بہار کو رام بھروسے چھوڑ ’سیلف کوارنٹائن‘ ہو کر اسمبلی الیکشن جیتنے کا نمبر تیار کر رہے نتیش کمار: اخترالایمان

اخترالایمان کا کہنا ہے کہ جہاں کورونا کو لے کر موجودہ وقت میں لوگ ایک دوسرے سے دوریاں بنا رہے ہیں، لوگ فیملی سمیت کوارنٹائن ہیں، اور ایسے وقت میں الیکشن کرانا واقعی میں دھاندلی کو فروغ دینا ہے۔

 اخترالایمان, تصویر نیاز عالم
اخترالایمان, تصویر نیاز عالم
user

نیاز عالم

آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے بہار ریاستی صدر اخترالایمان بہار کی نتیش حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے سیلاب سے پیدا سنگین حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کئی بستیاں کٹ گئی ہیں۔ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں لیکن ان تک راحت نہیں پہنچ رہی۔ سیلاب میں نقصان کو لے کر سب کچھ ظاہر ہے، اس کے باوجود سیلاب متاثرین کو حکومت کسی طرح کا معاوضہ نہیں دے رہی ہے۔ مصیبت کے اس وقت میں بھی سیمانچل کے لوگوں کے ساتھ بہار حکومت انصاف نہیں کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی اخترالایمان نے قومی آواز کے نمائندہ سے بات چیت کے دوران ریاست میں کورونا کی صورت حال اور آئندہ اسمبلی انتخابات کے بارے میں کھل کر اظہارِ رائے کیا۔ پیش ہیں اس کے اہم اقتباسات...

سب سے پہلے یہ بتائیں کہ بہار الیکشن میں اے آئی ایم آئی ایم کا ایشو کیا ہے؟

دیکھیے، اے آئی ایم آئی ایم کا ایشو کوئی نیا نہیں ہے۔ ایم آئی ایم کی بنیادی لڑائی انصاف اور حقوق کی ہے۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ نظامِ قانون ہندوستانی آئین کے مطابق کام کرے۔ سبھی مذہب، ذات اور سماج کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ملک میں لوگوں کو جینے کا حق ہی نہیں بلکہ عزت سے جینے کا موقع دیا جائے۔ ویسے بہار اسمبلی الیکشن میں کئی اہم ایشوز ہیں۔ ان میں محروم طبقہ کے حقوق، سیمانچل کے علاقوں کی پسماندگی، فرقہ پرست اور بدعنوان حکومت کو ہٹانا ہے۔ لیکن بنیادی ایشو یہی ہے کہ انصاف کے ساتھ ہندوستانی آئین کو نافذ کیا جائے۔ بہار کے ضمن میں ایم آئی ایم چاہتا ہے کہ فرقہ پرست حکومت کا خاتمہ ہو۔ یہاں پر سبھی طبقہ کو برابری کا حق ملے۔ اقلیتی سماج کی جو حق ماری ہوئی ہے، اس پر خاص توجہ دی جائے۔ اقلیت اکثریتی علاقوں اور اس سماج سے آنے والے لوگوں کو خصوصی پیکیج دیا جائے۔

کورونا بحران کو لے کر بہار کی حالت اور حکومت کے کاموں پر آپ کا کیا رد عمل ہے؟

دیکھیے، کورونا کے معاملے میں پورے ملک میں حکومت بہار سب سے پھسڈی ثابت ہو رہی ہے۔ ایک تو یہ کہ جب کورونا کو لے کر پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہوا تو دوسری ریاست میں پھنسے بہار کے لوگوں کو عزت کے ساتھ واپس بہار آنے نہیں دیا گیا۔ لوگوں کو بے عزت کیا گیا۔ پولس نے ڈنڈے برسائے۔ لوگ بھکمری کا شکار ہوئے۔ کسی طرح سے لوگ بھوکے پیاسے اپنے گھر پہنچے۔ اور جب گھر پہنچے تو کورونا کے لیے بہار حکومت نے جو کوارنٹائن سنٹر بنائےتھے، وہ کہیں سے بھی لوگوں کو بہتر طریقے سے رکھنے کے لائق نہیں تھے۔ باہر سے آئے بہار کے کمانے والے لوگ جو بہار کی تقدیر بدلنے کے لیے دوسری ریاست میں گئے تھے، ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں پر نظامِ صحت پوری طرح سے چرمرایا ہوا ہے۔ وینٹی لیٹر کی بات تو دور، یہاں مریضوں کو آکسیجن کا سلنڈر بھی نہیں مل رہا ہے۔ اسپتال میں ڈاکٹر نہیں ہیں، نرسنگ اسٹاف نہیں ہے۔ جہاں ڈاکٹر موجود بھی ہیں وہاں لاپروائی کی جا رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج خبروں میں بہار میں کورونا کے جتنے کیسز بتائے جا رہے ہیں، اصلیت میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حکومت ٹھیک سے جانچ تک نہیں کروا پا رہی ہے۔ بہار میں ایمس اور پی ایم سی ایچ جیسے بڑے اسپتال کی حالت بھی خراب ہے۔ کہیں پر بھی کوئی یونٹ ٹھیک سے کام کرنے کے لائق نہیں ہے۔ خود بہار کے مکھیا نتیش کمار نے سیلف کوارنٹائن ہو کر بہار کو رام بھروسے چھوڑ دیا ہے۔ کمرے میں بیٹھ کر آئندہ اسمبلی انتخاب جیتنے کے اعداد و شمار تیار کر رہے ہیں۔ نتیش کمار کو بہار کے ان لوگوں کی ذرا بھی فکر نہیں ہے جو کورونا کا شکار ہو رہے ہیں۔

