انٹرویو

اگلا وزیر اعظم کوئی بھی ہو، مقصد مودی کو ہرانا: تیجسوی یادو

آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے ’قومی آواز‘ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ 2019 کا الیکشن گاندھی، امبیڈکر بنام گولولکر،گوڈسے نظریات کے مابین ہوگا اور یہ لڑائی آئین اور جمہوریت کو بچانے کی ہے۔

تصویر قومی آواز/ پرمود پشکرنا

وشو دیپک

بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے گزشتہ کچھ مہینوں میں اپنی سیاسی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہار کے ضمنی انتخابات میں اپنی پارٹی کو اہم جیت سے ہمکنار کرایا۔ بلکہ ایک طرح سے دیکھا جائے تو انہوں نے بہار میں اپوزیشن کی قیادت سنبھال لی ہے، اس دوران وہ لگاتار بی جے پی-آر ایس ایس پر حملہ آور رہے ہیں۔ انہوں نے ’قومی آواز‘ سے خصوصی انٹرویو کے دوران کہا کہ 2019 کا لوک سبھا چناؤ گاندھی،امبیڈکر،منڈل بنام گولولکر-گوڈسے کے نظریات کے مابین ہوگا۔ پیش ہیں وشودیپک سے ہوئی ان کی گفتگو کے اہم اقتباسات:

مہینے کے شروع میں کانگریس صدر راہل گاندھی سے آپ کی ملاقات ہوئی جو کافی موضوع بحث بھی رہی، آپ کی راہل گاندھی سے کن مدوں پر بات ہوئی؟

راہل گاندھی سے ہماری ملاقات کا محور یہ تھا کہ مودی حکومت کے دوران جس طرح سے ملک کا آئین اور جمہوریت خطرے میں ہے اس کی حفاظت کس طرح کی جائے، ہماری دوستی کی بنیاد بھی آئین کی حفاظت پر ہی مبنی ہے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ ہمارے تعلقات طویل مدت تک قائم رہیں گے۔

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ راہل گاندھی عوامی مسائل کو زور شور سے اٹھا رہے ہیں، چاہے کسانوں سے متعلق سوال ہوں، بینک گھوٹالے ہوں یا پھر عام لوگوں کے دکھ درد سے جڑے مدے ہوں، ان سب کا اثر اب زمین پر نظر آنے لگا ہے۔ اس سے ملک کی سیاست تبدیل ہوگی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ راہل گاندھی جو سوال پوچھتے ہیں اس کا جواب وزیر اعظم مودی کے پاس نہیں ہوتا۔

راہل گاندھی نے چاہے بدعنوانی کی بات ہو، دلتوں پر ہوئے مظالم کی بات ہو یا گھوٹالوں کی بات ہو ، ہم ہر مدے پر ان کا ساتھ دینے کے لئے پہنچتے ہیں۔ اگر راہل کے مقابلے وزیر اعظم مودی کو دیکھیں تو وہ کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ وہ یا تو بیرونی دوروں پر ہوتے ہیں یا پھر انتخابی دوروں پر رہتے ہیں۔

ملک میں اس وقت جو ماحول بنا ہے اس میں لوگ آئین کو بدلنے کی بات کر رہیے ہیں۔ ریزرویشن کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آئین بدلنے کی بات کرنے والوں کے خلاف نہ صرف آرجے ڈی -کانگریس بلکہ یکساں نظریہ کی ہر پارٹی کو جدوجہد کرنی چاہئے۔

آپ بی جے پی مخالف محاذ بنانے کی بات کر رہے ہیں لیکن بیچ بیچ میں غیر بی جے پی اور غیر کانگریس محاذ کی بھی آواز اٹھتی ہیں۔ کیا تیسرا محاذ بننے سے بی جے پی کو فائدہ نہیں ہوگا؟

