سیاست، اقتدار اور کرسی کے بغیر نہیں رہ سکتے نتیش کمار: پپو یادو

پپو یادو کا کہنا ہے کہ میں حلف نامہ دینے کے لیے تیار ہوں کہ 3 سال میں بہار کو نمبر وَن بناؤں گا۔ تمام اعلانات کے لیے حلف نامہ دوں گا اور طے وقت پر نہیں کر پایا تو سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا۔

تصویر نیاز عالم
تصویر نیاز عالم
user

نیاز عالم

کورونا بحران کے درمیان بہار میں انتخابی ہلچل شروع ہو چکی ہے۔ کچھ پارٹیوں نے ورچوئل اور ڈیجیٹل ریلی کا آغاز کر دیا ہے تو کچھ آئندہ دنوں میں کرنے والی ہیں۔ اس درمیان 'جن ادھیکار پارٹی' کے سربراہ پپو یادو نے ورچوئل اور ڈیجیٹل ریلی کی مخالفت کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ورچوئل اور ڈیجیٹل ریلی سے محض 30-20 فیصد لوگوں تک پہنچا جا سکتا ہے، اس لیے انتخابی تشہیر ویسی ہونی چاہیے جیسے کہ پہلے ہوتی رہی ہے۔ 'قومی آواز' کے نمائندہ نیاز عالم نے پپو یادو سے بہار کے موجودہ حالات، کورونا بحران اور انتخابی سرگرمیوں سے متعلق خصوصی گفتگو کی۔ پیش ہیں اس کے اہم اقتباسات...

بہار میں صورت حال 'کورونا دھماکہ' جیسی بن رہی ہے اور برسراقتدار طبقہ ورچوئل و ڈیجیٹل ریلی کے ذریعہ انتخابی موڈ میں نظر آ رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی 7 اگست کو اس کی شروعات کرنے والے ہیں۔ کیا ریاستی حکومت کورونا کی فکر چھوڑ کر کرسی کی فکر میں ڈوبی ہے؟

دیکھیے، جب دہلی یا دیگر ریاستوں نے لوگوں کے مسائل پر فوکس کیا تو انھوں نے اس پر جیت حاصل کی اور قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھتے گئے۔ دوسری طرف بہار میں ایک شخص جسے لوگوں نے 15 سال تک بھگوان مان کر اقتدار پر بٹھایا، وہ اتنا بے حس ہے کہ کسی بھی بڑے بحران میں اس کا چہرہ سامنے نظر نہیں آتا۔ کورونا بحران میں تو انھوں نے مئی تک لوگوں کو روک دیا تھا۔ باہر سے پولسیا لاٹھی کھاتے کھاتے یہاں تک آئے بہار کے لوگوں کو سرحد پر بھی لاٹھی کھانی پڑی۔ شروع سے ہی عوام کے تئیں ان کا رویہ مایوس کن ہی نہیں بلیک میلنگ والا رہا۔ پی ایم مودی نے بھی 4 مہینے تک لوگوں کو بٹھا دیا، سڑکوں پر ڈنڈے برسائے، غریبوں کو ایک روپیہ نہیں دیا۔ حد تو یہ ہے کہ لیبر ایکٹ ختم کر دیا۔ بہار بھی اسی طرز پر چل رہا ہے، اور اب الیکشن کا وقت قریب آیا تو میتھلی و بھوجپوری میں ٹوئٹ کر دیا کہ 5 کلو چاول اور 1 کلو چنا دیا جائے گا، گویا کہ بہاریوں کا سودا شروع کر دیا۔ دراصل نتیش کمار سیاست، اقتدار، ووٹ اور کرسی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ان کو بخوبی پتہ ہے کہ جب مظفر پور شیلٹر ہوم میں معصوم بچیوں کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کے باوجود بہار کی حس نہیں جاگی تو ہم جذباتی ایشوز اٹھا کر لوگوں کا ووٹ حاصل کر لیں گے۔ اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ نتیش کمار نے بہار میں کتنا خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ انھوں نے کورونا جانچ کو کم کر دیا یہ بتانے کے لیے کہ ہمارے یہاں معاملے کم ہیں۔ اب یہ جانچ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں لیکن نہ تو بہار میں ضروری تعداد میں وینٹی لیٹر ہیں نہ ہی آئسولیشن وارڈ ہیں۔ مریضوں کو رکھیں گے تو رکھیں گے کہاں! سچائی یہ ہے کہ کورونا وائرس سے لگاتار موت ہو رہی ہے اور یہ لوگ ورچوئل اور ڈیجیٹل دنیا میں مست ہیں۔ یہ بے حسی کا عروج ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا کو لے کر تقریباً 160 کروڑ روپے تو صابن اور ماسک تقسیم کرنے پر خرچ ہو گئے۔ مختلف مدوں میں اب تک کل 8364 کروڑ سے زیادہ کی رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ کیا یہ مدد لوگوں تک پہنچ پا رہی ہے؟

