علم و آگہی کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے: پروفیسر عین الحسن

پروفیسر سید عین الحسن کا کہنا ہے کہ معلم کو اگر اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو جائے تو وہ طلبہ کی مخفی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے گا۔

سید عین الحسن، تصویر آئی اے این ایس
سید عین الحسن، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

حیدر آباد: علم و آگہی کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ معلم کو اگر اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو جائے تو وہ طلبہ کی مخفی صلاحیتوں کو پر وان چڑھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار شیخ الجامعہ پروفیسر سید عین الحسن نے مرکز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذہ اردو ذریعہ تعلیم (سی پی ڈی یو ایم ٹی)، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام اکتسابی وسائل کے فروغ (Developing Learning Resources) پر5 روزہ آن لائن ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ استاد کے لیے غیر جانبدار ہونا بنیادی شرط ہے۔ اسے درس و تدریس کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے دلکش اکتسابی وسائل کا استعمال کرنا چاہیے۔ اسے اپنا محاسبہ کر تے رہنا چاہیے اور طلبہ کے خیالات کی قدر کرنی چا ہیے۔

اس موقع پر پروفیسرمحمد عبدالسمیع صدیقی، ڈائریکٹرمرکز نے آن لائن ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر اشونی، ایسو سی ایٹ پروفیسر، شعبہ تعلیم و تربیت نے افتتاحی اجلاس کی کارروائی چلائی، جبکہ ڈاکٹر محمد غفران برکاتی، اسسٹنٹ پروفیسر نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ قبل ازیں، ڈاکٹر عبدالعلیم کی تلاوت قرآن سے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا۔ پہلے تکنیکی اجلاس میں پروفیسر صدیقی محمد محمود نے ”سیکھنے کے وسائل: مقاصد، اقسام اور اہمیت“ کے عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی۔انسٹرکشنل میڈیا سنٹر، مانو کے یوٹیوب چینل پر ورکشاپ کے سیشنس کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