انٹرویو: دہلی میں رہ کر بہار کے ضلع سوپول کے اسکول و مدارس میں اردو کی آبیاری کر رہے محمد مہربان علی
بچپن سے ذہین واقع ہوئے مہربان علی کے لیے وہ دن انتہائی خوشیوں والا تھا جب اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر تاریخی جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے شعبۂ عربی میں داخلہ حاصل کیا۔ یہ 2008 کا زمانہ تھا۔

محمد مہربان علی دہلی حکومت کے تحت چل رہے ’ایس بی وی نمبر 1، مولربند اسکول‘ سے منسلک ہیں اور ٹی جی ٹی اردو کے طور پر 9 جنوری 2020 سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کرکٹ اور سیر و سیاحت سے شدید شغف رکھنے والے مہربان علی جب طلبا کو اُردو پڑھاتے ہیں تو ہمیشہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ کسی کو بوریت یا اکتاہٹ کا احساس نہ ہو۔ یعنی وہ تدریس کے لیے طلبا کے درمیان ایک خوشگوار ماحول قائم کرتے ہیں اور نصاب کو دلچسپ انداز میں پڑھاتے ہیں۔ ان کے اسی طریقۂ تعلیم کا نتیجہ ہے کہ اسکول انتظامیہ نے بورڈ امتحانات میں طلبا کی صد فیصد کامیابی پر محمد مہربان کو 3 مرتبہ ’صد فیصد ریزلٹ ایوارڈ‘ سے سرفراز کیا۔

اردو مضمون پڑھاتے ہوئے مہربان علی
مہربان علی کے لیے اس مقام تک پہنچنا بہت آسان نہیں تھا۔ ان کی پیدائش 18 جنوری 1988 کو بہار کے سوپول ضلع واقع بسنت پور میں ہوئی، جو کہ نیپال سرحد سے ملحق ہے۔ وہاں تعلیمی صورت حال بہت اچھی نہیں ہے، لیکن والد سلیم انصاری اور والدہ بی بی سعیدن نے بچپن سے ہی مہربان علی کی تعلیم کا خاص خیال رکھا۔ انھوں نے ہند-نیپال سرحد پر واقع مدرسہ ضیاء العلوم نرسنگھ سے حفظ قرآن کیا اور اردو، انگریزی و ریاضی کی ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ درجہ چہارم تا ہفتم کی تعلیم مدرسۃ الاصلاح (سنسری، نیپال) سے حاصل کی، اور پھر 2002 میں اعظم گڑھ (اتر پردیش) کا رخ کیا جہاں ’مدرسہ جامعۃ الفلاح‘ بلریا گنج سے منسلک ہوئے۔ وہاں مہربان علی نے آٹھویں تا بارہویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کر مولوی و عالمیت کی سند حاصل کی۔
بچپن سے ذہین واقع ہوئے مہربان علی کے لیے وہ دن انتہائی خوشیوں والا تھا جب اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر تاریخی جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے شعبۂ عربی میں داخلہ حاصل کیا۔ یہ 2008 کا زمانہ تھا۔ بی اے کی تکمیل کے بعد اسی یونیورسٹی کے شعبۂ تعلیم سے 12-2011 میں بی ایڈ کی تکمیل کی اور پھر 2014 میں ایم اے کی سند جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے حاصل کی۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ہی ایم فل کے لیے بھی داخلہ مل گیا، لیکن یہ مکمل نہیں ہو سکا کیونکہ ان کی تقرری بحیثیت ٹی جی ٹی عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ’اے بی کے ہائی اسکول‘ (گرلس) میں ہو گئی۔ انہوں نے چند سال علی گڑھ کے سینئر سیکنڈری (گرلس) میں بھی بطور پی جی ٹی تدریسی ذمہ داریاں انجام دیں۔ 2018 میں انھوں نے پی ایچ ڈی کے لیے دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی میں داخلہ لیا اور ڈاکٹر اصغر محمود کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کی سند بھی حاصل کر لی۔