بالکل نہیں۔ بہار حکومت نے لوگوں کو 500-500 روپے بانٹنے کی بات کہی اور وہ بھی زیادہ تر لوگوں کو نہیں ملے۔ میں تو بار بار یہی کہہ رہا ہوں کہ 5 مہینے سے وزیر اعلیٰ گھر سے باہر نہیں نکلے، وہ عوام کے مسائل کیسے سمجھیں گے۔ ہیمنت سورین اور ممتا بنرجی جیسے وزرائے اعلیٰ سڑکوں پر تھے جس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ 4 مہینے سے میں خود سڑکوں پر ہوں، ضرورت مندوں کے درمیان پیسے تقسیم کیے، ان کے اکاؤنٹ میں پیسے ڈلوائے۔ ایک طرف کورونا ہے اور دوسری طرف سیلاب نے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ لوگ پریشان ہیں۔ ان کے پاس راشن نہیں، علاج کے لیے ڈاکٹر نہیں، آئسولیشن وارڈ نہیں۔ سیلاب متاثرین کی مدد نہیں کی جا رہی لیکن ورچوئل اور ڈیجیٹل ریلی پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

شمالی بہار پوری طرح سیلاب کی زد میں ہے۔ آپ بھی اسی علاقے سے آتے ہیں اور لگاتار متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں، کیا ایسے علاقوں میں ریاستی حکومت امداد نہیں کر رہی؟

دیکھیے، حکومت کہیں ہے ہی نہیں۔ موتیہاری میں دو پشتے ٹوٹ گئے۔ ذات اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو راشن نہیں دیا جا رہا۔ صرف ووٹ بینک کی طرف دھیان ہے اور باقی چیزیں بھگوان بھروسے ہیں۔ کملا، گنڈک، باگمتی، کوسی، مہانندا سمیت شمالی بہار کی تمام ندیوں میں زبردست طغیانی ہے۔ پھر بھی حکومت مست ہے کیونکہ فلیٹ فائٹنگ کے نام پر شمالی بہار دودھارو گائے ہے۔ یہ پھر سے متھلانچل اور سیمانچل کو لوٹیں گے۔ یہ پوری طرح سے پالیٹیکل ڈیزاسٹر ہے اور یہی انتخابی فنڈ اکٹھا کریں گے۔

کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بہار حکومت پوری طرح سے سیاسی پلیٹ فارم سیٹ کرنے میں مصروف ہو گیا ہے اور اسی لیے کورونا و سیلاب جیسے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے؟

میں نے پہلے ہی کہا کہ یہ سب کچھ انتخابی فنڈ کے لیے ہو رہا ہے۔ کوئی مکھیا کو 9 لاکھ روپے دئیے جانے کی بات کہہ رہا ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ ایک لاکھ روپے دئیے گئے، تو کوئی بتا رہا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ ملے۔ ضرورت مند سے جب پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو صابن ملا ہی نہیں۔ دراصل یہ لوگ موت کے سوداگر ہیں۔ انھیں پتہ ہے کہ موقع ملنے پر کیا کرنا ہے، پانچ سو یا ہزار روپے دے کر کس طرح کسی کو خریدنا ہے۔ ٹی وی چینل اور اخبار کو کیسے مینیج کرنا ہے تاکہ عوام کو ورغلا سکیں۔ یہ خرچ پوری طرح سے لوٹ ہے اور اس کی سی بی آئی جانچ ہونی چاہیے۔

کس طرح کی جانچ چاہتے ہیں پپو یادو؟

جیسا کہ میں نے پل اور سیلاب کے متعلق بات کی۔ 8 سال میں کون کون پی ڈبلیو ڈی کے وزیر اور افسر رہے ہیں، ان کی ملکیت کی جانچ ہو۔ محکمہ زراعت کے معاملے کی جانچ ہو۔ سیلاب گھوٹالہ سب سے بڑا گھوٹالہ ہے، اس کی جانچ ہونی چاہیے۔ یہ گھوٹالہ 'سریجن گھوٹالہ' سے بھی بڑا ہے۔ اس کی جانچ سی بی آئی اور چیف جسٹس کے ذریعہ ہونی چاہیے۔

