جشن ریختہ 2019: ’ہنگامہ ہے کیوں برپا...‘

’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران سنجیو سراف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’سوشل میڈیا پر ہم کسی کے الزام کا جواب نہیں دینا چاہتے۔ ہمارا کام خود کہتا اور بولتا ہے۔ کام سے ہی آدمی کی پہچان ہوتی ہے۔‘‘

29 نومبر کو جشن ریختہ کے ٹوئٹر ہینڈل سے کیا گیا پوسٹ (دائیں) اور 2 دسمبر کو کیا گیا پوسٹ (بائیں)
29 نومبر کو جشن ریختہ کے ٹوئٹر ہینڈل سے کیا گیا پوسٹ (دائیں) اور 2 دسمبر کو کیا گیا پوسٹ (بائیں)
user

تنویر احمد

  • اگر ریختہ نے ’جشن ریختہ‘ کے تناظر میں ’اردو‘ کی بجائے ’ہندوستانی زبان‘ استعمال کرنے کا فیصلہ سنجیدگی سے لیا ہے تو قابل مذمت ہے۔ یہ نہ صرف ایک زبان کے اثاثے کو ہائی جیک کر کے دوسرے لیبل کے ساتھ اس کی مارکیٹنگ کرنے کا سنگین جرم ہے، بلکہ حقیقت کو مینوپلیٹ کر کے پیش کرنے اور اہلِ زبان کے ساتھ دھوکہ دہی کی بھی مذموم کوشش ہے۔
  • تین چار سال قبل جس اندیشے کا اظہار بعض لوگوں کی جانب سے آیا تھا، اب وہ سچ ثابت ہو رہا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اب بھی لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس کو مثبت طور پر لیا جائے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
  • جشن ریختہ کا مکمل طور پر بائیکاٹ۔ اردو کے تمام طالب علموں، ادیبوں، استادوں اور دانشوروں سے گزارش ہے کہ اگر وہ اردو کے سچے خادم ہیں تو اس بار ریختہ کا بائیکاٹ کریں جو ان کا حق بھی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس طرح کے تبصروں کا ایک سیلاب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اردو کی خدمت کا دم بھرنے والے اور اردو داں طبقہ کے ساتھ ساتھ انگریزی و ہندی داں طبقہ کی بھی بے پناہ محبت حاصل کرنے والی ریختہ کی ٹیم سے لوگوں کی ناراضگی یوں ہی نہیں ہے۔ دراصل ’جشن ریختہ 2019‘ کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور اس کا انعقاد 13 سے 15 دسمبر تک دہلی کے میجر دھیان چندنیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والا ہے۔ لیکن ’جشن ریختہ‘ کے ٹوئٹر ہینڈل سے 29 نومبر کو ایک پوسٹ کیا گیا جس میں لکھا گیا تھا ’دی بگیسٹ سیلیبریشن آف ہندوستانی لینگویج اینڈ کلچر‘ یعنی ’ہندوستانی زبان اور کلچر کا عظیم الشان جشن‘۔ لوگوں کی ناراضگی اس بات کو لے کر ہے کہ ریختہ نے ہر سال منائے جانے والے اپنے جشن کو ’سلیبریٹنگ اُردو‘ یعنی ’جشن اردو‘ لکھا، اور اچانک اب ’اردو‘ کی جگہ ’ہندوستانی‘ لکھ دیا گیا۔ ریختہ کے پوسٹ سے برہم لوگوں کا الزام ہے کہ اس طرح اردو کو مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور ساہتیہ اکادمی کے سابق پروگرام آفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران ریختہ کی ٹیم کے ذریعہ اس طرح کی پوسٹ پر حیرانی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ریختہ نے اردو کے کارواں کو آگے بڑھانے اور اس کی آبیاری میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ دنوں میں چیزیں بدلتی ہوئی معلوم ہو رہی ہیں جس سے شک و شبہات کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ کچھ ایسے لوگ ریختہ کی ٹیم میں ہیں جن کے غلط مشورے پر ’اُردو‘ کی جگہ ’ہندوستانی‘ لکھ دیا گیا ہوگا۔‘‘ مشتاق صدف کا کہنا ہے کہ ’’متنازعہ پوسٹ کے بعد ریختہ نے کئی دیگر پوسٹ میں پھر سے ’اُردو‘ لکھا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اپنی غلطی کی اصلاح کی ہے۔ لیکن پھر بھی ریختہ کو ایک وضاحتی بیان دینا چاہیے تاکہ اردو داں طبقہ میں جو اندیشے پیدا ہو گئے ہیں، وہ دور ہو سکے۔‘‘

