راجیو گاندھی نے بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا ’بی جے پی ہے سب سے بڑی دشمن‘

محض 40 سال کی عمر میں ہندوستان کے وزیر اعظم بننے والے راجیو گاندھی ابھی 47 برس کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ ایک خودکش حملہ آور نے ان کی جان لے لی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

1993 میں راجیو گاندھی کی دوسری برسی پر ’نیشنل ہیرالڈ‘ نے راجیو گاندھی کے دو انٹرویو کے کچھ حصے شائع کیے تھے۔ ان میں سے ایک انٹرویو 1983 کا تھا جو انھوں نے کانگریس جنرل سکریٹری کی حیثیت سے دیا تھا اور دوسرا انٹرویو مارچ 1991 کا تھا جو ان کے قتل سے محض دو مہینے پہلے کا تھا۔ ان دونوں انٹرویو میں ان سے پوچھے گئے سوال اور ان کے جواب آج بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہم آج آپ کے لیے ان دونوں انٹرویو کے کچھ حصے پیش کر رہے ہیں۔

1991 کے انٹرویو کے اہم حصے:

آپ سیکولرزم کو کس طرح فروغ دینا چاہتے ہیں؟

بی جے پی سے مقابلہ کرتے ہوئے، بی جے پی ہی فرقہ وارانہ زہر کا ذریعہ ہے...

یہ ایشو کو دیکھنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ کانگریس (آئی) کے پاس یقینی طور پر اس کے لیے کوئی اور مناسب پالیسی ہوگی؟

اس وقت ماحول میں فرقہ پرستی کے زہر کو بی جے پی نے پھیلا رکھا ہے کیونکہ جنتا دل حکومت نے اپنے دور اقتدار میں بی جے پی کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے کر ان کے حوصلے بڑھا دیے ہیں۔ ہمیں ان سب سے لڑنا ہوگا۔ سیکولرزم ہمارے ملک کی بنیاد کا سب سے مضبوط پتھر ہے، اور سیکولرزم کو اگر ذرا بھی کمزور کیا جاتا ہے تو اس سے ملک کا بہت نقصان ہوگا۔

آپ کو لگتا ہے کہ 1989 کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس (آئی) نے اپنے اشتہارات میں جو سانپ اور بچھو کا استعمال کیا ہے وہ مناسب تھا؟

اس وقت اسے لوگوں نے پسند نہیں کیا۔ شاید اسے پیش کرنے کا طریقہ جارحانہ اور پرتشدد رہا، لیکن اس اشتہار میں جو بات اٹھائی گئی اسے اگلے 15 مہینوں میں ہم نے ہوتے ہوئے دیکھا۔ ہمارا اندازہ بالکل درست تھا۔

آپ کا ووٹر کون ہے؟ آپ کا ووٹ بینک کون ہے؟

ہندوستان۔

آپ کا اصل دشمن کون ہے؟

واضح طور پر بی جے پی۔

وی پی سنگھ نہیں؟

نہیں۔

کیوں؟

مجھے نہیں لگتا کہ وی پی سنگھ کانگریس (آئی) کا ووٹ کاٹیں گے۔

کیا آپ سرکاری مشینری کو بند کر دیں گے؟

نہیں، ہرگز نہیں۔

کیا آپ دفعہ 370 بنائے رکھنے کے حق میں ہیں؟

ہاں، کیوں کہ یہی واحد (آئین کا شق) ہے جس کی وجہ سے کشمیر ہندوستان سے جڑا ہوا ہے۔

1983 کے انٹرویو کے اہم حصے:

آپ ایک شریف انسان تصور کیے جاتے ہیں، ایسے شخص کے طور پر آپ کی شناخت ہے جو سیاست کے روایتی طریقے نہیں اختیار کرتا، خصوصاً وہ طریقے جو کامیاب سیاستداں عموماً اختیار کرتے ہیں...

مجھے لگتا ہے کہ صحیح اور غلط کا فرق واضح ہونا چاہیے۔ مشتبہ طریقوں کو استعمال کر کامیاب ہونا صحیح نہیں ہے۔ آخر میں اس طریقے کو صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

ایسے میں آپ اس سیاسی دلدل میں کیسے بنے رہیں گے، کیونکہ یہ تو صاف اور پروفیشنل زندگی سے بالکل الگ ہے جسے آپ جیتے رہے ہیں؟

میرا ماننا ہے کہ آپ کو سچ اور لوگوں میں یقین ہونا چاہیے۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی بہت بڑے بڑے انعقاد کر رہی ہے، ریلیاں، علاقائی سمیلن وغیرہ۔ کیا یہ سب عوامی حمایت حاصل کرنے کے محض ڈھکوسلے نہیں ہیں؟

اگر آپ ایسا ماننا چاہتے ہیں تو آپ اس سب کو اس نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔ انتخابات سے قبل تیاریوں کے لئے اسے نمائش بھی کہا جا سکتا ہے۔ ہماری کوشش پارٹی کو اس کی بنیاد سے مضبوطی دینے کی ہے اور بنیاد ہیں ہندوستان کے لوگ۔ یہ سب ان لوگوں کو ہی ڈھکوسلا لگ سکتا ہے جو انتخابی ڈھکوسلے کرتے رہے ہیں۔

آپ پارٹیوں کے اندر موجود بدعنوانی سے کیسے نمٹیں گے؟

سب سے پہلا کام تو یہ ہوگا کہ ہم چندے کو قانونی بنائیں گے۔ اس سے ہو سکتا ہے کہ بدعنوانی ختم نہ ہو لیکن یہ ایک بڑا قدم ہوگا اور مجھے امید ہے کہ حکومت اس پر جلد عمل کرے گی۔