نتیش کمار کی 15 سالہ حکومت میں بہار کی ترقی کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ترقی کہاں ہوئی ہے۔ بہار ترقی کے معاملے میں دنیا کے سب سے نچلے پائیدان پر ہے۔ تعلیم، روزگار، صنعت سبھی معاملے میں بہار سب سے نیچے ہے، ہاں جرم اور ہجرت کے شعبہ میں بہار دیگر ریاستوں کے مقابلے میں اوپر ہے۔ بہار اس وقت ریپسٹ اور مرڈرر بن چکا ہے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ حکومت ہند کی رپورٹ کہہ رہی ہے۔ اگر لالو پرساد نے اے کے 47 والے دس جرائم پیشہ کو ٹکٹ دیا تو نتیش کمار اے کے 47 والے 20 جرائم پیشہ کو ٹکٹ دیں گے۔ جرائم پیشہ اور مافیا کے دم پر ہی حزب اقتدار اور حزب مخالف کی سیاست آگے بڑھ رہی ہے۔

خود کو اٹوٹ کہنے والے بہار این ڈی اے میں بھی انتشار کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ چراغ پاسوان کا بیان بھی بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ رام ولاس پاسوان اپنے بیٹے چراغ کو نتیش کمار کے متبادل کی شکل میں پیش کرنا چاہتے ہیں؟

یہ تو رام ولاس پاسوان ہی بہتر جانیں۔ لیکن ہاں، میں یہ ضرور کہوں گا کہ صحیح کہیں بھی نہیں ہے، نہ اِدھر اور نہ ہی اُدھر۔ کسی دلت کو تو بی جے پی بھی وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی ہے۔ نتیش کمار کو 15 سال ہو گئے ہیں، اب دوسری پارٹی کو بھی موقع ملنا چاہیے۔ میں چاہتا ہوں کہ چراغ پاسوان جیسے لوگ آگے آئیں تاکہ کچھ نیا دیکھنے کو ملے، بہار میں بدلاؤ آئے۔

لاک ڈاؤن کے دوران آپ لگاتار غریبوں و مزدوروں کی مدد کرتے نظر آئے۔ پھر بھی الزام ہے کہ پپو یادو پیسے تقسیم کر اپنا انتخابی خواب پورا کرنے میں مصروف ہیں۔ آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ کورونا کا خوف سب کو ہے تو کیا مجھے نہیں ہے۔ میں کیا آسمان سے اترا ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ میری خدمت کا طریقہ نیا نہیں ہے۔ کینسر اور برین ٹیومر جیسی سنگین بیماریوں کے مریض کی ہمیشہ مدد کرتا رہتا ہوں۔ ہمارے یہاں سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں گیا۔ میں ان لوگوں کی طرح نہیں جو انتخاب کے وقت 2000 روپے دے کر اور دو پوری کھلا کر تصویر کھنچواتے ہیں، پھر سوشل میڈیا و اخبارات میں سرخیاں بنتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو ہمیشہ لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود اگر ہم مدھے پورہ، سہرسہ، سپول ہار سکتے ہیں تو پھر اس میں سیاست کا کیا مطلب ہے۔ ہر بحران میں پپو یادو لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ میرے جینے کا طریقہ ہے اور یہ سب کو معلوم ہے۔ جو الزام لگا رہے ہیں وہ لوگوں کی مدد کیوں نہیں کرتے، انھیں کس نے روکا ہے۔ موقع تو نتیش کمار کو بھی ملا لیکن انھوں نے عوام کو لاٹھی ماری۔ لوگوں کو جیتے جی مار دیا۔ میری تو پوری زندگی ہی لوگوں کو دینے کے لیے ہے۔

آپ تنہا لیڈر ہیں جو برسراقتدار طبقہ کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے بھی مخالف ہیں۔ آخر آپ کیا چاہتے ہیں؟

میں کسی کے خلاف نہیں ہوں، لیکن 30 سال تک برسراقتدار طبقہ اور اپوزیشن طبقہ دونوں نے حکومت کی۔ انھیں جب موقع ملا تو عوام کے لیے کچھ کیوں نہیں کیا۔ اب تو عوام ایک متبادل چاہتی ہے، ایک نیا بہار چاہتی ہے۔

پپو یادو بہار میں کسی دلت لیڈر کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا امیدوار بنائے جانے کی لگاتار وکالت کر رہے ہیں۔ ایک طرف جیتن رام مانجھی سے آپ کی ملاقات کے چرچے ہوتے رہے ہیں اور دوسری طرف آپ نے چراغ پاسوان کی حمایت کرنے کی بھی بات کہی ہے۔ کیا پپو یادو دلت کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں؟

