آئی پی ایل 2020: دھونی اگلا آئی پی ایل 2021 کھیلنے کے لئے پرعزم

مہندر سنگھ دھونی نے سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہ چنئی کا آخری میچ ہے تو انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر نہیں۔ دھونی کے ان الفاظ کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ اگلے سیزن میں چنئی کے لئے کھیلتے نظر آئیں گے۔

مہندر سنگھ دھونی، تصویر بشکریہ بی سی سی آئی
مہندر سنگھ دھونی، تصویر بشکریہ بی سی سی آئی
user

یو این آئی

ابوظہبی: آئی پی ایل 13 میں مایوس کن کارکردگی اور پلے آف ریس سے باہر ہونے کے بعد چنئی سپر کنگز کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے مستقبل کے بارے میں مسلسل قیاس آرائیاں جاری تھیں کیونکہ یہ ان کا آخری آئی پی ایل ہوگا، لیکن دھونی نے واضح کیا وہ اگلے سال کھیلیں گے۔

مہندر سنگھ نے اتوار کے روز کنگز الیون پنجاب کے خلاف ٹاس جیتا اور ٹاس کے بعد جب پوچھا گیا کہ کیا یہ چنئی کا آخری میچ ہے تو دھونی نے کہا کہ یقینی طور پر نہیں۔ دھونی کے ان الفاظ کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ اگلے سیزن میں چنئی کے لئے کھیلتے نظر آئیں گے۔ چنئی نے دھونی کی کپتانی میں تین بار یہ اعزاز جیتا ہے اور وہ پانچ بار رنر اپ رہی ہے۔ اس سال کے آئی پی ایل میں پہلا موقع ہے جب چنئی کی ٹیم دھونی کی کپتانی میں پلے آف میں نہیں پہنچی ہے۔

دھونی نے رواں سال 15 اگست کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا اور سب کی نظریں اس سال کے آئی پی ایل میں ان کی کارکردگی پر تھیں۔ چنئی کی ٹیم 2016 اور 2017 میں اسپاٹ فکسنگ کے لئے معطل کرنے کے بعد ٹیم سن 2018 میں دھونی کی کپتانی میں واپس آئی اور تیسری بار ٹائٹل اپنے نام کیا ۔ چنئی 2019 میں فائنل میں پہنچ کر رنرز اپ رہی۔

اس سیزن میں چنئی نے چمپئن ممبئی انڈینز کو افتتاحی میچ میں شکست دے کر ٹورنامنٹ کا آغاز کیا تھا لیکن اس کے بعد ان کی کارکردگی زوال پذیر ہونے لگی۔ چنئی کی بیٹنگ اور بولنگ میں طاقت کی کمی تھی۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل چنئی کے دو اہم کھلاڑی سریش رینا اور ہربھجن سنگھ ذاتی وجوہات کی بنا پر آئی پی ایل سے دستبردار ہوگئے۔ چنئی نے بھی ان دونوں کھلاڑیوں کے لئے کوئی آپشن نہیں لیا۔

چنئی کے آل راؤنڈر ڈواین براوو گھٹنے کی انجری کے ساتھ آئی پی ایل میں پہنچے تھے اور جب وہ آئی پی ایل میں کھیلنا شروع ہوئے تو کچھ میچوں سے محروم رہنے کے بعد ان کی کارکردگی پرانی نہیں دکھائی دی اور درمیانی اوورز میں ٹیم کی بیٹنگ متاثر ہوئی۔

وکٹ کے پیچھے دھونی کی کارکردگی عمدہ تھی لیکن بیٹسمین فنشر سے محروم تھے۔ دھونی کے لمبے چھکے گم تھے، وہ اسٹرائیک کو روٹیٹ کرنے میں ناکام رہے تھے اور وہ اپنے بیٹ سے رن نہیں بناسکے تھے۔ اس کے لئے دھونی پر تنقید ہوتی رہی۔ جب دھونی نے نوجوان کھلاڑیوں میں چنگاری کی کمی کی بات کی تو ان کے خلاف تنقید اور تیز ہوگئی۔ سابق ہندستانی کپتان اور سلیکٹر چیف کرشنم چاری سری کانت نے اس بیان پر دھونی پر طنز کیا۔ چنئی نے پلے آف میں واپسی کی کوشش کی لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ تاہم اگلے سیزن میں دھونی کے کھیلنے پر راضی ہونے کے بعد دھونی اور ان کے مداحوں نے ایک سکون کا سانس لیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