ڈرگز اور بدعنوانی کا ’گجرات ماڈل‘

گجرات کانگریس کے صدر امت چاؤڑا کے مطابق یہ بات خاص طور پر ابھر کر آئی ہے کہ خواتین مہنگائی سے تو پریشان ہیں ہی، شراب اور منشیات کی وجہ سے گجرات کا ہر گھر پریشان ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امت چاؤڑا، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/AmitChavdaINC">@AmitChavdaINC</a></p></div>
i
user

وشو دیپک

گجرات کانگریس کے صدر امت چاؤڑا ’جَن آکروش یاترا‘ کے دوران ان ایشوز کی زمینی جانکاری جمع کر رہے ہیں، جن سے ریاست کی عوام رو برو ہو رہی ہے۔ خواتین بڑھتی مہنگائی کی شکایت تو کر ہی رہی ہیں، ان کی سب سے بڑی تکلیف شراب اور ڈرگ سے جڑی ہوئی ہے۔ بدعنوانی کی شکایتیں بھی عام ہیں اور یہ باتیں بار بار سامنے آ رہی ہیں کہ منریگا کے ذریعہ بی جے پی لیڈران نے اربوں روپے اپنے پاکیٹ میں رکھ لیے۔ ’جَن آکروش یاترا‘ کے دوران ہمارے نمائندہ وشودیپک نے امت چاؤڑا سے ان معاملوں پر خصوصی بات چیت کی۔ پیش ہیں اس بات چیت کے اہم حصے...

5 مراحل والی اس ’جَن آکروش یاترا‘ کی وجہ کیا رہی ہے، اور اس کا مقصد کیا ہے؟

بی جے پی یہاں گزشتہ 35 برسوں سے اقتدار میں ہے۔ 2022 میں جب یہ اقتدار میں لوٹی، تو پچھلے 6 ادوار میں کوئی کام نہ کرنے کے باوجود لوگوں نے ایک امید باندھی۔ انہیں لگتا تھا کہ کم از کم اس بار تو بی جے پی کچھ کام کرے گی، لیکن مزید 3 سال گزر جانے کے بعد بھی بی جے پی حکومت کی کارکردگی صفر رہی ہے۔

2014 میں نریندر مودی اور امت شاہ کے دہلی چلے جانے کے بعد بی جے پی کی مقامی قیادت تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ بیوروکریٹس بدعنوان رہنماؤں کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہے ہیں۔ بدعنوانی یہاں بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اس کا پیٹرن کچھ اس طرح ہے کہ بی جے پی حکومت ٹنڈر نکالتی ہے، بیوروکریٹس اسے او کے کرتے ہیں، پھر بی جے پی کے ہی کسی لیڈر کی کمپنی کو ٹنڈر مل جاتا ہے۔ اس میں بیوروکریٹس کو بھی حصہ ملتا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ خوش رہتے ہیں اور یہ ’چکر‘ چلتا رہتا ہے۔

پہلے سی ایل پی کے طور پر میں ’جن منچ پروگرام‘ کے تحت ہر بلاک میں جا کر عوامی سماعت کرتا تھا۔ ابھی گزشتہ سال جولائی میں ریاستی صدر بنا، تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ اسی پروگرام کو آگے بڑھایا جائے۔ اسی سوچ کے تحت میں نے پوری ریاست میں ’جَن آکروش یاترا‘ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مقصد لوگوں کے درمیان جا کر ان کے مسائل سننا، پھر انہیں اجاگر کرنا اور ان کا حل نکالنا ہے۔ یاترا 4 نومبر 2025 کو شروع ہوئی۔ ہم نے 13 دنوں میں 1,300 کلومیٹر کی یاترا میں پورے شمالی گجرات کا احاطہ کیا۔ پھر وسطی گجرات میں کھیڑا ضلع سے یاترا شروع کر کے داہود میں اختتام کیا۔ 16 دنوں کی یاترا میں 1,400 کلومیٹر کا احاطہ کیا۔ تیسرے مرحلے میں ہم نے 2 فروری کو جنوبی گجرات میں ولساڈ ضلع سے یاترا کا آغاز کیا۔ اس کا اختتام 12 تاریخ کو ہوا۔