مہاجر مزدوروں کی آپ نے بات کی۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہار واپس آئے مزدوروں کی پوری طرح سے مدد کرنے کا دعویٰ نتیش حکومت لگاتار کر رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لوگوں کو راحت پہنچانے میں اب تک تقریباً 8400 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ سرکاری دعووں میں آپ کتنا صحیح مانتے ہیں؟

دیکھیے، سرکاری اعداد و شمار اور دعوے پوری طرح سے جھوٹے ہیں۔ مدد کے نام پر 15-10 فیصد لوگوں تک بھی راحت نہیں پہنچی ہے۔ یہ پوری طرح سے مضحکہ خیز ہے۔ مئی کے مہینے میں ہی حکومت نےا علان کیا تھا کہ دوسری ریاستوں سے لوٹ کر جو بہاری مزدور واپس آئیں گے، انھیں منریگا کے تحت کام دیا جائے گا۔ لیکن آپ کو سن کر حیرانی ہوگی کہ 15 جون کے بعد منریگا کا کوئی کام نہیں ہو سکا ہے۔ اس کے علاوہ اس بار مانسون جلد آنے کی وجہ سے اتنی بارش ہو گئی کہ مزدوروں کو کوئی کام نہیں دیا جا سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو مزدور لاک ڈاؤن کی وجہ سے واپس آئے تھے، اپنی اور اپنی فیملی کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے واپس ان ریاستوں میں دوبارہ گئے جو پہلے سے ہی کورونا کے لیے ہاٹ اسپاٹ بنے ہوئے ہیں۔ دراصل بہار حکومت کی کتھنی اور کرنی میں بہت فرق ہے۔ یہ جملے باز لوگ ہیں، صرف میڈیا بازی کرتے ہیں اور عملی زندگی میں کچھ نہیں کرتے۔

آپ سیمانچل سے آتے ہیں جہاں اس وقت سیلاب کی خطرناک صورت ہے۔ آپ متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں، لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے کیا سرکاری انتظام آپ نے دیکھا؟

دیکھیے، شمالی بہار میں آیا سیلاب قدرتی آفت سے زیادہ حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ سیمانچل، نیپال کے ذیلی علاقے سمیت شمالی بہار کے علاقے میں سیلاب اور طغیانی کرتی ندی کی تیز دھار کی وجہ سے کٹاؤ کے حالات ہیں۔ آزادی کے 72 سال بعد بھی ان ظالم حکومتوں نے سیلاب مینجمنٹ کے نام پر کوئی کام نہیں کیا۔ فلڈ فائٹنگ کے لیے کروڑوں اور اربوں روپے کا بجٹ آبی وسائل محکمہ ڈکار جاتا ہے۔ محکمہ کے ذریعہ فلڈ لائٹنگ کے نام پر کچھ کام کیے جاتے ہیں، پھر دکھاوے کے لیے اس کی فوٹوگرافی کر لی جاتی ہے۔ دراصل پورا کا پورا بجٹ بغیر حساب کتاب کے لوٹا جا رہا ہے۔ شمالی بہار سیلاب سے بری طرح سے تباہ ہے۔ ہر سال لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین ندی میں سما جاتی ہے۔ لوگ بے بسی اور لاچاری کے حالات میں ہیں۔ حکومت ان کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔ اس وقت کئی بستیاں کٹ گئی ہیں۔ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں لیکن ان تک راحت نہیں پہنچ رہی۔ سیلاب میں نقصان کو لے کر سب کچھ طے ہے، اس کے باوجود سیلاب متاثرین کو حکومت کسی طرح کا معاوضہ نہیں دے رہی ہے۔ مصیبت کے اس وقت میں بھی سیمانچل کے لوگوں کے ساتھ بہار حکومت انصاف نہیں کر رہی ہے۔

