آئی پی ایل 2020: بنگلور کے بلے باز ڈیویلیرس اپنی آتشی بلے بازی سے خود حیران

اے بی ڈیویلیرس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "36 سال کا کھلاڑی، جس نے 6-5 مہینے میں زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی، وہ نوجوانوں کے درمیان آکر ایسا کھیلے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ خوش ہوں کہ میں بیسکس پر قائم رہا۔"

اے بی ڈیویلیرس، تصویر ٹوئٹر
اے بی ڈیویلیرس، تصویر ٹوئٹر
user

تنویر

آئی پی ایل 2020 کے تیسرے مقابلے میں رائل چیلنجرس بنگلور نے سنرائزرس حیدر آباد کو 10 رنوں سے شکست دے کر اس سیزن میں فاتحانہ آغاز کیا ہے۔ اس جیت میں پڈکل، اے بی ڈیویلیرس اور یجویندر چہل کا خاص تعاون شامل تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آتشی بلے بازی کرنے والے اے بی ڈیویلیرس خود اپنی بلے بازی سے حیران نظر آئے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ خود پانچ مہینے کے بریک کے بعد اس طرح کے فارم سے حیران ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ڈیویلیرس نے محض 30 گیندوں میں 51 رن کی پاری کھیلی تھی جس کی وجہ سے وراٹ کی کپتانی والی بنگلور کی ٹیم 163 رن بنانے میں کامیاب ہوئی۔ ڈیویلیرس نے اپنی اننگ کے تعلق سے کہا کہ "میں خود حیران ہوں۔ جنوبی افریقہ میں ہم نے ایک میچ کھیلا تھا جس سے کچھ اعتماد حاصل ہوا تھا۔ ایک 36 سال کا کھلاڑی، جس نے پانچ چھ مہینے میں زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی، وہ نوجوانوں کے درمیان آ کر ایسا کھیلے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ خوش ہوں کہ میں بیسکس پر قائم رہا۔"

ڈیویلیرس نے اپنی بلے بازی کے بارے میں تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ بنگلور کے سلامی بلے باز دیودت پڈکل کی بلے بازی کی بھی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ "وہ کافی شرمیلا اور کم بولنے والا لڑکا ہے۔ وہ کافی باصلاحیت ہے اور مجھے کچھ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔" قابل ذکر ہے کہ پڈکل نے بھی آئی پی ایل کے 13ویں سیزن میں پہلے ہی مقابلہ میں نصف سنچری بنائی۔ بعد میں اس کا سہرا انھوں نے وراٹ کوہلی کے سر باندھا۔ انھوں نے کہا کہ ٹریننگ کے دوران وراٹ کوہلی سے جو سیکھ ملی، اس کا فائدہ انھیں حیدر آباد کے خلاف پہلے میچ میں ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