لوگوں کو کون سے مسائل پریشان کر رہے ہیں؟

یہ بات خاص طور پر ابھر کر آئی ہے کہ خواتین مہنگائی سے تو پریشان ہیں ہی، شراب اور منشیات کی وجہ سے گجرات کا ہر گھر پریشان ہے۔ پولیس اور انتظامیہ میں بیٹھے لوگوں کو ہر ہفتہ کروڑوں روپے ملتے ہیں۔ شراب بندی کے باوجود گلی گلی میں غیر قانونی شراب ملتی ہے۔ کھلے عام منشیات کا کاروبار ہو رہا ہے۔

خواتین کا کہنا ہے کہ کم عمر میں بچوں کو شراب کی لت لگ رہی ہے۔ کم عمری میں ہی بچوں کی موت ہو رہی ہے۔ مردوں کی شراب نوشی کے سبب خواتین کم عمر میں ہی بیوہ ہو جاتی ہیں۔ ہر گاؤں میں فروخت ہونے والی شراب کے لیے پولیس ہفتہ وصولتی ہے۔ خواتین کے لیے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پارلیمنٹ کو مطلع کیا گیا ہے کہ 6 سال میں 30 ہزار کلو منشیات مندرا پورٹ میں پکڑی گئی ہیں۔ مندرا پورٹ میں جس طرح بار بار منشیات پکڑی جا رہی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ گجرات منشیات کا لینڈنگ ہب بن گیا ہے۔ اور اب تو گجرات اس کا مینوفیکچرنگ ہب بھی بن چکا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ گجرات میں بہت سی کمپنیاں ایسی ہیں جو فارماسیوٹیکلز کہلاتی ہیں لیکن وہ دراصل سنتھیٹک ڈرگز بناتی ہیں۔ اس کا نیٹورک اس طرح ہے کہ ہر کالج کے آس پاس، یونیورسٹی میں منشیات فروخت ہونے لگی ہے۔ منشیات کے تاجر تعلیمی کیمپس کو خاص طور سے نشانہ بناتے ہیں۔

منریگا کو تو اب مرکزی حکومت نے ختم ہی کر دیا ہے، لیکن میڈیا میں ایسی رپورٹس شائع ہوئی ہیں کہ اس میں کافی بدعنوانی رہی ہے۔ کیا آپ کو اس کے ثبوت ملے؟

منریگا میں پورے گجرات میں بھیانک بدعنوانی ہے۔ میں نے اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھایا اور اس میں وزیر بچو بھائی کھاوڑ کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے کے شریک ہونے کی باتیں بتائیں۔ اس وجہ سے کھاوڑ کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا اور ان کے دونوں بیٹوں کو جیل جانا پڑا۔ پوری ریاست میں میٹریل کمپوننٹ کو بڑھا کر 80 فیصد تک لے گئے جبکہ لیبر کمپوننٹ کو گھٹا کر 20 فیصد کر دیا۔ موقع پر کوئی کام نہیں ہوتا ہے، لیکن ادائیگی ہوتی رہتی ہے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ ایک ہزار کروڑ سے زیادہ کا گھوٹالہ تو صرف 3 سے 4 اضلاع کو ملا کر ہوا ہوگا۔ داہود، پنچ محل، چھوٹا اُدے پور، مہیساگر... ان اضلاع میں ہزاروں کروڑ کے گھوٹالے ہونے کے ثبوت ہم نے حکومت کو پیش بھی کیے لیکن کارروائی نہیں ہوئی۔

