شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام ادبی نشست و رسم رونمائی

ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو کسی لاٹھی کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ان کی خود اعتمادی،ادبی جنون اور کلام کی پختگی کو دیکھتے ہوئے ان کے تابناک مستقبل کی گواہی دی جا سکتی ہے: پرویز مانوس

تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

چار مہینوں کے مسلسل لاک ڈاؤن اورکورونا وائرس کی بندشوں میں تھوڑی بہت نرمی ملنے پر گزشتہ دنوں جزیرہ نما چار چناری، جھیل ڈل سرینگر کے خوبصورت احاطے میں”شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، جموں و کشمیر کے زیر اہتمام ادبی نشست و رسم رونمائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس ادبی پروگرام میں احتیاط برتتے ہوئے وادی کے چند معروف شاعر و ںو ادیبوں ہی کو مدعو کیا گیا تھا۔ جس میں نوجوان شعرا نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔

نشست کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ شریف سے کیا گیا جس کے فرائض بالترتیب مدثرحسین اور دانش علی لٹو نے انجام دیئے۔ اس کے بعد انجمن کے صدر غلام نبی کمار نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔ پہلے اجلاس میں پانچ کتب کی رسم ِ رونمائی عمل میں لائی گئی۔ ان کتابوں میں ’قدیم وجدید ادبیات‘ از غلام نبی کمار،’شانِ غزل‘ از ڈاکٹر حافظ کرناٹکی،’شیخ العالم :معنی سے مفہوم تک‘ از ڈاکٹر گلزار احمد وانی’فصیلِ شہر سے‘از پرویز مانوس’اردو کی زندانی شاعری ‘از شاد سجاد اور Undead Fantasy از طالب شاہین شامل ہیں۔

تصویر: بذریعہ پریس ریلیز
تصویر: بذریعہ پریس ریلیز

پروگرام کی صدارت وادی کے معروف شاعر، مترجم اور افسانہ نگار پرویز مانوس نے کی جب کہ معتبر نقادو فکشن نگار ڈاکٹر ریاض توحیدی مہمان خصوصی اورڈاکٹر گلزار احمد وانی مہمانِ ذی وقار کے بطور موجود رہے۔ اس کے بعد جن شعرا ئے کرام نے اپنا کلام پڑھا ان میں ریاض توحیدی، پرویز مانوس، شاد سجاد، میر خوشحال،غلام نبی کمار، رابعہ گیلانی، راشف اعظمی، شفیع شاداب، برکت علی، محمد یونس ڈار، طالب شاہین، شائستہ بخاری، سکینہ اختر وغیرہ قابل ذکر ہیں، جب کہ زبیر قریشی نے تین افسانچے پڑھے۔

تصویر: بذریعہ پریس ریلیز
تصویر: بذریعہ پریس ریلیز

ریاض توحیدی نے اپنی تقریر میں نوجوان شعرا و افسانہ نگاروں کی کاوشوں کو سراہا اور انھیں بہت پختہ کلام پڑھنے پر داد و تحسین سے بھی نوازا۔ گلزار احمد وانی نے کشمیری نوجوانوں کی اردو زبان و ادب کے تئیں دلچسپی اور خدمات کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل پُر جوش وپُر عزم نظر آتی ہے۔ بعد ازاں پرویز مانوس نے اپنی پُر مغزصدارتی تقریر میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اب ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو کسی لاٹھی کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی خود اعتمادی، ادبی جنون اور کلام کی پختگی کو دیکھتے ہوئے ان کے تابناک مستقبل کی گواہی دی جا سکتی ہے۔

تینوں صدور حضرات نے منتظمین غلام نبی کمار اور سکینہ اختر کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ اس ادبی نشست کی نظامت رابعہ گیلانی نے کی۔آخر پر شکریہ کی رسم غلام نبی کمار نے ادا کی۔ شرکاء میں آصف علی لٹو، شاہد صوفی، شبیر حسین لٹو، ذوالفقار احمدصوفی، مصطفی حسین صوفی وغیرہ کے نام اہم ہیں۔

next