اس پورے معاملے میں کافی ہنگامہ برپا ہو چکا ہے، لیکن جب ریختہ کی بنیاد ڈالنے والے سنجیو سراف سے ’قومی آواز‘ نے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ پورا کا پورا ہنگامہ محض ’غلط فہمی‘ پر مبنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’جس پوسٹ پر لوگ ہنگامہ کر رہے ہیں، اس سے پہلے کے جتنے پوسٹ دیکھیں گے، اس میں اردو کا تذکرہ ہے۔ اصل نام تو ’جشن ریختہ ہے، اور اس کا مطلب اُردو ہی ہے۔ جب بینر پر جشن ریختہ لکھا ہوا ہے، اور یہ اردو رسم الخط میں بھی لکھا ہے تو پھر اردو کو مٹانے والی بات کوئی کرتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘‘

متنازعہ پوسٹ کے بارے میں سنجیو سراف نے بتایا کہ ’’پہلی بات تو یہ کہ یہ کوئی اشتہار نہیں تھا۔ جشن ریختہ کے تعلق سے وقتاً فوقتاً کچھ پوسٹس ’اِن رولڈ‘ (بھرتی کیے گئے) بچے کرتے ہیں اور ان میں سے ہی ایک پوسٹ ایسا تھا جس پر لوگوں کو غلط فہمی ہو گئی۔ یہ پوسٹ کسی خاص مقصد کے تحت نہیں کیا گیا تھا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا پورا کام ’ریختہ ڈاٹ او آر جی‘ پر اردو کا ہی کام ہے۔ شروع سے آخر تک اردو کے لیے ہم نے کام کیا ہے۔ پوری دنیا میں دو کروڑ ہمارے فالوورس ہیں۔ اردو کے لیے اتنا کام کرنے کے باوجود اگر کوئی خلاف میں باتیں کرتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ریختہ کا کام کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ’جشن ریختہ‘ کا مطلب اردو کا ہی جشن ہے۔‘‘

’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران سنجیو سراف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’سوشل میڈیا پر ہم کسی کے الزام کا جواب نہیں دینا چاہتے۔ ہمارا کام خود کہتا اور بولتا ہے۔ کام سے ہی آدمی کی پہچان ہوتی ہے۔ ہم چھ سال سے کام کر رہے ہیں اور ہمارا فوکس اب بھی کام کرنے پر ہی ہے۔‘‘

اردو کے سینئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے سوشل میڈیا پر مچی ہنگامہ آرائی پر حیرانی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’سوشل میڈیا تو بہت بے بھروسہ میڈیا ہے۔ ہر آدمی کے ہاتھ میں ایک بندوق مل گئی ہے اور وہ جیسے چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے، کہیں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا پر ہو رہی بحث میں تو پڑنا ہی نہیں چاہیے۔‘‘ ریختہ کے متنازعہ پوسٹ اور اُردو کے خلاف سازش کے الزامات پر ’قومی آواز‘ سے انھوں نے کہا کہ ’’اردو کو مٹانا آسان نہیں ہے۔ یہ بات سبھی کو سمجھ لینی چاہیے کہ کسی سوشل میڈیا پوسٹ سے ’اُردو‘ ہٹا کر کے اردو کو نہیں مٹایا جا سکتا۔ اردو کا جادو اِس وقت سر چڑھ کر بول رہا ہے، اسے کوئی فرد واحد یا کوئی ادارہ مٹا ہی نہیں سکتا۔ ٹیکنالوجی کے جس دور میں ہم پہنچ چکے ہیں، اس میں اردو کو مٹانے کی کوشش کامیاب ہو ہی نہیں سکتی۔‘‘

ریختہ کے خلاف چل رہی مہم سے مایوس ڈاکٹر ریحان غنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’اگر سنجیو سراف جی کہہ رہےہیں کہ ان کی نیت ٹھیک ہے، تو ہمیں ان پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ میری نیت پر شبہ نہیں کیجیے، میری نیت صاف ہے، ہم اردو کے ہمدرد اور بہی خواہ ہیں تو ہمیں ان کی بات ماننی چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اردو کے ہمدرد ہیں اور بڑا کام کر رہے ہیں۔ کسی اردو والے کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اتنا بڑا ویب سائٹ اور پلیٹ فارم اردو کے لیے تیار کرے۔ ہمیں ریختہ کی ٹیم پر شبہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے کام میں سپورٹ کرنا چاہیے۔‘‘

Published: 4 Dec 2019, 5:11 PM
next