معروف ادیب اور فن کار کپیلا واتسیاین نہیں رہیں

ہندی کے کئی مصنفین نے کپیلا واتسیاین کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کی مشہور فن کار اور ادیب کے نہ رہنے سے شعبہ فن کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: پدم ویبھوشن سے نوازی جاچکیں ملک کی معروف فن کار اور راجیہ سبھا کی نامزد رکن کپیلا واتسیاین کا بدھ کو یہاں انتقال ہوگیا۔ وہ 91 برس کی تھی۔ واتسیاین کے انتقال سے شعبہ فن میں سوگ کی لہر ہے۔ وہ ہندی کے مشہور مصنف سچید آنند ہیرا آنند واتسیاین اگئے کی اہلیہ تھیں اور تنہا زندگی گزار رہی تھیں۔

25 دسمبر 1928 کو دہلی میں پیدا ہونے والی کپیلا واتسیاین، موسیقی، رقص اور فن کی ادیب تھیں۔ انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی اور امریکہ کے مشی گن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ کپیلا جی، جو سنگیت ناٹک اکیڈمی کی فیلو رہ چکیں تھیں، ممتاز ڈانسر شمبھو مہاراج اور مشہور مورخ واسودیو شرن اگروال کی شاگرد بھی تھیں۔

وہ راجیہ سبھا کے لئے 2006 میں نامزد رکن مقرر کی گئی تھیں اور فائدہ کے عہدے کے تنازع کی وجہ سے انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ راجیہ سبھا کی رکن نامزد کی گئیں۔ واتسیاین نیشنل اندرا گاندھی آرٹ سینٹر کی بانی سکریٹری تھیں اور انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی لائف ٹائم ٹرسٹی بھی تھیں۔ انہوں نے ہندوستانی ناٹیاشاسترا اور ہندوستانی روایتی فن پر سنجیدہ اور علمی کتابیں لکھیں۔ وہ ملک میں ہندوستانی فن کی سرکاری اسکالر کے طور پر سمجھی جاتی تھیں۔

واتسیاین ہندی کی مشہور مصنفہ ستیہ وتی ملک کی بیٹی تھیں اور ان کے بھائی کیشیو ملک ایک مشہور انگریزی شاعر اور فن نقاد تھے۔ انہون نے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ تعلیم میں سکریٹری کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی شادی سچدآنند ہیرآنند واتسیاین سے ہوئی تھی لیکن چند برسوں کے بعد ان سے طلاق ہوگئی اور اس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتی رہیں۔ ہندی کے کئی مصنفین نے ان کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کی مشہور فن کار اور ادیب کے نہ رہنے سے شعبہ فن کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔

next