نتیش کمار اور این ڈی اے کی حکومت ہمیشہ ترقیاتی کاموں کی بات کرتی ہے، اس پر آپ کا کیا رد عمل ہے؟

ان لوگوں کے ‘وکاس’ کے جملے کی حقیقت یہ ہے کہ این ڈی اے نے ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دیا ہے۔ مذہبی نفرت کا ‘وکاس’ (ترقی) کیا ہے۔ انھوں نے صرف اور صرف فرقہ واریت اور ہندو مسلمانوں کے درمیان نفرت اور دشمنی کا ‘وکاس’ کیا ہے۔ ملک کی حقیقی ترقی کے لیے ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

اسپتال میں آکسیجن نہیں ملنے کی وجہ سے کورونا متاثرین کی لگاتار موت ہو رہی ہے۔ دوسری طرف نتیش حکومت ریکوری ریٹ کے بہتر ہونے کی بات کر رہی ہے۔ کیا کہیں گے؟

صرف ہمارے کشن گنج میں آکسیجن کی کمی سے چار لوگ تڑپ تڑپ کر مر گئے ہیں۔ جہاں تک حکومت کے کورونا مریضوں کے ریکوری ریٹ (صحتیابی کی شرح) کے بہتر ہونے کی بات ہے تو میڈیا پر ان کا قبضہ ہے۔ یہ صرف منھ بجاتے ہیں۔ یہ باہر نکل کر نہیں آتے جب کہ زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ کورونا کے مریضوں کو تو چھوڑیے، یہاں تو عام مریضوں کو علاج کے لیے ڈاکٹر اور اسپتال نہیں مل رہے۔ پرائیویٹ کلینک اور نرسنگ ہوم بند ہیں۔ سرکاری ڈاکٹر منمانی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوٹی سے غائب ہیں۔ کشن گنج کی بات کریں تو یہاں آبادی کے مطابق 150 ڈاکٹرس ہونے چاہئیں، لیکن صرف 27 ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جھوٹے اعداد و شمار پیش کر حکومت میڈیا کے ذریعے اپنی ناکامیوں پر لیپا پوتی کر رہی ہے۔

بہار، خصوصاً سیمانچل کے علاقے میں جرائم کا گراف بڑھتا جا رہا ہے، وہیں نتیش حکومت سُشاسن کا دم بھرتے نہیں تھکتی۔ بہار کے ڈی جی پی صحافی کو گالی دے رہے ہیں۔ بہار میں کرائم کنٹرول اور لاء اینڈ آرڈر پر آپ کی کیا رائے ہے؟

یہاں صرف جرائم کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ جمہوریت کا قتل ہو رہا ہے۔ یہاں ہندوستان کے سیکولرزم اور آئین کی روح کو ہی زخمی نہیں کیا جا رہا بلکہ ان لوگوں نے جمہوریت کی قدروں کو بھی نظرانداز کر جمہوریت کا قتل کر دیا ہے۔ جب سے ان کے ہاتھ میں اقتدار آیا ہے تب سے لوگوں کے ذریعہ چنے گئے نمائندے نہیں بلکہ ان کے نوکرشاہ حکومت کر رہے ہیں۔ کیونکہ سیاست میں دلالی کو جیت مل رہی ہے۔ آج اراکین پارلیمنٹ اور اور اراکین اسمبلی کی بات ایک داروغہ تک نہیں سن رہا ہے۔ یہ سبھی لوگ سیدھے طور پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے جڑے ہیں اور بہار میں منمانی اور افسرشاہی کا ننگا ناچ ہو رہا ہے۔ یہاں رنگدار، ٹھیکیدار اور پارٹی سے جڑے لوگوں کی حکومت چل رہی ہے، باقی لوگ انصاف کے لیے تڑپ رہے ہیں۔

ایسا کہا جاتا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم جہاں سے الیکشن لڑتی ہے وہاں بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کے پارٹی کے بہار الیکشن لڑنے سے بی جے پی-جے ڈی یو کو فائدہ پہنچے گا؟

