سبھی پارٹیوں کو انتخابی تشہیر کا یکساں موقع ملے، محفوظ انتخاب یقینی بنایا جائے: ڈاکٹر مدن موہن جھا

بہار کانگریس صدر ڈاکٹر مدن موہن جھا کا کہنا ہے کہ "کس طرح کی ترقی نتیش کمار کر رہے ہیں وہ تو ستّر گھاٹ پل کے منہدم ہونے سے پتہ چل ہی گیا۔ 263 کروڑ روپے کی لاگت سے بنا پل کچھ ہی دنوں میں گر گیا۔"

تصویر نیاز عالم
تصویر نیاز عالم
user

نیاز عالم

بہار میں کورونا انفیکشن کے لگاتار بڑھتے معاملوں کے درمیان اسمبلی انتخابات کی ہلچل بھی تیز ہو چکی ہے۔ برسراقتدار طبقہ انتخابی تیاریوں میں مصروف ہے اور اپوزیشن لگاتار محفوظ انتخابات کرائے جانے کی وکالت کر رہی ہے۔ اسی درمیان ڈھائی ارب روپے سے زیادہ لاگت سے بنائے گئے ستّر گھاٹ پل کے منہدم ہونے کا معاملہ بھی سیاسی گھمسان کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بہار کی سیاست میں اس وقت کئی ایشوز گرم ہیں جن پر بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر مدن موہن جھا نے 'قومی آواز' کے نمائندہ نیاز عالم سے خصوصی بات چیت کی۔ پیش ہیں اس بات چیت کے اہم اقتباسات...

بہار میں کورونا کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف بی جے پی-جے ڈی یو نے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ورچوئل ریلی شروع کر دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی 7 اگست کو اس کی شروعات کریں گے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ریاستی حکومت کورونا سے جنگ لڑنے کی جگہ کرسی بچانے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئی ہے؟

یقینی طور پر آپ درست فرما رہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے آج حالات انتہائی خطرناک ہیں۔ لوگوں کی جان خطرے میں ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی-جے ڈی یو انتخاب میں الجھا کر لوگوں کا دھیان بنیادی مسائل کی طرف سے بھٹکانا چاہتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ کسی بھی حالت میں مناسب نہیں ہے۔ اس وقت حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے سامنے پیدا مشکلات کا حل نکالے اور ان کی امداد کرے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 21 لاکھ سے زیادہ مزدور دوسری ریاستوں سے بہار لائے جا چکے ہیں۔ 23 لاکھ سے زیادہ نئے راشن کارڈ بنوائے گئے ہیں۔ اب تک کل 8364 کروڑ سے زیادہ کی رقم عوام پر خرچ کی جا چکی ہے۔ کانگریس ان سرکاری دعووں کے بارے میں کیا سوچتی ہے؟

دیکھیے، ہم دیہات میں رہنے والے آدمی ہیں۔ دیہات میں گھومتے ہیں اور یہاں کے لوگوں کے رابطے میں رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت جو اعداد و شمار پیش کر رہی ہے اس میں کہیں بھی زمینی حقیقت نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوا ہے، کچھ لوگوں کو مدد پہنچی ہے لیکن اگر آپ دیہی علاقوں میں جائیں تو دیکھیں گے کہ یہاں لوگ کھانے کے لیے ترس رہے ہیں۔ سرکاری مدد کے لیے لوگ افسروں کے چکر کاٹنے کے لیے مجبور ہیں۔ لوگ پریشان ہو رہے ہیں اور سرکاری افسران تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ جو سرکاری اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں وہ پوری طرح غلط ہیں، کیونکہ زمین پر ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔

سُشان بابو نے جس ستّر گھاٹ پل کا افتتاح کیا تھا وہ 29ویں دن ہی منہدم ہو گیا۔ 15 سالوں میں نتیش کمار کی حکومت بہار میں ہمیشہ ترقی کی بات کرتی نظر آئی ہے، آپ اس حکومت کو 10 میں سے کتنے نمبر دینا پسند کریں گے؟

کس طرح کی ترقی سُشاسن بابو یعنی نتیش کمار کر رہے ہیں وہ تو ستّر گھاٹ پل کے منہدم ہونے سے پتہ چل ہی گیا۔ 263 کروڑ روپے کی لاگت سے بنا یہ پل کچھ ہی دنوں میں گر گیا۔ صرف یہی نہیں، آپ کو یاد ہوگا کہ سال 2018 میں بھاگلپور میں ساڑھے تین سو کروڑ کی لاگت سے بنا پل افتتاح سے ایک دن پہلے ہی منہدم ہو گیا۔ حیرت انگیز طور پر اس کا الزام حکومت بہار کے ایک وزیر نے چوہوں پر عائد کر دیا۔ شکر ہے کہ ستّر گھاٹ پل کے معاملے میں انھوں نے چوہوں کی جان چھوڑ دی۔ سچائی یہ ہے کہ بہار میں ترقی ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے اور صرف لوٹ کھسوٹ والا معاملہ ہے۔ جہاں تک نمبر دینے کی بات ہے تو ایسے معاملے میں ہم اگزامنر ہی نہیں بن پائیں گے۔ اس میں تو زیرو نمبر ہی دیا جائے گا۔

