افغانستان میں طالبان کے قبضہ سے ’انڈین ڈپلومیسی‘ کی ناکامی ظاہر: سابق سفیر راکیش سود

افغانستان میں ہندوستان کے سفیر رہ چکے راکیش سود کا کہنا ہے کہ طالبانی حکومت کے بعد ہندوستان نے دیگر ممکنہ متبادل کو دھیان میں رکھتے ہوئے پالیسی طے کرنے میں منھ کی کھائی اوربرسوں کی محنت بے کار ہو گئی۔

راکیش سود، تصویر سوشل میڈیا
راکیش سود، تصویر سوشل میڈیا
user

ایشلن میتھیو

طالبان کے ذریعہ اقتدار کو قبضے میں لینے کا ہندوسان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

بلاشبہ یہ برا ہی ہوگا۔ وہاں طالبان کے آنے کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے اور دونوں معاملوں میں ہندوستان کے لیے نتائج برے ہی رہنے ہیں۔ پہلا، اس علاقہ میں پاکستان کا اثر بڑھے گا اور ہمارے پاکستان کے ساتھ جیسے رشتے ہیں اسے دیکھتے ہوئے یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کے لیے یہ بدشگونی کا ہی اشارہ ہے۔ دوسرا، اگر افغانستان میں عدم استحکام رہے گا تو ہندوستان کے لحاظ سے علاقائی سیکورٹی کے لیے یہ برا ہی ثابت ہوگا۔

کیا طالبان کا اقتدار پر قابض ہونا طے تھا؟

اسے ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ ایک طرح سے امریکہ نے بھی اسے قبول کر لیا تھا۔ امریکہ نے جس دن اسلامک امیرات آف افغانستان یعنی طالبان، جسے اس نے منظوری بھی نہیں دی تھی، کے ساتھ معاہدہ کیا، یہ طے ہو گیا تھا کہ امریکہ بھی یہ مان رہا ہے کہ طالبان آگے پیچھے اقتدار میں آئے گا۔ اس طرح امریکہ نے افغانستان کو پاکستان اور آئی ایس آئی کے حوالے کر دیا۔ 2020 میں ہی یہ طے ہو گیا تھا کہ اسلامک ریپبلک آف افغانستان کے اب گنتی کے دن بچے ہیں۔

اگست کے لیے ہندوستان اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل سربراہ ہے۔ افغانستان کے لوگوں کے لیے ہندوستان کیا کر سکتا ہے؟

ہندوستان کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر ہندوستان نے سارے داؤ ایک ہی متبادل پر نہیں لگائے ہوتے تو وہ کچھ کرنے کی حالت میں ہوتا۔ لیکن اب تو حالات یہ ہیں کہ ہندوستان کو اپنے سفارت خانہ کے لوگوں سمیت مختلف کمپنیوں کے لیے وہاں کام کر رہے لوگوں کو ہی محفوظ نکالنے میں پسینے بہانے پڑ رہے ہیں۔ اگر ہم نے ٹھیک طریقے سے منصوبہ بنایا ہوتا تو ہم نے اپنے لوگوں کو وہاں سے پہلے ہی نکال لیا ہوتا، جب وہاں کے ہوائی اڈوں سے پروازیں آمد و رفت کر رہی تھیں۔ سب سے بڑی بات، اگر امریکہ وہاں کے حالات کو نہیں ٹال سکا تو ہم بھلا ایسا کیسے کر سکتے تھے؟ ہاں، اتنا ضرور ہے کہ ہم بہتر منصوبہ بنا سکتے تھے۔

ہندوستان نے قدم اٹھانے میں تاخیر کیوں کی؟

سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومت نے اسے نظرانداز کیوں کیا۔ گزشتہ کچھ سالوں سے یہ بات صاف تھی کہ طالبان اقتدار میں آئے گا۔ کم از کم دوحہ میں ہوئی بات چیت کے بعد تو یہ ظاہر ہو ہی گیا تھا۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر حکومت نے طالبان کو دھیرے دھیرے دی جا رہی منظوری کو سمجھ لیا تھا تو اس نے کیا کیا۔

کیا ہندوستان کو طالبان جیسے سخت گیر ادارے سے بات چیت کرنی چاہیے؟

وزارت خارجہ کے بیان پر غور کریں۔ اس نے کہا کہ ہم سبھی متعلقین سے بات کر رہے ہیں۔ ہم نے ان میٹنگوں میں حصہ لیا ہے جن میں طالبان بھی تھا۔ اس لیے سوال کسی ’سخت گیر‘ سے بات کرنے کا نہیں۔ افغانستان میں ہمارے کچھ مفادات ہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وہاں موجود ہندوستانیوں اور ہمارے سفارتخانہ میں کام کرنے والوں کی سیکورٹی یقینی بنائے۔

ہندوستان کا طالبان سے بات نہیں کرنا کیا مناسب نہیں رہا؟

ہندوستان نے دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہم ان سے اس لیے بات نہیں کرتے کہ ان کا رویہ بدلنا تھا یا کہ ان کے اور پاکستان کے رشتوں میں دراڑ ڈالنا تھا۔ ہمیں صرف اس لیے بھی بات نہیں کرنی تھی کہ اپنے فیصلے لینے کی حالت میں ہوں، بلکہ اس لیے کہ ہم اس علاقہ کا حصہ ہیں اور ہمیں اچانک متبادل کی کمی کی حالت میں نہیں آنا چاہیے تھا۔

کیا اس سے پاکستان اور چین کو سبقت مل گئی ہے؟

بالکل۔ پاکستان کی حالت اچھی ہوگی تو چین کی بھی ہوگی۔

دو دہائی قبل کے طالبان کا افغانستان پر قبضہ اور اب طالبان کے قبضہ میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟

جب طالبان نے 1996 میں کابل پر قبضہ کیا تھا تو صرف تین ممالک پاکستان، یو اے ای اور سعودی عرب نے اسے منظوری دی تھی۔ لیکن اس بار حالات مختلف ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر کے اور چین، روسی، ترکی، ایران سمیت تمام دیگر ممالک کا سفر کر کے کافی حد تک منظوری حاصل کر چکا ہے۔ یہی سب سے بڑا فرق ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