آئی پی ایل 2020: دہلی اور حیدرآباد میں آج فائنل کے لئے مقابلہ

کوالیفائر 2 کی فاتح ٹیم کا مقابلہ فائنل میں ممبئی سے ہوگا۔ جہاں دہلی پہلی بار فائنل میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تو حیدرآباد کی ٹیم تیسری بار فائنل میں پہنچنے کا لئے پورا زور لگائے گی۔

دہلی اور حیدرآباد میں آج فائنل کے لئے مقابلہ
دہلی اور حیدرآباد میں آج فائنل کے لئے مقابلہ
user

یو این آئی

ابوظہبی: دہلی کیپٹلز اور سن رائزرس حیدرآباد کے بیچ اتوار کے روز ہونے والے دوسرے کوالیفائر سے آئی پی ایل فائنل کی دوسری ٹیم کا فیصلہ ہوگا۔ جو دس نومبر کو خطابی مقابلے میں دفاعی چیمپئن ممبئی انڈینس سے مقابلہ کرے گی۔ 9 ستمبر سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہونے والا آئی پی ایل ۔13 اب اپنے آخری مرحلہ پر پہنچ چکا ہے۔ چار بار کی چیمپئنز ممبئی پہلے کوالیفائر میں دہلی کو آسانی سے شکست دینے کے بعد فائنل میں پہنچ گئی تھی جبکہ حیدرآباد نے جمعہ کے روز ایلیمینیٹر میں رائل چیلنجرز بنگلور کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر کوالیفائر دو میں جگہ بنائی تھی۔ کوالیفائر 2 کی فاتح ٹیم کا مقابلہ فائنل میں ممبئی سے ہوگا۔ جہاں دہلی پہلی بار فائنل میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تو حیدرآباد کی ٹیم تیسری بار فائنل میں پہنچنے کا لئے پورا زور لگائے گی۔

حیدرآباد نے سال 2016 میں فائنل میں پہنچ کر خطاب اپنے نام کیا تھا، جبکہ 2018 میں اسے چنئی سپر کنگز سے ہار کر رنر اپ پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ حیدرآباد کی آخری چار میچوں میں کارکردگی نے اسے دہلی کے خلاف جیت کا مضبوط دعویدار بنایا ہے۔ حیدرآباد کی ٹیم ممبئی اور دہلی کے بعد ٹیبل میں تیسرے نمبر پر تھی۔ حیدرآباد نے پچھلے تین لیگ میچوں میں پلے آف میں دیگر تین ٹیموں کو شکست دی تھی۔ پلے آف سے قبل حیدرآباد نے دہلی کیپٹلز کو 88 رنز، بنگلورو نے پانچ وکٹ سے اور ممبئی انڈینز کو 10 وکٹوں سے شکست دی اور پھر ایلیمنیٹر میں بنگلور کو چھ وکٹوں سے ہرایا۔ بنگلورو کے خلاف 132 رنز کے ہدف کے تعاقب میں حیدرآباد کی ٹیم ایک ایسے وقت میں پھنس گئی تھی جب اس کی چار وکٹیں 67 رنز پر گرگئی تھیں لیکن تجربہ کار کین ولیمسن نے اہم ناٹ آوٹ 50 رنز اور آل راؤنڈر جیسن ہولڈر (24 ناٹ آؤٹ ) کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لئے 65 رنز جوڑ کر ٹیم کو دو گیندیں باقی رہتے ہوئے جیت سے ہمکنار کیا۔

حیدرآباد نے بنگلور کو 20 اووروں میں سات وکٹ پر 131 کے اسکور پر روکا اور پھر 19.4 اوورز میں چار وکٹ پر 132 رنز بناکر دلچسپ جیت حاصل کی۔ ولیمسن اپنی میچ جیتنے والی اننگز کے لئے پلیئر آف دی میچ بنے۔ حیدرآباد کی بلے بازی کپتان وارنر، منیش پانڈے اور ولیمسن پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اگر وکٹ کیپر ردھمان ساہا فٹ رہتے ہیں تو وہ اپنی جگہ پر واپسی کریں گے اور سریوتس گوسوامی کو باہر جانا پڑے گا۔

وارنر کی ٹیم کو ٹاپ آل راؤنڈر جیسن ہولڈر نے سب سے زیادہ مضبوطی دی ہے، جو نہ صرف وکٹ حاصل کر رہے ہیں بلکہ مڈل آرڈر میں ضروری رن بھی بنا رہے ہیں۔ ہولڈر میں بڑے شاٹس کھیلنے کی صلاحیت ہے۔ ہولڈر نے بنگلور کے خلاف ٹاپ آرڈر کے دو بلے بازوں سمیت تین وکٹیں حاصل کیں اور آخری اوور میں لگاتار دو چوکے لگا کر ٹیم کو جیت دلائی تھی۔

حیدرآباد کے پاس تیز گیند بازوں سندیپ شرما، ٹی نٹراجن اور ہولڈر اور بہترین اسپنروں لیفٹ آرم اسپنر شہباز ندیم اور راشد خان ہیں جو کسی بھی بلے باز کو پریشانی میں ڈال سکتے ہیں۔ دوسری طرف، دہلی کے لئے، ان کی گیند بازی اور بلے بازی دونوں ہی مایوس کن ہیں اگر دہلی ان دونوں شعبوں میں اصلاح نہیں کیا تو اس کا فائنل میں جانے کا خواب ٹوٹ جائے گا۔ اگرچہ دہلی ٹیبل میں دوسرے نمبر پر تھی لیکن ممبئی کے خلاف پہلے کوالیفائر میں ان کی کارکردگی بہت ہی خراب رہی تھی۔

دہلی کے گیند بازوں نے میچ میں 200 رنز دیئے تھے اور ایک بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے دہلی نے ابتدائی چار اوورز میں پرتھوی شا، اجنکیا رہانے، شیکھر دھون اور کپتان شریس ایر کی وکٹیں گنوا دیں۔ ان میں سے پرتھوی، رہانے اور شکھر کا کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا۔ ایر نے 12 رنز بنائے تھے جبکہ ٹیم کے 15 کروڑ کھلاڑی رشبھ پنت صرف تین رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے۔ ایسی بلے بازی سے ٹیم جیت کی توقع نہیں کرسکتی ہے۔

ٹورنامنٹ میں دو ناٹ آوٹ سنچریاں اسکور کرنے والے شکھر کو ٹیم کے سب سے تجربہ کار بلے باز کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اور انہیں ایک سرے پر جم کر رنز بنانے ہوں گے۔ ممبئی سے شکست کے بعد کپتان ایر نے کہا کہ اب ہم مضبوطی کے ساتھ واپسی کریں گے اور اگلے میچ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ شریس نے کہا "میں ٹیم کے بارے میں کچھ منفی نہیں کہنا چاہتا۔ آگے بڑھنے کے لئے مضبوط ذہنیت کے ساتھ کھیلنا ضروری ہے۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے اور ہم مضبوطی سے واپسی کریں گے۔‘‘

پسندیدہ ترین
next