دیکھئے، یہ لڑائی کسی ایک پارٹی کی نہیں ہے اور نہ ہی محض بی جے پی – کانگریس کے درمیان کی لڑائی ہے۔ یہ لڑائی آئین کی حفاظت کی ہے۔ میں آپ کو صاف طور سے بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگلا چناؤ جو ہونے جا رہا ہے وہ گاندھی،امبیڈکر،منڈل بنام گولولکر،گوڈسے کے نظریات کے مابین ہوگی ۔ اس نظریاتی جنگ میں جس کو جس طرف جانا یا آنا ہوگا آ جائے گا۔ اس وقت معلوم ہو گا کہ کون کہاں کھڑا ہے، بیچ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

آج ملک کے جو حالات ہیں اس سے ہر ذات کے لوگ، ہر مذہب کے لوگ، ہر طبقہ کے لوگ پریشان حال ہیں۔ غریب اور امیر کے درمیان فرق مزید بڑھ رہا ہے۔ ان حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے نجی مفاد چھوڑ کر ملک کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ جس طرح ہمارے والد (لالو یادو)نے ملک کے مفاد میں نتیش کما کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔

نتیش کمار کو آپ کے والد لالو یادو نے بہار کا وزیر اعلیٰ بنایا،پھر ایسا کیا ہوا کہ انہوں نے عظیم اتحاد کا ساتھ چھوڑ دیا اور بی جے پی کا دامن تھام لیا؟

یہ بات سچ ہے کہ ہمارے والد نے یہ جانتے ہوئے کہ نتیش کسی بھی وقت دھوکہ دے سکتے ہیں انہیں وزیر اعلیٰ بنایا، ہم نے بی جے پی کو روکنے کے لئے یہ سب کچھ کیا، یہ وقت کی ضرورت تھی۔ ہم نے نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ ہی نہیں بنایا بلکہ سیٹو ں کی تقسیم میں بھی انہیں برابر سیٹیں دیں۔ ہمارے سامنے جے ڈی یو کا کوئی وجود نہیں تھا ،لیکن یہ سب ہم نے اس لئے کیا کیوں کہ ہم ملک کے مفاد میں کام کرنا چاہتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ کہیں نہ کہیں اسی طرح کی کوشش اس بار کے لوک سبھا چناؤ میں ہر پارٹی کو کرنی چاہئے۔

نجی مفاد سے آ پ کی کیا مراد ہے، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر کانگریس کو وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ دینا چاہئے؟

ملک کے مفاد میں قربانی دینے کی کانگریس کی موجودہ مثال آپ کےسامنے ہے، کرناٹک میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود کانگریس نے کماراسوامی کو وزیر اعلیٰ بنایا جو کہ ایک اچھی بات ہے ،لیکن اگر بہار اور دیگر ریاستوں کے حوالے سے دیکھیں تو وہاں ہم نے کانگریس کے ساتھ قبل از انتخاب اتحاد کیا۔ میرا کہنے کا مطلب ہے کہ چناؤ کےبعد اتحاد کرنے کے بجائے چناؤ سے پہلے اتحاد کیا جانا چاہئے۔ آپ یکساں نظریہ والے ہیں تو پھر چناؤ پہلے اتحاد کیوں نہیں کر سکتے۔ کرناٹک میں اگر چناؤ سے قبل اتحاد ہو جاتا توایسی صورت حال پیدا ہی نہ ہوتی ، بہار میں ہم نے ایسا نہیں ہونے دیا تھا۔

آپ نے نتیش کمار کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کیا، آپ کا تجربہ کیسا رہا؟

ہمارا اور ان کا 18 مہینے کا ساتھ رہا، اس دوران ہماری پوری توجہ اس بات پر تھی کہ جو وعدے عوام سے کیے گئے ہیں انہیں پورا کیا جائے، حکومت مستحکم ہو پاتی اس سے قبل ہی ہمارے چچا (نتیش) پلٹی مار گئے۔