اب ان نادانوں کو کیا کہا جائے۔ سورج نکلنے سے چمگادڑ اندھا ہو جاتا ہے تو یہ سورج کا قصور ہے یا چمگادڑ کا! جن نادانوں کی طرف سے یہ بات آپ کو کہی جا رہی ہے، ان کو ذرا تلنگانہ کی طرف آنکھیں کھول کر دکھائیے کہ اگر ایم آئی ایم کے الیکشن لڑنے سے بی جے پی جیت جاتی تو سب سے پہلے تلنگانہ میں ان کی جیت ہوتی۔ اگر مسلم قیادت کے کھڑے ہونے سے بی جے پی کی جیت ہوتی تو سب سے پہلے کیرالہ میں انھیں جیت ملتی۔ ان کم عقل لوگوں تک ہماری یہ بات پہنچا دیجیے کہ یو پی میں کوئی مسلم قیادت کھڑی نہیں ہوئی تو وہاں لوک سبھا کی 80 میں سے 78 سیٹیں بی جے پی اور این ڈی اے کو کیسے مل گئیں۔ بہار لوک سبھا الیکشن کے دوران بھی 40 میں سے صرف ایک سیٹ پر ایم آئی ایم نے الیکشن لڑا تھا اور وہیں پر بی جے پی کو کامیابی نہیں ملی، بقیہ 39 سیٹیں بی جے پی اور این ڈی اے کے حصے میں گئیں۔ دراصل ان میں کچھ دلال میڈیا اور اقلیتوں کا خون چوس کر سیاست کرنے والی پارٹیاں اور اقلیتوں کی قیادت سے گھبرانے والی پارٹیوں کی طرف سے اس طرح کی افواہوں کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ ایسی پارٹیاں سمجھ رہی ہیں کہ غلاموں کی آبادی اب اپنی قیادت تلاش کر رہی ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ سیاست میں جس قوم نے اپنی قیادت تلاش کی ہے ان کی حالت بدلی ہے۔ لالو پرساد کے ذریعہ یادووں کی، رام ولاس پاسوان کے ذریعہ پاسوان سماج کی، اور اتر پردیش میں مایاوتی کے ذریعہ دلت سماج کی، تو کیرالہ میں مسلم لیگ کے ذریعہ مسلم سماج کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ اس لیے یو پی اور بہار جیسی دوسری ریاستوں میں اگر مسلم سماج کو اپنا حق چاہیے تو انھیں اپنی قیادت تلاش کرنی ہوگی۔

آپ کو اگر این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کے لیے کہا جائے تو کیا کیجیے گا؟

پنجتن کا طریقہ یہی ہے کہ بڑے دشمنوں کے مقابلے انسان چھوٹے دشمنوں کے قریب جاتا ہے۔ مجبوری ہو تو چھوٹی برائی کو قبول کر انسان بڑی برائی سے بچتا ہے۔

آپ بڑی برائی کس کو مانتے ہیں؟

یقیناً جس کو ہر کوئی مانتا ہے۔ جس نے ہندوستانی آئین کو نقصان پہنچایا۔ جن کی پیشانی پر فرقہ واریت کا داغ ہے۔ جو لوگ اقلیتوں کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں۔ این ڈی اے اسی کا نام تو ہے۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا آپ اس وقت بہار میں الیکشن کو درست مانتے ہیں؟

دیکھیے، صحیح وقت کا مطلب صرف مدت کار نہیں ہے بلکہ وقت اور حالات بھی بہتر ہونے چاہئیں۔ جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیے صرف وقت سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ جب تک حالات معمول پر نہ آ جائیں، اس وقت تک انتخاب کرانا کہیں سے بھی مناسب نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جہاں کورونا کو لے کر موجودہ وقت میں لوگ ایک دوسرے سے دوریاں بنا رہے ہیں، لوگ فیملی سمیت کوارنٹائن ہیں، اور ایسے وقت میں الیکشن کرانا واقعی میں دھاندلی کو فروغ دینا ہے۔ اور یہ بے رحم لوگ، جو لاشوں کی تجارت اور خون کی ہولی کھیل کر گدی حاصل کرتے رہے ہیں، وہی الیکشن کرانے کی بات کریں گے۔ جنھیں عام لوگوں کی بہتری کی فکر ہے وہ انسان اقتدار اور کرسی کے بارے میں نہیں بلکہ عام انسانوں کی بھلائی کے بارے میں سوچے گا۔ جہاں تک صدر راج کی بات ہے، تو اگر آئین میں گنجائش ہے اور وقت و حالات ایسے ہیں تو اس کے مطابق فیصلہ لیا جائے۔

Published: 3 Aug 2020, 7:25 PM
next