ایک میٹنگ میں شامل مہربان علی اور دیگر افراد
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ مہربان علی اب عربی سے اردو کی طرف رخ کر چکے ہیں اور ایم اے اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (حیدر آباد) سے اکتوبر 2026 میں مکمل بھی کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم اے ایجوکیشن بھی جاری ہے۔ حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ مہربان علی پوری ذمہ داری کے ساتھ تدریسی ذمہ داری بھی انجام دے رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کی ایک کتاب بھی جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ قدیم سے جدید دور تک کی امثال و حکم پر مبنی منتخب عربی اشعار کا اردو ترجمہ انھوں نے کیا ہے، جو اب اشاعت کے مرحلہ میں ہے۔
’ایس بی وی نمبر-1‘ اسکول کی مختصر تاریخ بتائیں۔ اس اسکول کی کوئی انفرادیت ہو تو روشنی ڈالیں۔
یہ اسکول دہلی کے ضلع جنوب-مشرق کے میٹھاپور میں واقع ہے۔ قدیم دستاویزات بتاتے ہیں کہ اسے 1960 سے قبل قائم کیا گیا تھا۔ یہ بدرپور حلقہ اسمبلی کا ایک تاریخی اور مشہور اسکول ہے۔ مولربند گاؤں والوں نے اس کے لیے زمین مہیا کرائی تھی، اس لیے اس کے نام کے ساتھ ’مولربند‘ لگا ہوا ہے. دہلی میں بیشتر اسکول صبح و شام 2 شفٹوں میں چلتے ہیں۔ ایک ہی عمارت میں صبح لڑکیوں کو اور شام میں لڑکوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ البتہ دونوں شفٹس کے اساتذہ و ملازمین الگ ہوا کرتے ہیں۔ صبح و شام کی شفٹوں کو ملا کر ہمارے اسکول سے متصل اس وقت 11 اسکول قائم ہیں، جو وقت کے ساتھ اسی اسکول سے الگ ہو کر بنے ہیں۔ اس طرح ہمارے اسکول کو مدر اسکول (Mother School) کی حیثیت حاصل ہے۔ ان 11 اسکولوں میں 3 ’ایس بی وی‘ (سروودے بال ودیالے) ، 3 ’ایس کے وی‘ (سروودے کنیا ودیالے) ہیں اور باقی ’جی بی ایس ایس ایس‘ (گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول) اور ’جی جی ایس ایس ایس‘ (گورنمنٹ گرلز سینئر سیکنڈری اسکول) ہیں۔ سروودے ودیالیوں میں درجہ اول تا بارہویں جماعت تک کی پڑھائی ہوتی ہے جبکہ سینئر سیکنڈری اسکولوں میں پانچویں جماعت سے اوپر کی تعلیم ہوتی ہے۔
ہمارا یہ اسکول بھی پہلے ’جی بی ایس ایس ایس‘ ہی تھا اور 2008 میں سروودے اسکول میں تبدیل ہوا۔ ایک عرصہ تک ہائر سیکنڈری (11ویں اور 12ویں) میں محض آرٹس کی پڑھائی ہوتی رہی۔ 2008 میں پہلی بار شیلا دیکشت حکومت میں کامرس کی پڑھائی شروع ہوئی اور پھر 2012 میں حلقہ کے اس وقت کے رکن اسمبلی اور موجودہ رکن پارلیمنٹ رام ویر ودھوڑی کی کوششوں سے یہاں سائنس اسٹریم کی شروعات ہوئی۔ ہائر سیکنڈری میں تقریباً 600 طلبا اس وقت زیر تعلیم ہیں۔

طلبا و طالبات کو کچھ ہدایت دیتے ہوئے مہربان علی
اس اسکول میں کس درجہ سے کس درجہ تک تعلیم دی جاتی ہے اور اردو کی تعلیم کا نظم کس درجہ سے ہے؟ اردو کے طلبا اور اساتذہ کی تعداد کتنی ہے؟
اس اسکول میں پہلی تا بارہویں جماعت تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ طلبا کی مجموعی تعداد تقریباً 2700 ہے، جن میں تقریباً 300 مسلم طلبا ہیں۔ فی الوقت چھٹی تا دسویں جماعت تک ہی اردو کی تدریس کا نظم ہے۔ اردو پڑھنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 150 ہے۔ اساتذہ کی مجموعی تعداد 90 ہے جن میں 7 مسلم ٹیچرس بھی ہیں۔ فی الوقت اسکول کو اردو کے 2 اساتذہ دستیاب ہیں۔
آپ نے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی سند عربی زبان میں حاصل کی ہے، لیکن تدریس کے لیے اُردو زبان کا انتخاب کیا۔ کوئی خاص وجہ؟
اردو زبان و ادب سے میرا شغف بچپن سے تھا۔ گریجویشن کے لیے میں نے عربی آنرس ضرور رکھا، لیکن اختیاری مضمون کے طور پر میں نے اردو کا انتخاب کیا تھا۔ 2018 میں ’دہلی سب آرڈینیٹ سروسز سلیکشن بورڈ‘ (ڈی ایس ایس ایس بی) کے ذریعہ جب اردو اساتذہ کی بحالی کا اعلان کیا گیا تو اس میں گریجویشن کے 2 سالوں میں اردو پڑھنے والے امیدواروں کو بھی درخواست دینے کا اہل قرار دیا گیا۔ لہذا میں نے بھی فارم بھرا اور اس کا تحریری امتحان پاس کر لیا۔ بعد ازاں میری بحالی ٹی جی ٹی اردو کی شکل میں ہوئی۔ اب میں پورے شوق اور یکسوئی کے ساتھ بچوں کو یہ مضمون پڑھا رہا ہوں۔

