مرزا غالب اکیڈمی حیدرآباد کا چوتھا ادبی اجلاس، پروفیسر مسعود جعفری کی شرکت

صدر اجلاس پروفیسر قطب سرشار نے خطبہ صدارت میں کلام غالب کی لفظیات اور شاعری میں نسائی حسیت، مبصرین کے اظہار خیال اور سخن طراز کے اوصاف کے حوالے سے نہایت وقیع تر انکشافات کیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: مرزا غالب اکیڈیمی حیدرآباد کا چوتھا ادبی اجلاس منعقد ہواجس کی شروعات پروفیسر مسعود جعفری کے مقالے ”غالب کی شاعری میں موت کی پرچھائیاں“ سے ہوئی۔ مسعود جعفری نے اپنے مقالہ میں غالب کے ان اشعار کے حوالے سے انکشاف کیا کہ غالب نے اکثر اشعار میں حرفِ موت کا استعمال ضرور کیا ہے، معنوی گرہ کشائی سے کھلتا ہے کہ وہ موت سے دہشت زدہ یا پھر یاسیت کے شکار نہیں بلکہ بے پناہ رجائیت غالب کے پیش تر میں پائی جاتی ہے۔ آلام حیات کے غلبے کے باوجود غالب میں رجائیت کی توانائی بھرپور نظر آتی ہے۔ زندگی اور معاشرہ کے جبر سے وہ مغلوب نہیں ہوئے غالب ہی رہے۔

اجلاس کے آخر میں صدر اجلاس پروفیسر قطب سرشار نے خطبہ صدارت میں کلام غالب کی لفظیات اور شاعری میں نسائی حسیت، مبصرین کے اظہار خیال اور سخن طراز کے اوصاف کے حوالے سے نہایت وقیع تر انکشافات کئے۔ پروفیسر سرشار نے کہا کہ غالب نے غم ذات اور غم حیات کو ایک تسلسل قرار دیا جس کا اختتام موت پر ہوتا ہے۔ غالب قید حیات کو وابستگی غم کے مترادف باور کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں غم، انسان کے باطن کی پیداوار نہیں ہوتا بلکہ فرد اور سماج کے مابین متوازن رشتوں کے باعث ذات پر پڑنے والا ردعمل ہی غم ذات ہے اور غم حیات بھی۔ فرد کی نفسیاتی و جذباتی تربیت اور منظم سماج سے غم ذات اور غم حیات کا تدارک ہوسکتا ہے۔

پروفیسر قطب سرشار نے آخر میں شاعرات کو ایک پیام دیا کہ بقول مغربی مفکر کے شاعر یا شاعرہ کو صاحب تخلیق، صاحب بصیرت، صاحب فکر، صاحب رشد اور صاحب عمل ہونا چاہیے، تب ہی سخن طراز کی مکمل شبیہ روشن ہوسکتی ہے۔ اجلاس کی تہذیب و ترتیب اور نظامت کے فرائض مرزا غالب اکیڈیمی کے معتمد محبوب خان اصغرؔ نے نہایت سلیس زبان اور دلچسپ پیرایے میں انجام دئیے، پھر شکریے کے ساتھ اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا۔ اجلاس میں غالب کو چاہنے والوں کی قابل لحاظ تعداد موجود تھی۔