سیانہ تشد: آخری دم تک لڑوں گی، شہید انسپکٹر سبودھ کی بیوی کا اعلان

شہید انسپکٹر سبودھ سنگھ کی بیوی رجنی سنگھ کا کہنا ہے کہ ملزمین کو 6 مہینے میں ہی ضمانت ملنا ان کے شوہر کی شہادت کی شکست ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب پولس مشکل حالات میں خود کی جان بچانے کو ترجیح دے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

بلند شہر تشدد میں شہید ہوئے انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی فیملی اب گریٹر نوئیڈا میں رہتی ہے۔ اس فیملی کے لوگ جب تک خود نہ چاہیں، ان سے ملاقات دشوار ہے۔ بہت بھروسے کے لوگوں کو ان کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے اور صرف ان کے قریبی لوگ ہی جانتے ہیں کہ شہید پولس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی فیملی کے رکن کہاں رہتے ہیں۔

بلند شہر میں گئوکشی کے بعد ہوئے تشدد میں انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کا قتل ہو گیا تھا۔ ان کی بیوی رجنی سبودھ سنگھ نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’انھیں جیل سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کے شوہر کے پاس فورس اور اسلحے دونوں تھے، تب انھیں مار دیا گیا۔ انھوں نے آگے کہا کہ جیل سے آزاد ہونے کے بعد میرے شوہر کے قاتلوں کو جس طرح سے مالا پہنائی جا رہی ہے، نعرے لگائے جا رہے ہیں، اس کے بعد میں خود کو بھی محفوظ تصور نہیں کر رہی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ میں اپنے گھر کا پتہ بہت کم لوگوں سے شیئر کرنا چاہتی ہوں تاکہ میں اپنی فیملی کی حفاظت کر سکوں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’مجھے سیکورٹی دی گئی ہے مگر یہ ہمیشہ نہیں رہے گی۔ مجھے کہا جاتا ہے کہ میں زیادہ بات نہ کروں، میڈیا سے دور رہوں۔‘‘

سیانہ تشد: آخری دم تک لڑوں گی، شہید انسپکٹر سبودھ کی بیوی کا اعلان

قتل کے ملزمین کو ضمانت ملنے کے بعد رجنی سنگھ کافی مایوس نظر آ رہی ہیں اور اپنی تکلیف کا اظہار ان الفاظ میں کرتی ہیں کہ ’’میں اب بھروسہ کرنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہی ہوں۔ میرے شوہر جس خاکی کو پہنتے تھے وہی خاکی والے مجھے انصاف نہیں دلا پا رہے ہیں۔‘‘ دراصل بلند شہر تشدد میں شہید ہوئے انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی بیوی بری طرح ٹوٹ چکی ہے۔ ان کے چہرے پر کشیدگی اور لفظوں میں کافی ٹھہراؤ دکھائی دے رہا ہے۔ صرف 6 مہینے میں اپنے شوہر کے قتل کے ملزمین کی ضمانت پر رہائی سے وہ کافی حیران ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں ایک ایسے انسپکٹر کی بیوی ہوں جو دلیلیں پیش کرنے میں ماہر تھا۔ میں سب سمجھتی ہوں کہ دلیلیں مضبوط ہوتیں، سرکاری وکیل مضبوط پیروی کرتے تو یہ زندگی بھر جیل سے نہ آتے، مضبوط دلیل میں کئی بار ملزمین کو ضمانت نہیں ملی ہے اور جیل سے سیدھے سزا بھی ہوئی ہے۔‘‘

رجنی سنگھ اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’افسوسناک ہے کہ خود پولس اپنے انسپکٹر کو انصاف نہیں دلا پا رہی ہے۔ میرے شوہر نے اپنی ملازمت کے دوران بے حد ایمانداری سے کام کیا اور مظلوموں کی مدد کی اور سیاسی دباؤ کو درکنار کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ لیکن آج ان کے ساتھ گندی سیاست ہو رہی ہے۔ جو لوگ کچھ کر سکتے ہیں وہ خاموش ہیں اور جو کچھ نہیں کر سکتے وہ بے بس ہیں، رو رہے ہیں۔‘‘