اسکول احاطہ میں مہربان علی
آپ کا تعلق بہار کے سوپول سے ہے، جہاں اُردو کی صورت حال بہت اچھی نہیں۔ وہاں اُردو کے فروغ کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟
بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونے کی وجہ سے سوپول کے تعلیمی نظام میں بھی اردو کی تدریس کو اہم مقام حاصل ہے۔ یہاں اسکولوں میں محکمہ تعلیم کی جانب سے اردو کی تعلیم کا نظم ہے اور کئی ایسے اسکول بھی ہیں جہاں تدریس کا ذریعہ اردو ہے۔ اس کے علاوہ دینی مدارس میں بھی اردو کی تعلیم دی جاتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہاں اردو کی آبیاری انتہائی ضروری ہے۔ سوپول کے جس علاقے سے میرا تعلق ہے وہ کوسی سب ڈویژن میں آتا ہے، جہاں یقیناً اردو کی صورت حال بہت اچھی نہیں ہے۔ اس خطہ میں اردو کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور میں اس طرف خاص توجہ دے رہا ہوں۔ میں سوپول میں قائم اسکولوں، خصوصاً مدارس میں طلبا و انتظامیہ کو اردو پڑھنے پڑھانے کی ترغیب دلاتا رہتا ہوں۔ مدارس میں اردو کو منظم طور پر نصاب میں شامل کرنے اور اس کے جدید طریقۂ تدریس پر موقع بموقع ورکشاپ بھی منعقد کرتا ہوں، نیز اردو میں موجود روزگار کے مواقع سے انھیں آگاہ کرتا ہوں۔ اسی کوشش کے تحت میں نے 22 جون 2025 کو ’دار ارقم اسلامک اسکول، بسنت پور‘ میں ایک ورکشاپ بھی منعقد کیا تھا جس میں اردو اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی تھی۔ سوپول کے کئی مدارس و اسکول سے میں مسلسل رابطے میں ہوں اور ہر طرح کی رہنمائی کرتا رہتا ہوں۔ خاص طور سے جب سوپول جانا ہوتا ہے تو مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کر حالات کا جائزہ بھی لیتا ہوں۔
آپ کو حکومت نے 2010 میں دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران کچھ اہم ذمہ داریاں دی تھیں۔ اس بارے میں کچھ بتائیں، آپ کا وہ تجربہ کیسا تھا؟
19واں دولت مشترکہ کھیلوں کا انعقاد (3 تا 14 اکتوبر 2010) قومی راجدھانی دہلی میں ہوا تھا۔ ان کھیلوں کے بہتر سے بہتر انتظامات کے لیے ہزاروں کی تعداد میں والنٹیرس کے خدمات لیے گئے تھے۔ ان میں ایک نام میرا بھی تھا۔ اس وقت میں بی اے سال آخر کا طالب تھا۔ عربی-انگریزی فوری ترجمہ نگاری کا قدرے درک حاصل ہو چکا تھا اور مجھے عربی-انگریزی مترجم کے طور پر ہی جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں تعینات کیا گیا، جہاں ان کھیلوں کی افتتاحی اور اختتامی تقاریب منعقد ہوئی تھیں۔ پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر غیر ملکی کھلاڑیوں کو دیکھنا اور مختلف ملکوں کے نمائندوں سے ملاقات کرنا میرے لیے بڑی بات تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اس سال ہمارے کھلاڑیوں کی کارکردگی نمایاں رہی تھی اور 18 طلائی تمغوں سمیت انھوں نے مجموعی طور پر 101 تمغے حاصل کیے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