دیکھیے، اس میں دلت کارڈ کھیلنے والی کیا بات ہے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ 100 میں 90 ہمارا، تو 90 میں 30 دلت ہے نہ۔ 22 انتہائی پسماندہ ہے نہ۔ ویشیہ، یادو، کوئری، کرمی ہی پسماندہ ہے۔ مزید دوسرے لوگ بھی تو ہیں نہ۔ میں دلت کارڈ کیوں کھیلوں! کیا پپو یادو کو وزیر اعلیٰ بننے کا شوق نہیں ہے۔ کیا میں متبادل نہیں ہوں۔ عوام پپو یادو سے سب سے زیادہ پیار کرتی ہے۔ میں 30 سال کے بعد تبدیلی چاہتا ہوں۔ میں تو ہائی کورٹ میں حلف نامہ دینے کے لیے تیار ہوں کہ 3 سال میں بہار کو نمبر وَن بناؤں گا۔ تمام اعلانات کے لیے حلف نامہ دوں گا اور طے وقت پر نہیں کر پایا تو سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا۔ عوام متبادل چاہتی ہے تو میں عزم کے ساتھ متبادل دوں گا، کیونکہ بہار کے لوگ 15 سالوں کی بربادی سے آزادی چاہتے ہیں۔

آپ بہار کو تیسرا متبادل دینا چاہتے ہیں، یشونت سنہا جیسے لیڈر بھی اسی لائن پر چل رہے ہیں۔ ان کے ساتھ بہار کے کئی پرانے لیڈر بھی ہیں اور سب کی اپنی اپنی خواہشات ہیں۔ کہیں یہاں بھی 'زیادہ جوگی-مٹھ اجاڑ' والی حالت نہ بن جائے!

دوسروں کا مجھے پتہ نہیں، انتخاب کے وقت بہت سارے متبادل دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن عوام اپنا خادم اور اپنا بیٹا تلاش کرتی ہے۔ متبادل تو عوام طے کرے گی، کوئی خود میاں مٹھو نہیں بن سکتا۔ یشونت سنہا کو نجی طور پر میں مانتا ہوں، لیکن ان کے ساتھ کے لوگوں کو پورے بہار نے دیکھا ہے۔ ان کے بارے میں مجھے کچھ نہیں کہنا، کیونکہ عوام ان کے بارے میں بہت کچھ کہہ چکی ہے۔

جن اَدھیکار پارٹی کے لیے انتخاب میں اہم ایشوز کیا کیا ہوں گے؟

بہار کو ایشیا میں نمبر وَن بنانا ہے۔ کوئی بچہ مجبوری میں باہر نہ جائے۔ بہار سے ہجرت نہ ہو۔ بیٹی علاج کے لیے رات کے دو بجے بھی بلاخوف و خطر گھر سے باہر نکل سکے۔ انفراسٹرکچر اور انوائرنمنٹ کے معاملے میں بہار دنیا کی خوبصورت ریاست بنے۔ بہار میں تعلیم اور صحت دنیا میں نمبر وَن ہو۔ غریبی کا خاتمہ ہو۔ بچہ مزدوری ختم ہو۔ 3 سے 6 مہینے کے اندر جرائم پیشوں اور مافیاؤں کا نام و نشان مٹ جائے۔ ہر لیڈر کے دفتر، عہدیدار کے گھر اور دفتر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگیں گے۔ پوری طرح سے شفافیت ہوگی۔

آخری سوال، موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بہار میں وقت پر انتخاب ہونا چاہیے یا پھر آپ صدر راج کے حق میں ہیں؟

میں صدر راج نہیں چاہتا، بس یہ چاہتا ہوں کہ انتخاب کا عمل صحیح طریقے سے انجام پائے۔ اس وقت حالات خراب ہیں، خوف کا ماحول ہے۔ ایسے ماحول میں ورچوئل اور ڈیجیٹل ریلی 20 سے 30 فیصد لوگوں تک ہی پہنچے گی، جب کہ 70 فیصد لوگ کچھ جان ہی نہیں پائیں گے۔ کیا حکومت انتخاب کو مذاق بنانا چاہتی ہے۔ پیسے کے دم پر بلیک میلنگ کرنا چاہتی ہے۔ عوام جب ووٹ دینے کے لیے نکلیں گے تو جمہوریت تو خطرے میں پڑ جائے گی۔ 30 سے 40 فیصد ووٹ کے ساتھ جمہوریت کو کس طرح زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ انتخاب ہو لیکن اسی طرح جیسے عام انتخاب ہوتے ہیں۔ انتخابی کمیشن برسراقتدار پارٹی کی طرح کام نہ کرے بلکہ مضبوط جمہوریت کو بچانے کے لیے کام کرے۔

Published: 25 Jul 2020, 7:11 PM
next