بہار این ڈی اے میں چہرے کو لے کر کوئی تنازعہ نہیں ہے، لیکن مہاگٹھ بندھن میں طویل مدت سے اس پر بات نہیں بن پا رہی ہے۔ کیا تیجسوی یادو کی قیادت کو کانگریس سمیت مہاگٹھ بندھن کے دوسری پارٹیاں قبول نہیں کرنا چاہتیں؟

دیکھیے، این ڈی اے میں تین پارٹیوں کا میل ہے۔ اس میں بھی لگاتار ایل جے پی کے قومی صدر چراغ پاسوان کے ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جس سے سب کچھ ٹھیک معلوم نہیں پڑ رہا۔ مہاگٹھ بندھن میں اچھی بات یہ ہے کہ سبھی کو بولنے کی آزادی ہے، ورنہ چراغ پاسوان نے تو معمولی سی بات پر ایک ضلع صدر کو پارٹی سے نکال دیا۔ اگر آپ اسے تال والا ماحول اور لیڈرشپ کی لڑائی نہیں کہتے تو پھر اللہ ہی مالک ہے۔ جہاں تک مہاگٹھ بندھن کا سوال ہے تو تیجسوی یادو آر جے ڈی لیڈر قرار دے دیئے گئے ہیں۔ ہماری ایک بار بات بھی ہوئی ہے حالانکہ اس سلسلے میں کچھ بات نہیں ہو سکی۔ پھر بھی جب ہم سب ساتھ بیٹھیں گے تو سب کچھ طے ہو جائے گا۔ این ڈی اے میں تو اندر سب کچھ گڑبڑ رہتا ہے لیکن اوپر سے وہ کہتے ہیں'سب ٹھیک ہے'۔ ہم لوگ جو کچھ بھی کریں گے، بالکل پختہ طریقے سے کریں گے۔ اعلیٰ قیادت سے ہدایت لے کر آگے کی کارروائی ہوگی اور ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے یہاں لیڈرشپ کی کوئی لڑائی نہیں ہوگی۔ ہمارے یہاں آپسی ربط میں جو تھوڑی کمی ہے، اسے بھی بہت جلد ٹھیک کر لیا جائے گا۔

آپ نے آپسی ربط کی بات کی۔ جیتن رام مانجھی لگاتار مہاگٹھ بندھن میں کوآرڈنیشن کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، ان کی بات کیوں نہیں سنی جا رہی۔ جیتن رام مانجھی کی مانگ پر بہار کانگریس کی کیا رائے ہے؟

دیکھیے، کوآرڈنیشن تو ضروری ہے۔ اگر لیڈروں کے درمیان کوآرڈنیشن یعنی آپسی ربط نہیں ہوتا ہے یا بڑے لیڈر کسی کام میں مصروف رہتے ہیں تو کوآرڈنیشن کمیٹی بیٹھ کر آپس میں ابتدائی بات چیت شروع کر فیصلہ لیتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی بات درست ہے، لیکن اب جو حالات ہیں اس میں سبھی پارٹیوں کے درمیان کوآرڈنیشن ہو چکا ہے۔ اس لیے کوآرڈنیشن کمیٹی جب بھی بنے، ہم لوگوں کے درمیان کوآرڈنیشن برقرار رہے گی اور ہم لوگ چھوٹے موٹے مسائل کا حل جلد سے جلد نکال لیں گے۔

این ڈی اے لگاتار خود کو اٹوٹ جب کہ مہاگٹھ بندھن کی پارٹیوں میں انتشار و نااتفاقی کی بات کر رہا ہے۔ جیتن رام مانجھی جیسے سینئر اور بڑے قد والے لیڈر کی ناراضگی بھی اس دعوے پر مہر ثبت کر رہی ہے۔ عوام کے درمیان مہاگٹھ بندھن میں 'آل اِز ویل' کا پیغام کیسے پہنچائیں گے؟

دیکھیے، سبھی پارٹی الگ الگ طریقے سے کام کرتی ہے۔ ہم نے بھی اپنی پارٹی کی ڈیجیٹل ممبرشپ کی شروعات کر دی ہے۔ حالانکہ ابھی اس کو شروع ہوئے ہفتہ دن ہی ہوا ہے۔ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ عوام کے مسائل ڈیجیٹل ذرائع سے ہم تک پہنچیں۔ ہمارے لیڈران سونیا گاندھی، راہل گاندھی، شکتی سنگھ گوہل یا دیگر کوئی سینئر لیڈر اپنی بات عوام تک پہنچانا چاہیں تو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعہ سے اسے پہنچا پائیں، یہ کوشش ہم لوگوں نے شروع کر دی ہے۔

آپ نے چراغ پاسوان کی بات کی۔ رام ولاس پاسوان، جن کو سیاست کا 'ماہر موسمیات' کہا جاتا ہے، کیا انھوں نے چراغ پاسوان سے بیان دلوا کر انتخاب کے پہلے موسم جاننے کی کوشش شروع کر دی ہے؟ چراغ پاسوان کے بیانوں کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

