یومِ اُردو کے موقع پر پیش ہے علی سردار جعفری، گلزار اور اقبال اشہر کی لافانی نظمیں

یوں تو ’اردو‘ پر مبنی بے شمار نظمیں لکھی گئی ہیں، لیکن ’قومی آواز‘ کے قارئین کے لیے ہم پیش کر رہے ہیں علی سردار جعفری کی نظم ’اُردو‘، گلزار کی نظم ’اُردو زباں‘، اور اقبال اشہر کی نظم ’اُردو‘۔

قومی آواز گرفکس
قومی آواز گرفکس
user

تنویر

آج 9 نومبر ہے، علامہ اقبال کا یوم پیدائش اور یومِ اُردو بھی۔ اردو کی شان، لازوال تاریخ اور قدر و منزلت کسی سے پوشیدہ نہیں اور کئی معروف و مقبول شعراء نے اس تعلق سے نظمیں و غزلیں کہی ہیں جس میں اس زبان کی اہمیت بھی ظاہر کی گئی ہے اور اس زبان میں موجود سحر انگیزی کا بھی بیان ہے۔ یوں تو ’اردو‘ پر مبنی بے شمار نظمیں لکھی گئی ہیں، لیکن ’قومی آواز‘ کے قارئین کے لیے ہم پیش کر رہے ہیں تین اہم نظمیں جو تین اعلیٰ مرتبت شعراء کے ذریعہ تحریر کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے علی سردار جعفری کی نظم بعنوان ’اُردو‘ پیش کیا جائے گا، پھر گلزار کی نظم ’اردو زباں‘، اور پھر اقبال اشہر کی نظم ’اُردو‘۔ پڑھیں اور محظوظ ہوں...

اُردو (علی سردار جعفری):

ہماری پیاری زبان اردو

ہماری نغموں کی جان اردو

حسین دل کش جوان اردو

زبان وہ دھل کے جس کو گنگا کے جل سے پاکیزگی ملی ہے

اودھ کی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے جس کے دل کی کلی کھلی ہے

جو شعر و نغمہ کے خلد زاروں میں آج کوئل سی کوکتی ہے

اسی زباں میں ہمارے بچپن نے ماؤں سے لوریاں سنی ہیں

جوان ہو کر اسی زباں میں کہانیاں عشق نے کہی ہیں

اسی زباں کو چمکتے ہیروں سے علم کی جھولیاں بھری ہیں

اسی زباں سے وطن کے ہونٹوں نے نعرۂ انقلاب پایا

اسی سے انگریز حکمرانوں نے خود سری کا جواب پایا

اسی سے میری جواں تمنا نے شاعری کا رباب پایا

یہ اپنے نغمات پر اثر سے دلوں کو بیدار کر چکی ہے

یہ اپنے نعروں کی فوج سے دشمنوں پہ یلغار کر چکی ہے

ستم گروں کی ستم گری پر ہزارہا وار کر چکی ہے

کوئی بتاؤ وہ کون سا موڑ ہے جہاں ہم جھجک گئے ہیں

وہ کون سی رزم گاہ ہے جس میں اہل اردو دبک گئے ہیں

وہ ہم نہیں ہیں جو بڑھ کے میداں میں آئے ہوں اور ٹھٹھک گئے ہیں

یہ وہ زباں ہے کہ جس نے زنداں کی تیرگی میں دئیے جلائے

یہ وہ زباں ہے کہ جس کے شعلوں سے جل گئے پھانسیوں کے سائے

فراز دار و رسن سے بھی ہم نے سرفروشی کے گیت گائے

کہا ہے کس نے ہم اپنے پیارے وطن میں بھی بے وطن رہیں گے

زبان چھن جائے گی ہمارے دہن سے ہم بے سخن رہیں گے

ہم آج بھی کل کی طرح دل کے ستار پر نغمہ زن رہیں گے

یہ کیسی باد بہار ہے جس میں شاخ اردو نہ پھل سکے گی

وہ کیسا روئے نگار ہوگا نہ زلف جس پر مچل سکے گی

ہمیں وہ آزادی چاہیئے جس میں دل کی مینا ابل سکے گی

ہمیں یہ حق ہے ہم اپنی خاک وطن میں اپنا چمن سجائیں

ہماری ہے شاخ گل تو پھر کیوں نہ اس پہ ہم آشیاں بنائیں

ہم اپنے انداز اور اپنی زباں میں اپنے گیت گائیں

کہاں ہو متوالو آؤ بزم وطن میں ہے امتحاں ہمارا

زبان کی زندگی سے وابستہ آج سود و زیاں ہمارا

ہماری اردو رہے گی باقی اگر ہے ہندوستاں ہمارا

چلے ہیں گنگ و جمن کی وادی میں ہم ہوائے بہار بن کر

ہمالیہ سے اتر رہے ہیں ترانۂ آبشار بن کر

رواں ہیں ہندوستاں کی رگ رگ میں خون کی سرخ دھار بن کر

ہماری پیاری زبان اردو

ہماری نغموں کی جان اردو

حسین، دل کش جوان اردو

--

اُردو زباں (گلزار):

یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا،

مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پر

کہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہے

یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا...

نشہ آتا ہے اردو بولنے میں

گلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیں

لطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہے

بڑی ارسٹوکریسی ہے زباں میں

فقیری میں نوابی کا مزا دیتی ہے اردو

اگرچہ معنی کم ہوتے ہے اردو میں

الفاظ کی افراط ہوتی ہے

مگر پھر بھی، بلند آواز پڑھیے تو بہت ہی معتبر لگتی ہیں باتیں

کہیں کچھ دور سے کانوں میں پڑتی ہے اگر اردو

تو لگتا ہے کہ دن جاڑوں کے ہیں کھڑکی کھلی ہے، دھوپ اندر آ رہی ہے

عجب ہے یہ زباں، اردو

کبھی کہیں سفر کرتے اگر کوئی مسافر شعر پڑھ دے میرؔ، غالبؔ کا

وہ چاہے اجنبی ہو، یہی لگتا ہے وہ میرے وطن کا ہے

بڑی شائستہ لہجے میں کسی سے اردو سن کر

کیا نہیں لگتا کہ ایک تہذیب کی آواز ہے، اردو

--

اُردو (اقبال اشہر):

اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

میں میرؔ کی ہم راز ہوں غالبؔ کی سہیلی

دکن کے ولیؔ نے مجھے گودی میں کھلایا

سوداؔ کے قصیدوں نے مرا حسن بڑھایا

ہے میرؔ کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا

میں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی

اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

غالبؔ نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا

حالیؔ نے مروت کا سبق یاد دلایا

اقبالؔ نے آئینۂ حق مجھ کو دکھایا

مومنؔ نے سجائی مرے خوابوں کی حویلی

اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

ہے ذوقؔ کی عظمت کہ دیے مجھ کو سہارے

چکبستؔ کی الفت نے مرے خواب سنوارے

فانیؔ نے سجائے مری پلکوں پہ ستارے

اکبرؔ نے رچائی مری بے رنگ ہتھیلی

اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ

میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا

دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ

اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی

اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

پسندیدہ ترین
next