آئی پی ایل 2020: فرگوسن نے سپر اوور میں کولکتہ کو دلائی دلچسپ جیت

میچ کا فیصلہ سپر اوور کے ذریعے کیا گیا، جہاں فرگوسن کی مہلک بولنگ سے حیدرآباد نہیں بچ سکا اور صرف دو رنز ہی بنا سکا۔ سپر اوور میں کولکتہ نے چار گیندوں پر تین رن بنا کر میچ جیت لیا۔

تصویر ٹوئٹر آئی پی ایل
تصویر ٹوئٹر آئی پی ایل
user

یو این آئی

ابوظہبی: فاسٹ بولر لوکی فرگوسن کی خطرناک گیند بازی (چار اوورز میں 15 رن پر تین وکٹ اور سپر اوور میں تین گیندوں میں دو رن دے کر دو وکٹیں) کی بدولت کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے سنرائزرس حیدرآباد کو ہرا دیا۔ کولکتہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوور میں پانچ وکٹ پر 163 رنز کا مشکل اسکور بنایا، جس کے جواب میں حیدرآباد کی ٹیم 20 اوور میں چھ وکٹوں پر 163 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد میچ کا فیصلہ ایک سپر اوور کے ذریعے کیا گیا، جہاں فرگوسن کی مہلک بولنگ سے سنرائزرس حیدرآباد نہیں بچ سکا اور صرف دو رنز ہی بنا سکا۔ سپر اوور میں کولکتہ نے چار گیندوں پر تین رن بنا کر میچ جیت لیا۔ یہ اس آئی پی ایل کا تیسرا سپر اوور تھا۔

لیگ اسپنر راشد خان حیدرآباد کے لئے سپر اوور کرنے آئے اور کولکتہ کے لئے کپتان ایون مورگن اور سابق کپتان دنیش کارتک میدان میں آئے۔ دونوں نے چار گیندوں میں تین رنز بنا کر میچ کا خاتمہ کیا۔ فرگوسن کو عمدہ بولنگ کے لئے پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ ملا۔ کولکتہ کے مشکل ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے حیدرآباد کی مضبوط شروعات ہوئی۔ ان کے اوپنرز جانی بیرسٹو اور کین ولیمسن نے پہلی وکٹ کیلئے 57 رنز کی شراکت کی۔ فرگوسن نے آئی پی ایل سیزن کا پہلا میچ کھیلتے ہوئے نتیش رانا کے ہاتھوں ولیم سن کو کیچ کراکر ان کی اننگز کا خاتمہ کیا۔ ولیم سن نے 19 گیندوں میں چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 29 رنز بنائے۔

ولیم سن کے بعد بلے بازی کرنے اترے پریم گرگ کچھ خاص نہیں کرسکے اور فرگوسن نے انہیں بولڈ کیا۔ گرگ نے سات گیندوں میں صرف چار رنز بنائے۔ اس کے بعد حیدرآباد اپنی مضبوط شروعات کا فائدہ نہیں اٹھا سکی اور ان کی تین وکٹیں صرف 12 رنز کے اسکور پر گر گئے۔ فارم میں چل رہے بیئرسٹو بھی ورون چکرورتی کی گیند پر آندرے رسل کو کیچ دے بیٹھے۔ انہوں نے 28 گیندوں میں سات چوکوں کی مدد سے 36 رنز بنائے۔ منیش پانڈے بھی اپنا جلوہ بکھیرنے میں ناکام رہے اور چھ رنز بنا کر فرگوسن کا تیسرا شکار بن گئے۔

اننگز لڑکھڑانے کے بعد کپتان وارنر نے وجے شنکر کے ساتھ مل کر اننگز کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ لیکن یہ شراکت بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی اور شنکر پیٹ کمنز کی گیند پر شبھمن گل کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ شنکر نے سات رنز بنائے۔ اس کے بعد وارنر اور عبد الصمد نے کچھ اچھے شاٹس کھیل کر کولکتہ کے بالرز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن صمد 19 ویں اوور کی آخری گیند پر اپنی وکٹ کھو بیٹھے اور میچ کارخ ایک بار پھر کولکتہ کی طرف مڑگیا۔ صمد نے 15 گیند میں 23 رنز کی اننگز میں دو چوکے اور ایک چھکا لگایا۔