پنچ محل ضلع میں جمبو گھوڑا بلاک کی کل آبادی 42 ہزار ہے۔ جمبو گھوڑا تعلقہ میں 26 گاؤں ہیں۔ منریگا کے تحت ان 26 گاؤں میں 3 سالوں میں 300 کروڑ روپے کے کام کیے گئے۔ سوچیے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہاں میٹریل سپلائی کرنے میں 4 ایجنسیوں کو لگایا گیا۔ ان میں سے ایک ایجنسی ضلع بی جے پی صدر کی ہے۔ دوسری ایجنسی ان کی بیوی کی ہے۔ تیسری ایجنسی ان کے بھتیجے کے نام پر ہے۔ میٹریل سپلائی کرنے والی چوتھی ایجنسی ان کے ڈرائیور کی ہے۔ صرف ایک بلاک میں بی جے پی رہنما اور اس کے خاندان نے منریگا کے تحت 200-150 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا۔ میں نے موقع پر جا کر دیکھا اور ثبوت کے ساتھ اس مسئلے کو اسمبلی میں اٹھایا۔ لیکن بی جے پی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ اس میں خود اس کے رہنما اور بیوروکریٹس پھنسے ہوئے ہیں۔


تب تو ’وی بی-جی رام جی‘ کے بعد حکومت کی منمانی اور بڑھ جائے گی۔ اس مسئلے کو کیسے اٹھا رہے ہیں؟

ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ کیسے گجرات کے سب سے عظیم لیڈر اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کی توہین کی گئی ہے، کیسے بی جے پی نے منریگا سے ان کا نام ہٹا دیا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ مودی نے قانون کو بدل کر اسے اسکیم بنا دیا ہے۔ قانون میں قانونی ضمانت ہوتی ہے، لیکن اسکیم تو کبھی بھی بند کی جا سکتی ہے۔

خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کا مسئلہ پورے ملک میں کافی گرم ہے۔ دیگر ریاستوں سے تو خبریں آتی ہیں، لیکن گجرات میں اس مسئلے پر کوئی شور شرابا نہیں ہوا۔ یہاں ایس آئی آر کی کیا صورت حال ہے؟

گجرات کی ووٹر لسٹ میں 12 فیصد فرضی ووٹرس ہیں۔ مودی حکومت میں وزیر سی آر پاٹل کی لوک سبھا سیٹ ہے نوساری۔ وہاں کا سیمپل لے کر ہم نے بتایا کہ کس طرح گجرات میں فرضی ووٹرس بڑی تعداد میں ووٹر لسٹ میں شامل ہیں۔


فارم 7 کے تحت درخواست کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کی کوئی شکایت آئی ہے؟

قواعد کے تحت فارم 7 کے تحت اگر کسی کو اعتراض کرنا ہے تو وہ فارم لے کر اس پر ووٹر کا نام اپنے ہاتھ سے لکھے گا۔ لیکن بی جے پی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے جو فارم تقسیم کیے، ان میں ووٹرس کے نام اس پر پہلے سے پرنٹ تھے، اور ایسا پوری ریاست میں ہوا۔ ہر اسمبلی حلقے میں بی جے پی کارکنوں نے ایسے فارم صرف دستخط کر کے جمع کیے۔ لیکن کئی لوگ ایسے نکلے جن کا کہنا تھا کہ میں نے تو فارم 7 کا اعتراض داخل ہی نہیں کیا اور میرے نام کا غلط استعمال کیا گیا۔

میں خود ای سی آئی کے دفتر کئی بار گیا۔ مجھے ای سی آئی نے پہلے دن کہا کہ 12 لاکھ سے اوپر فارم آئے ہیں۔ لیکن جب ہم نے دباؤ بڑھایا تو پہلے کہا کہ 9 لاکھ آئے ہیں، بعد میں کہا کہ 2 لاکھ فارم آئے ہیں۔ ہم لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جن لوگوں نے غلط فارم دیے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ہم کوشش کریں گے کہ جو صحیح ووٹر ہیں، ان کے نام نہ کٹیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