بالکل، آپ کی بات میں دَم ہے۔ رام ولاس پاسوان ایک سلجھے ہوئے سیاستداں ہیں اور سبھی باتوں کو سمجھتے ہیں۔ آج جو حالات ہیں وہ اس بات کو بھی سمجھ رہے ہیں کہ عوام این ڈی اے کے خلاف ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی دونوں لائن کھلی رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اپنے بیٹے چرغ پاسوان سے بیان دلوا کر عوام کے موڈ کو سمجھنا چاہ رہے ہوں گے۔ اور جیسےموقع لگے گا اس وقت وہ فیصلہ لیں گے۔

کیا ایل جے پی مہاگٹھ بندھن کا حصہ ہو سکتی ہے؟

دیکھیے، یہ تو مستقبل کی بات ہو گئی۔ یہ تو تب ہوگا جب ایل جے پی این ڈی اے کو چھوڑے گی اور ہمارے ساتھ آنے کی خواہش ظاہر کرے گی۔ اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جا سکتا ہے اور اس طرح کا فیصلہ تو ہمارے اعلیٰ کمان ہی لے سکتے ہیں۔ پہلے وہ چھوڑیں گے اس کے بعد ہی کوئی بات ہو سکتی ہے۔

کیا اے آئی ایم آئی ایم کو آپ مہاگٹھ بندھن یا کانگریس کے لیے خطرہ مانتے ہیں؟

بہار کا جو انتخاب پہلے ہوا ہے اور جو ہوگا وہ صرف دو زاویوں پر ہوگا۔ ایک مرکز کو دیکھ کر اور دوسرا مہاگٹھ بندھن۔ اس میں تیسری لائن کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔ آج کے دور میں عوام بے حد سوچ سمجھ کر ووٹنگ کرتی ہے۔ کسی بھی پارٹی کے لیے تنہا انتخاب لڑنا آسان نہیں۔

کانگریس کے لیے الیکشن میں اہم ایشوز کیا ہوں گے؟

کوئی بھی حکومت ہو، عوام اس کے پرفارمنس کی بنیاد پر اپنا ووٹ دیتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی دوسرا صحیح متبادل دینے میں اہل ہوتا ہے تو عوام حکومت کے خلاف ووٹنگ کرتی ہے۔ مرکز اور بہار میں این ڈی اے کی حکومت ہے جو ہر محاذ پر ناکام ہے۔ اس لیے عوام اس حکومت کو ہٹانے کا ذہن بنا چکی ہے۔ جو بھی متبادل ہم دیں گے، عوام اس کے ساتھ رہے گی۔

آخری سوال، بہار میں کورونا کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ تیجسوی یادو، چراغ پاسوان اور پپو یادو جیسے لیڈر حالات معمول پر آنے تک الیکشن نہیں کرائے جانے کی بات کر رہے ہیں، وہیں جیتن رام مانجھی الیکشن کرانے کے حق میں ہیں۔ بہار کانگریس کیا چاہتی ہے؟ وقت پر انتخاب یا صدر راج؟

دیکھیے، آج جو حالات ہیں، اس سے عوام بے حال ہے۔ بہار میں جانچ کی کوئی بہتر سہولت نہیں ہے۔ روزانہ کورونا کے ہزاروں مریض سامنے آ رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ٹھیک ڈھنگ سے جانچ کی جائے تو اس سے کئی گنا زیادہ کورونا پازیٹو مریض سامنے آئیں گے۔ جس طرح راج بھون، وزیر اعلیٰ رہائش، بی جے پی ہیڈکوارٹر اور دیگر جگہوں پر کورونا پازیٹو مریض سامنے آ رہے ہیں، ایسے ماحول میں الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی پارٹی یا شخص کو نہ تشہیر کرنے میں دقت ہوگی اور نہ ہی عوام کو ووٹنگ کرنے میں کورونا کو لے کر سنگین مسئلہ ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت بالکل ہی کورونا جیسی بیماری کو روکنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ لاک ڈاؤن بھی لگا ہوا ہے اور اسکول و کالج بھی بند ہیں۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے، یہاں تک کہ گھر سے نکلنے کے لیے بھی منع کیا جا رہا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ الیکشن کمیشن ہر حال میں محفوظ انتخابات کو یقینی بنائے۔ ساتھ ہی سبھی پارٹیوں کو یکساں انتخابی تشہیر کا موقع بھی فراہم کرے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک طرف لاک ڈاؤن رہے، حکومت اپنی تشہیر کرتی رہے اور ہمیں اس کا موقع ہی نہ ملے۔ انتخاب سے ہم بھاگ نہیں رہے ہیں، جمہوریت کے لیے اس کا ہونا بہت ضروری ہے، لیکن سب کچھ بہتر انتظام و انصرام کے ساتھ ہونا چاہیے۔

Published: 18 Jul 2020, 6:40 PM
next