حیدرآباد کو آخری اوور میں 18 رنز درکار تھے اور کولکتہ نے بولنگ آندرے رسل کے حوالے کی۔ رسل کے اوور میں وارنر نے لگاتار تین چوکے لگائے اور میچ کو حیدرآباد کی طرف موڑ دیا۔ حیدرآباد کو جیتنے کے لئے آخری گیند پر دو رنز درکار تھے لیکن وارنر ایک رن بناسکے اور میچ کا فیصلہ سپر اوور کے ذریعے کیا گیا۔

کولکتہ کے لئے فرگوسن نے چار اوورز میں 15 رن پر تین وکٹیں حاصل کیں، پیٹ کمنس نے چار اوورز میں 28 رن دے کر ایک وکٹ حاصل کی، ورون چکرورتی نے چار اوورز میں 32 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی اور شیوم ماوی نے تین اوورز میں 34 رنز دے کر ایک وکٹ لیا۔ اس فتح نے کولکتہ کو نو میچوں میں پانچ جیت اور چار شکستوں کے ساتھ 10 پوائنٹس پر پہنچا دیا ہے اور وہ پوائنٹس ٹیبل میں چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔

اس سے قبل نوجوان اوپنر شبھمن گل (36)، کپتان ایون مورگن (34) اور وکٹ کیپر بلے باز دنیش کارتک (29 رنز ناٹ آؤٹ) کی بیٹنگ سے کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹ پر 163 رنز کا مشکل اسکور کیا تھا۔ کولکتہ کی جانب سے شبھمن گل نے 37 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے سب سے زیادہ 36 رنز بنائے جبکہ مورگن نے آخری اوورز میں کارتک کے ساتھ اننگز بڑھانے کی کوشش کی۔ کولکتہ نے آخری پانچ اوورز میں 57 رنز کا اضافہ کیا تھا۔ مورگن نے 23 گیندوں میں تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 34 رنز بنائے اور کارتک نے اپنی اننگز میں 14 گیندوں میں 2 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 29 رنز بنائے۔ مورگن اور کارتک کے مابین چھٹی وکٹ کے لئے 58 رنز کی شراکت قائم ہوئی جس نے کولکتہ کو لڑنے کے قابل اسکور تک پہنچانے میں مدد فراہم کی۔ مورگن کولکتہ کی اننگز کی آخری گیند پر آؤٹ ہوئے تھے۔

ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرنے آئے شبھمن اور راہل ترپاٹھی نے کولکتہ کے لئے عمدہ آغاز کیا اور دونوں بلے بازوں کے مابین پہلی وکٹ کے لئے 48 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ لیکن ٹی نٹراجن نے راہل کو بولڈ کردیا اور کولکتہ کو پہلا دھچکا دیا اور شراکت توڑ دی۔ راہل نے 16 گیندوں میں دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 23 رنز بنائے۔ پہلے دھچکے کے بعد نتیش رانا نے شبھمن کے ساتھ اننگز کی قیادت کی۔ لیکن شبھمن راشد خان کی گیند پر پریم گرگ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

کولکتہ کے ٹاپ آرڈر کے بلے بازوں نے بھلے ہی اچھی اننگز کھیلی ہو، لیکن ان کے بلے باز مضبوط شراکت قائم کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے ان کی رن رفتار سست ہوگئی۔ کولکتہ کی اننگز میں نتیش رانا نے 20 گیندوں میں تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 29 رنز بنائے جبکہ آل راؤنڈر آندرے رسل کا بیٹ مسلسل ناکام رہا اور وہ 11 گیندوں میں نو رن بناسکے۔ حیدرآباد کے لئے نٹراجن نے چار اووروں میں 40 رن دے کر دو وکٹیں حاصل کیں ، وجے شنکر نے چار اوورز میں 20 رن دے کر ایک وکٹ حاصل کی ، باسل تھامپی نے چار اوورز میں 46 رنز پر ایک اور راشد خان نے چار اوورز میں 28 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی

next