اگر آج کل ان کی زبان دیکھیں تو سمجھ میں آجائے گا کہ وہ پھر سے پلٹی مارنا چاہتے ہیں۔ ایسا کچھ خاص نہیں ہوا تھا کہ وہ پلٹی مار جاتے لیکن وہ پہلے بھی بی جے پی کے ساتھ حکومت میں رہ چکے تھے، اس لئے ان کے لئے گھر واپسی جیسا ہی تھا، میرے خیال میں یہ سب ان کے ذہن میں پہلے ہی سےچل رہا تھا ، انہیں صرف بہانے کی ضرورت تھی۔

ویسے اہم وجہ کیا تھی؟ اب اگر وہ پھر سے یو ٹرن لے کر واپس آنا چاہیں تو؟

ہم ان کی فکر کیوں کریں؟ بات یہ ہے کہ ہم جس پر بھروسہ کرتے ہیں پوری طرح سے کرتے ہیں۔ ہم نے ایمانداری سے دوستی نبھائی، یہ بات الگ ہے کہ نتیش جی نے ہمیں غلط ثابت کر دیا۔ ہم نے ان پر اتنا یقین کیا کہ اسپیکر کا عہدہ بھی انہیں دے دیا، ہمیں اب لگتا ہے کہ اسپیکر کا عہدہ ہمیں اپنے پاس رکھنا چاہئے تھا ، پھرشائد وہ اتنی ہمت نہ کر پاتے، حالانکہ دیگر افراد کہا کرتے تھے کہ نتیش ایسے ہیں ، ویسے ہیں لیکن ہم اس وقت اپنے دوست پر شک کیوں کرتے!۔

نتیش کمار اگر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو کیا آپ انہیں پھر سے ساتھ لیں گے؟

ارے بھائی، 4 سال میں4 غلطی ان سےہو گئی، چناؤ سے پہلے ہمارے ساتھ انہوں نے اتحاد کیا اور یہ کہا کہ بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کر کے غلطی کی تھی۔ 18 مہینے بعد پھر کہا غلطی ہو گئی، اب انہیں پھر لگ رہا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ جا کر غلطی کر دی، اب وہ پھر سے ادھر آنا چاہتے ہیں ۔ 2010 کے بعد سے وہ لگاتار پلٹی مار رہے ہیں، نقصان آخر بہار کے عوام کا ہو رہا ہے؟ ۔ 4سال میں 4حکومتیں بن گئیں اور وزیر اعلیٰ ایک ہی رہا، انہوں ہر پارٹی سے اتحاد کیا اور ہر کسی کو دھوکہ دیا۔

آپ راہل گاندھی کی طرح آر ایس ایس پر نشانہ لگاتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟

آر ایس ایس کو نشانے پر رکھنا میرا سیاسی فرض ہے، میرا خیال ہے کہ جو تنظیم جمہوریت، آئین اور ریزرویشن ختم کرنے کی بات کرتی ہو ، اس کی ملک کے ہر شہری کو مخالفت کرنی چاہئے۔ جو تنظیم ناگپوریا قانون لاگو کرنا چاہتی ہے اس کی مخالفت تو ہوگی ہی۔ آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ ناگپور میں ترنگا نہیں لہرایا جاتا، آر ایس ایس کے جو لوگ ترنگے کو نہیں مانتے وہ ہر کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں، ان کے خلاف تو ہمیں بولنا ہی ہے۔

بہار حکومت سے علیحدہ ہوئے آپ کو کافی وقت ہو چکا ہے اور آپ حزب اختلاف کے رہنما ہیں ، اب صوبے کے حالات کیسے ہیں؟

اس وقت بہار میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے، کہیں ٹہل کر دیکھ لیجئے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ کیسا ماحول ہے، ملک میں بھی ایسے بہت کم لوگ ہی ہوں گے جو مودی حکومت سے خوش ہوں گے۔ ہر جگہ اور ہر سطح پر کہرام مچا ہوا ہے، میں مودی جی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے چناؤ جیتا ، لیکن کیا وزیر اعظم کا کام صرف چناؤ جیتنا ہوتاہے یا کام بھی کرنا ہوتا ہے؟۔

