غیر ملکی علماء نے پریم چند کو یاد کیا

اسرائیل، اٹلی، سویڈن اور جرمنی کے تقریباً 20 علماء نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ہندی لیکچرر اور مشہور دلت مصنف ڈاکٹر اجے ناوریا کے ساتھ ایک بین الاقوامی ویبنار میں پریم چند کے ادب پر تبادلہ خیال کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کوروناعالمی وبا کے وقت غیر ملکی علماء نے لاک ڈاؤن کے دوران ویبنار کے ذریعے ہندی کے معروف مصنف منشی پریم چند کو یاد کیا اور ان ادب میں دلت شعور پر تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیل، اٹلی، سویڈن اور جرمنی کے تقریباً 20 علماء نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ہندی لیکچرر اور مشہور دلت مصنف ڈاکٹر اجے ناوریا کے ساتھ ایک بین الاقوامی ویبنار میں پریم چند کے ادب پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کا انعقاد اسرائیل کی عبرانی یونیورسٹی کے ایشیائی مطالعہ کے محکمہ کی پروفیسر مرینا ریمشا نے کیا تھا۔ اس یونیورسٹی میں ڈاکٹر اجے ناوریا کی مشہور کہانی ’ہیلو مسٹر‘ پریم چند پڑھائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ناوریا نے پریم چند کی تخلیقات کے کرداروں کی بنیاد پر یہ کہانی لکھی ہے۔ ڈاکٹر ناوریا کی کئی کہانیاں امریکہ، ہنگری، اٹلی اور جرمنی کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر ناوریا نے یواین آئی کو بتایا کہ عبرانی یونیورسٹی نے کل ’ہندی کہانی پرمپرا اور سمیتا ویمرش‘ پر ان کا لیکچر زوم کے ذریعہ منعقد کیا جس میں انہوں نے پریم چند کے گودان، رنگ بھومی اور غبن کے علاوہ ان کی مشہور کہانیوں پر بحث کی جس میں تقریباً 21 دانشوروں نے ویبنار میں حصہ لیا اور 10 علماء کرام نے مجھ سے پریم چند کے ادب میں دلت شعور کے بارے میں بھی سوال پوچھے۔

ڈاکٹر ناوریا نے کہا کہ ہندوستان کا دلت ادب پریم چند سے انکار نہیں کر سکتا کیونکہ پریم چند نے اپنی تخلیقات میں معاشرے کے نظرانداز طبقے کی فکر کی ہے اور انہوں نے دلتوں کو بھی اپنا کردار بنایا۔ ان تحریر کردہ ٹھاکر کا کنواں، گھاس والی، دودھ کی قیمت، سوا سیر گیہوں جیسی تخلیقات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا جن میں دلت سماج کا دکھ کا اظہار ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک پریم چند اور دلت ادب کو جاننے کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ دلت ادب پر تحقیق اور ترجمہ پر کام ہو رہا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک یہ غیر ملکی دانشور ان کی باتیں سنتے رہے اور سوال پوچھتے رہے۔