’منشی پریم چند نے ایک بیوہ کو شریک حیات بنایا اور پوری زندگی حقوق نسواں کے لیے کوشاں رہے‘

پروفیسر صغیر افراہیم ”بازگشت“ آن لائن ادبی فورم کی جانب سے منشی پریم چند کے افسانے ”بدنصیب ماں“ کی پیش کش اور تجزیے پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں صدارتی خطبے میں اظہار خیال کر رہے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: معروف فکشن نقاد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سبک دوش استاد پروفیسر صغیر افراہیم نے منشی پریم چند کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی کہانیوں میں حقوق نسواں کے لئے آواز اٹھائی اور خود بھی ایک بیوہ سے شادی کی۔ پروفیسر صغیر افراہیم ”بازگشت“ آن لائن ادبی فورم کی جانب سے منشی پریم چند کے افسانے ”بدنصیب ماں“ کی پیش کش اور تجزیے پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں صدارتی خطبے میں اظہار خیال کر رہے تھے۔

معروف فکشن نقاد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سبک دوش استاد پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا ”منشی پریم چند پوری زندگی خواتین کے حقوق کے لیے کوشاں رہے۔ ہندوستانی سماج خصوصاً ہندو معاشرہ میں خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک اور ظلم و زیادتی کے خلاف انھوں نے شد و مد کے ساتھ لکھا۔ وہ خواتین کو ان کا جائز حق دلانے کے لیے عملی طور پر بھی سرگرمِ عمل رہے۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے ایک بیوہ شیورانی دیوی سے شادی کی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ”بدنصیب ماں“ میں انھوں نے ایک بیوہ عورت کی زندگی کا درد انگیز نقشہ پیش کیا ہے۔ شوہر کی وفات کے بعد پھول متی یہ سوچ کر مطمئن رہتی ہے کہ اس کے چار فرماں بردار بیٹے اور بہوئیں اور ایک پیاری سی بیٹی ہے لیکن بہت جلد اس کی یہ خوش فہمی دور ہو جاتی ہے اور وہ اپنے گھر میں ایک غیر ضروری چیز بنا دی جاتی ہے۔ سوائے بیٹی کے اس کی خیر خبر لینے والا کوئی نہیں بچتا اور آخر کار اسے گنگا میں ڈوب کر اپنی جان گنوانی پڑتی ہے۔ جس دور میں یہ افسانہ لکھا گیا اس وقت مسلمانوں کے یہاں خواتین کو ان کا حق دیا جاتا تھا۔ آج کی طرح حالات نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ منشی پریم چند نے اپنے افسانے کے لیے ہندو کردار چنا۔“

اس موقع پر نئی نسل کی نقاد ڈاکٹر ریشماں پروین، ایسوسی ایٹ پروفیسر، کھن کھن جی گرلز ڈگری کالج، لکھنئو نے افسانے کی پیش کش نہایت پراثر انداز میں کی۔ ڈاکٹر مشرف علی، استاد شعبہ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی نے افسانے کا باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے اس افسانے کی فنی خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ آج ہمارے عہد میں بزرگوں خصوصاً خواتین کو پہلے سے زیادہ نظر انداز کیا جانے لگا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل خواتین خصوصاً بڑی عمر کی خواتین کا احترام دل وجان سے کرے اور گھر اور سماج میں انھیں ان کے حقوق دیئے جائیں۔

ڈاکٹر فیروز عالم رکن انتظامیہ کمیٹی نے انتظامات کی ذمہ داری سنبھالی جبکہ دوسری رکن ڈاکٹر گلِ رعنانے پروفیسر صغیر افراہیم اور ڈاکٹر ریشماں پروین کا تعارف پیش کیا اورنظامت کی کارروائی بہ طریق احسن چلائی۔ مجلس منتظمہ کی تیسری رکن ڈاکٹرحمیرہ سعید نے ڈاکٹر مشرف علی کا تعارف کرایا اور پروگرام کے آخر میں اظہارِ تشکر کیا۔ اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

next