انٹرویو

کرناٹک کے لوگ نفرت نہیں امن و ترقی کا انتخاب کریں گے: سدا رمیا

بی جے پی کو کرناٹک میں ایک بھی ایسا رہنما نہیں ملا جو داغی نہ ہو۔ ہم محبت اور مذہبی ہم آہنگی کے نظریہ کے حامی ہیں جبکہ بی جے پی اور سنگھ کا نظریہ تقسیم کاری کا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

بھاشا سنگھ

کرناٹک اسمبلی  انتخابات کی پولنگ میں اب کچھ گھنٹوں کا وقت ہی بچا ہے۔ انتخابی تشہیر میں کانگریس کی مکمل توجہ صرف اور صرف کرناٹک پر ہی مرکوزرہی جبکہ بی جے پی نے اس میں اٹلی سے لے کر بھگت سنگھ تک کا تڑکا لگا کرعوام کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کی۔  کانگریس کی مؤثر حکمت عملی کا کریڈٹ اگر کسی کو جاتا ہے تو وہ ہیں وزیر اعلی سدارمیا۔ ان کے حریف بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار بی ایس یدی یورپا کے خلاف مقدمات اور لوگوں میں اس قدر ناراضگی ہے کہ خود ان کی پارٹی کے ارکان کا یقین ڈگمگا تا نظر آرہا ہے ۔

سدارمیا اس طرح کے انسان ہیں کہ اگر وہ کسی سے خوش ہوتے ہیں تو ظاہر ہو جاتا ہے اور اگر کسی سے ناراض ہو تے ہیں  تو وہ بھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ جب وہ کنڑ زبان میں مزاحیہ انداز میں مخالفین پر حملے کرتے ہیں تو تمام جماعتوں کے رہنما یہاں تک کہ ان کے مخالفین بھی ان کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے پورے چناؤ کو کنڑ پرائیڈ بمقابلہ بی جے پی کی شمالی ہندوستانی شبیہ اور ان کی ریاستوں کے وزرائے اعلی کے اردگرد ہی اپنی مہم کومرکوز رکھا۔  جمعرات کو تشہیر مہم اختتام ہونے کے درمیان ’قومی آواز‘ کی نمائندہ بھاشا سنگھ نے ان سے گفتگو کی۔ پیش ہیں اس کےاہم اقتصابات :

موجودہ انتخابی منظر اور تشہیر کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

موجودہ ماحول کانگریس کے حق میں ہے اور اس سب کی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومت نے ترقیاتی کام کئے اور اپنے وعدوں کو پورا کیا۔  ہم نے جس طرح فلاح و بہبود کے منصوبوں کا فائدہ  لوگوں تک پہنچایا اس سے ماحول ہمارے حق میں ہے۔  لوگوں کو پتہ ہے کہ ہم نے کس طرح حکومت چلائی ہے، لہذا ماحول ہمارے خلاف نہیں ہے۔ ہمارے خلاف کوئی کمی نہ نکال پانے کی وجہ سے بی جے پی   بھی گھبرائی ہوئی ہے۔  ہم اس لئے بھی پُر امید ہیں کیوں کہ ہم نے بد عنوانی سے پاک حکمرانی دی ہے ۔اسی لئے کانگریس مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے۔

کانگریس بغیر کسی اتحاد کےانتخابات میں اتری ہے، اگر آپ کو حمایت کی ضرورت پڑی تو کیا کریں گے؟

کرناٹک ایک مختلف قسم کی ریاست ہے یہاں بی جے پی کی خرید و فروخت  نہیں چل پائے گی۔ یہ ایم پی، یو پی، مہاراشٹر یا راجستھان نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ سمجھدار ہیں، جانتے ہیں کہ انہیں کیا سیاسی فیصلہ کرنا ہے۔  اس بار عوام تاریخی فیصلہ کریں گے۔  لوگ  بی جے پی کی حقیقت سے واقف ہیں۔  جس طرح بی جے پی نے کرناٹک  کے بجائے دوسری ریاستوں کے رہنماؤں کو ترجیح دی اس سے بھی ، یہاں کی عوام واقف ہے۔

آپ بی جے پی کے فرقہ پرستی کے کارڈ سے کس طرح نمٹیں گے؟

کرناٹک میں بی جے پی کا فرقہ پرستی کا کارڈ نہیں چلے گا۔ یہ صوفی سنتو ں کی زمین ہے۔  بساونا، کنک داس، ششو نل شریف نے یہاں مساوات، محبت اور روحانیت کی راہ دکھائی۔ بی جے پی جب بھی فرقہ پرستی کا کارڈ استعمال کرے گی ، وہ ناکام ہوجائے گی۔

آپ یدی یورپا کے چیلنج کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

وہ ایک داغی شخص ہیں  اور جیل جا چکے ہیں۔  وزیراعظم کے ایک طرف یدی یورپا  بیٹھتے ہیں تو دوسری طرف  ریڈی ۔ دونوں پر ہی بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔  دونوں نے کرناٹک کا نام خراب کیا ہے۔  در اصل بی جے پی کو کرناٹک میں ایک بھی ایسا رہنما نہیں ملا جو داغی نہ ہو۔ ہم محبت اور مذہبی ہم آہنگی کے نظریہ کے حامی ہیں جبکہ بی جے پی اور سنگھ کا نظریہ تقسیم کاری کا ہے۔

یہ کہا جارہاہے کہ لنگایت معاملہ پر کانگریس کا داؤ الٹا پڑ گیا، آپ کیا کہیں گے؟

لنگایت طبقہ  کو آزادانہ مذہب کا درجہ دینے کی سفارش ہم نے ویر-شیو لنگایت طبقہ کے مطالبے پر ہی کی ہے۔  یہ کوئی سیاسی چال یا داؤ نہیں ہے اور اسے ہم نے سیاسی مدہ بھی نہیں بنایا۔

جس طرح وزیر اعظم مودی نے کرناٹک میں انتخابی مہم  کی اور آپ سے ترکی بہ ترکی ڈائیلاگ ہوا، اس سے ایسا اشارہ ملتا ہے کہ آپ کا مقابلہ وزیر اعظم سے تھا۔

نہیں، نہیں! میرا وزیر اعظم کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ۔ میرا مقابلہ یدی یورپا کے ساتھ ہے۔ وزیر اعظم مودی کس چیز کو کس نظریہ سے دیکھتے ہیں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مجھ اپنی زمین کی طاقت کا احساس ہے اور مجھے بخوبی پتہ ہے کہ آگے کہاں جانا ہے۔ ویسے بھی یہ میرا آخری انتخاب ہے۔  پانچ سال کے بعد میں سیاست میں تو رہوں گا  لیکن چناؤ نہیں لڑوں گا۔