مودی جی نے سالانہ 2 کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن مل کتنا رہا ہے! جی ڈی پی کے حساب سے دیکھیں تو معیشت 4 سال کے سب سے نچلے پا ئیدان پر ہے، بلیک منی کا کہیں کچھ پتہ نہیں ہے۔ منموہن سنگھ نے جو معیشت میں جو سدھار کیا تھا انہیں مودی جی نے پلٹ دیا ہے، یہی حال خارجہ پالیسی کا ہے۔ ہمسایہ ممالک سے ہمارے تعلقات خراب ہو چکے ہیں، پاکستان کی تو چھوڑئیے نیپال، مالدیپ اور سری لنکا جیسے ملک جو ہمارے معاون تھے وہ بھی اب ہمارے دشمن بن چکے ہیں۔

آپ منموہن سنگھ کو مودی سے بہتر وزیر اعظم مانتے ہیں؟

بالکل، منموہن سنگھ جی سے مودی جی کا کوئی موازنہ نہیں ہے، میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کو آمنے سامنے بیٹھادیں، پتہ چل جائے گاکہ کون کتنے پانی میں ہے۔ مجھے آپ اگرصحافی بنا دو اور مودی جی سے سوال کرنے کا موقع ملے تووہ میرے ہی سوالوں کا جواب نہیں دے پائیں گے، منموہن سنگھ سے تو کیا بحث کریں گے۔

اگر بطور صحافی آپ کو مودی سے سوال کرنے کا موقع ملے تو کیا سوال کریں گے؟

ارے موقع توملے …

فرض کریں کہ موقع مل گیا ؟۔

ویسے تو میرے سوالات کی فہرست کافی لمبی ہے، لیکن اگر بطور صحافی مجھے سوال کرنے کا موقع ملے تو میرا پہلا سوال ہوگا کہ مودی جی ملک کے عوام آپ کو ووٹ کیوں دیں؟ آپ نے جو وعدے کئے تھے کیا آپ نے وہ پورے کئے ہیں؟۔

میں ان صحافیوں کی طرح نہیں رہوں گا جو ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں۔ میں تو اعداد و شمار لے کر بیٹھوں گا، وہ جھوٹ بول کر نکل جانا چاہیں گے لیکن میں ایسا نہیں کرنے دوں گا اور انہیں ہر سوال پر گھیروں گا۔

ایسا کہا جا رہا ہے کہ مودی کے مقابلہ میں دلت خاتون کو وزیر اعظم کے عہدے کا دعویدار بنانا حزب اختلاف کی مضبوط حکمت عملی ہوگی ، آپ کا کیا خیال ہے؟

میرے خیال سے اپوزیشن کی حکمت عملی میں وزیر اعظم کا سوال پیچھے ہے، ابھی جو ملک کو بچائے گا، آئین کو بچائے گا، بی جے پی کو ہرائے گا، ہم اسے ہی سپورٹ کریں گے، وزیر اعظم کون ہوگا، کون نہیں ہوگا ، یہ دور کی بات ہے۔

ویسے ابھی تک کسی نے دعوی بھی نہیں کیا، بس راہل جی نے یہ کہا تھا کہ اگر کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرتی ہے تو دیکھا جائے گا۔حالانکہ جو بھی سب سے بڑی پارٹی ہوگی وزیر اعظم کے عہدہ پر اسی کا حق ہوگا اور اس میں غلط بھی کیا ہے! دیکھنا ہوگا کہ کانگریس کس طرح تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر آتی ہے، چناؤ سے پہلے اتحاد کی پہل ہوتی ہے یا نہیں اور کس طرح اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر کانگریس آگے بڑھتی ہے ، یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا۔