفظ چمک اٹھتا ہے

میں کوئی شعر کہوں یا کوئی مضمون لکھوں

۔۔۔۔۔۔۔۔

ہرہ کے نور عین کی مجھکو تلاش ہے

قلب علی کے چین کی مجھکو تلاش ہے

اشک رواں کی طرح بھٹکتا ہوں یم بہ یم

پانی ہوں میں حسین کی مجھ کو تلاش ہے


سردار سلیم کا کلام سہل ممتنع کا نمونہ ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکیت بھی ہے اور جدت بھی۔ بطور نمونہ ان کے یہ غزلیہ اشعار ملاحظہ کیجئے۔

پاؤں رکھا تو گمشدہ تھی زمیں

آنکھ اٹھائی تو آسماں غائب

سوچ کر سچ بیان کر بھائی

ہو نہ جائے تری زباں غائب

.........

کہاں جاؤں بتا اے عشق مجھ کو

ترا صحرا مری وحشت سے کم ہے

جب آنکھیں ڈؑبڈبائیں تو یہ جانا

سمندر بوند کی وسعت سے کم ہے

.........

یہ ہتھیلی ہے وہ خوددار ہتھیلی صاحب

جس کو زردار کی خیرات نہیں چھو سکتی

.........

چھوٹا سا ایک جگنو جو آگے نکل گیا

خورشید و ماہتاب کے سینے پہ سل گیا

.........

چھوٹا جو ساتھ ایک ریا کار دوست کا

ایسا لگا کہ جوتے سے کنکر نکل گیا

.........

تراشنے کے لئے دے رہا ہوں دو ہفتے

یہ پورا چاند ہے اس کو ہلال ہونے دے

.........

بنے گا بیج سے اک روز تو درخت ضرور

سلیم خود کو ذرا پائمال ہونے دے

.........

وقت نے کھینچ دیں ماتھے پہ لکیریں ایسی

آئینہ دیکھ کے حیران ہے صورت میری

.........

اپنی حد سے مجھے آگے نہیں بڑھنے دیتی

ہے مرے پاؤں کی زنجیر شرافت میری

.........

انتظار آخری منزل پہ پہنچ جاتا ہے

بند ہو جاتا ہے دل آنکھ کھلی رہتی ہے

.........

میری بھی آنکھ میں کبھی بینائی تھی سلیم

نظارگی کے شوق نے اندھا کیا مجھے

.........

سارے موسم ہیں تمھارے تمہیں کس بات کا غم

بھیگی آنکھوں سے ہنسو۔ دھوپ میں برسات کرو

.........

داستانیں ہی بیاں کرتے رہو گے کب تک

اک دو سچائیاں بھی شامل نغمات کرو

ادب ہی سردار سلیم کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ وہ قلم کے دھنی ہیں۔ مختلف طریقوں سے ادب کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ کئی ادبی تنظموں اور انجمنوں سے وابستہ ہیں۔ تنظیم ادب، ادب گاہ، ذاویہ قادریہ ٹرسٹ اور بزم کوکب کے صدر ہیں۔ ادب کے شائقین کو ان کی مزید قلمی کاوشوں کے منظر عام پر آنے کا انتظار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