اگر ’عمران‘ پر ظلم ہوتا ہے تو ’اجے‘ آواز اٹھاتا ہے، یہی کانگریس کی خوبی ہے: عمران پرتاپ گڑھی

عمران نے کہا کہ کانگریس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اگر مسلمان پر ظلم ہوتا ہے تو ہندو اس کے خلاف لڑتا ہے اور اگر ہندو پر ظلم ہوتا ہے تو مسلمان اس کے خلاف پیش پیش رہتے ہیں۔

عمران پرتاپ گڑھی / آس محمد
عمران پرتاپ گڑھی / آس محمد
user

آس محمد کیف

نئی دہلی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 34 سالہ نوجوان شاعر عمران پرتاپ گڑھی کو اپنے اقلیتی شعبہ کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ عمران جونپور کے سابق رکن اسمبلی ندیم جاوید کا مقام حاصل کریں گے۔ پرتاپ گڑھ کے رہائشی عمران اپنی انقلابی شاعری کے دم پر نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کی دستک کے درمیان ان کی اس تقرری کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ قومی آواز سے گفتگو کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ انہیں جو ذمہ داری سونپی گئی ہے اسے وہ پوری ایمانداری اور محنت کے ساتھ انجام دیں گے اور مظلوموں کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اگر ’عمران‘ پر ظلم ہوتا ہے تو ’اجے‘ آواز اٹھاتا ہے، یہی کانگریس کی خوبی ہے: عمران پرتاپ گڑھی

عمران پرتاپ گڑھی کانگریس پارٹی کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارٹی بلاتفریق مذہب و ملت سبھی کے مفاد میں کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اگر مسلمان پر ظلم ہوتا ہے تو ہندو اس کے خلاف لڑتا ہے اور اگر ہندو پر ظلم ہوتا ہے تو مسلمان اس کے خلاف پیش پیش رہتے ہیں۔


عمران پرتاپ گڑھی نے کانگریس کے اقلیتی شعبہ کا چیئر مین مقرر ہونے پر پارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ منی پور سے لے کر کشمیر تک کے مسلمانوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ انہیں کیوں کانگریس کا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال وبائی دور چل رہا ہے اور ہماری ترجیح لوگوں کی مدد کرنے کی ہے۔

ایک شاعر کے سیاست میں آنے کے سوال پر عمران پرتاپ گڑھی کہتے ہیں، ’’لب و رخسار کی شاعری تو میں نے کبھی نہیں کی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ شاعری کے توسط سے میں ہمیشہ مظلومین کے حق میں آواز بلند کرتا رہا ہوں۔ ملک میں جہاں بھی ظلم ہوا، بالخصوص موب لنچنگ کے خلاف میں نے اپنی نظموں کے ذریعے جذبات کا اظہار کیا ہے۔‘‘


انہوں نے کہا، ’’اخلاق، جنید اور پہلو خان کے ساتھ موب لنچنگ کا واقعہ پیش آیا، میں متاثرین کے ساتھ کھڑا ہوا اور حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ دو سال قبل میں رسمی طور پر مراد آباد سے انتخاب لڑ کر ضرور سیاسی سفر کا آغاز کیا، تاہم ظلم کے خلاف جدوجہد میں بہت پہلے سے کر رہا ہوں۔‘‘

تجربہ کی کمی اور اتر پردیش کے مسلمانوں کی کانگریس سے دوری کے سوال پر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ وہ مسلمانوں میں کانگریس کے تئیں اعتماد بحالی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’یوپی میرا صوبہ ہے اور میں یہاں کے حالات سے پوری طرح واقف ہوں۔ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ میں آرام کرنے کے لئے نہیں آیا ہوں اور اپنا پورا دم لگا دوں گا۔


یوپی کی مووجودہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ بارہ بنکی اور کھتولی کی مساجد کو شہید کرنا اور اناؤ میں فیصل کا قتل اور بلند شہر میں عقیل قریشی کی موت اشارہ دے رہے ہیں کہ نفرت پھیلانے والوں کے منصوبے کیا ہیں! انہوں نے کہا، ’’بارہ بنکی میں مسجد کی شہادت کے بعد وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ سب سے پہلے کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو کھڑے ہوئے۔ اسی طرح اناؤ میں فیصل کی لڑائی ہماری ضلع صدر آبھا واجپئی لڑ رہی ہیں۔ کانگریس کی یہی بات نفرت کی سیاست پر حملہ کرتی ہے۔‘‘

عمران پرتاپ گڑھی نے مزید کہا کہ جب عمران پر ظلم ہوتا ہے تو اجے اس کے خلاف لڑتا ہے اور جب اجے پر زیادتی ہوتی ہے تو عمران آواز اٹھاتا ہے، نفرت کی سیاست کرنے والے اسی بات سے خوف کھاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صرف محبت ہی نفرت کو ہرا سکتی ہے اور اسی محبت کی بات کانگریس کرتی ہے۔ بی جے پی کی حکومت اسی نفرت کے جال میں پھنسا کر عوام کو اصل مسائل سے ذہن بھٹکاتی ہے۔ نفرت ختم ہوگی تو لوگ سوال کریں گے! اس لئے وہ سماج کو مسلسل تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہم اس کا جواب محبت سے دیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