رجنی سنگھ نے مزید کہا کہ ’’ہم اس لڑائی کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ میں آخری دم تک لڑوں گی۔ آخری دم تک اپنے شوہر کے قاتلوں کو سزا دلانے کی کوشش کروں گی۔ سرکار کو اس ضمانت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جانا چاہیے اور حکم کو منسوخ کرانا چاہیے اگر حکومت ایسا نہیں کرتی ہے تو میں خود ایسا کروں گی۔ میں ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کروں گی۔‘‘

رجنی مانتی ہیں کہ پولس سے انھیں سپورٹ ملا لیکن انھیں انصاف کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں نے بڑے افسران کو بتایا، ان سے مدد مانگی۔ جب تک پربھاکر چودھری ایس ایس پی بلند شہر رہے اس وقت تک ہمیں ان سے بہت امیدیں تھیں۔ ان کے رہتے کارروائی اثردار طریقے سے چل رہی تھی۔ دو مہینے میں ہی ان کا تبادلہ ہو گیا اور اس کے بعد چیزیں کافی بدل گئیں۔ ان کو ہٹایا نہیں جانا چاہیے تھا۔‘‘

رجنی سنگھ اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کے قتل کے ملزمین کو 6 مہینے میں ہی ضمانت ملنا ان کے شوہر کی شہادت کی شکست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب پولس مشکل حالات میں خود کی جان بچانے کو ترجیح دے گی۔ تاریخ سے سیکھ کر کوئی ان کے شوہر سبودھ کی طرح اپنی جان پر نہیں کھیلے گا۔ رجنی سنگھ نے مقامی لیڈروں کے رویہ پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’لیڈروں نے ووٹ کے لیے انسانیت کو کچل دیا۔ وہ قاتلوں کے حق میں سفارش کرتے رہے۔ انھوں نے دھرنے دیئے اور پیروکاری کی۔ لیکن مجھے پولس سے شکایت ہے۔ پولس میں اپنے ساتھی کے لیے کیا کیا۔ ابھی تو صرف 6 مہینے ہوئے ہیں۔ ابھی تک تو ان کی ضمانت پر سماعت بھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘

غور طلب ہے کہ 3 دسمبر کو بلند شہر کے سیانا تھانہ کے تحت مہاب گاؤں میں گئو نسل کی باقیات ملنے پر ہنگامہ ہو گیا تھا۔ اسی دن بلند شہر میں مسلمانوں کا ایک بڑا مذہبی انعقاد تھا جس میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی تھی۔ ہنگامہ کے دوران کئی پولس اہلکاروں کو جان بچا کر بھاگنا پڑا تھا۔ چنگراوٹھی چوکی میں بھیڑ نے آگ لگا دی تھی۔ موقع پر نبرد آزما ہو رہے سیانا کوتوال سبودھ کمار سنگھ کا قتل کر دیا گیا تھا۔ ہنگامہ میں شامل 44 مختلف ہندو تنظیموں سے جڑے کارکنان گرفتار کیے گئے تھے۔ ان میں بجرنگ دل کا ضلع کنوینر یوگیش راج اور بی جے پی یوتھ مورچہ کا سٹی پریسیڈنٹ شکھر اگروال بھی تھا۔ گئوکشی کے بھی 9 ملزمین کو پولس نے گرفتار کیا جن سبھی پر این ایس اے لگایا گیا جب کہ ان 44 لوگوں پر پولس نے ملک غداری کی کارروائی کی۔

انسپکٹر کے قتل کے الزام میں جیل گئے بی جے پی یوتھ مورچہ کے سربراہ شکھر اگروال اور جیتو فوجی سمیت 7 لوگ اب باہر آ گئے ہیں۔ ان کے جیل سے باہر آنے کے بعد زوردار استقبال کیا گیا اور ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے گئے۔ شہید انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی فیملی اس سے بہت مایوس ہے۔

Published: 28 Aug 2019, 7:10 PM
next