انٹرویو: ’ہم قوم کے معمار ہیں، ہماری ذمہ داری بڑی ہے اور جوابدہی زیادہ‘، ڈاکٹر محمد منہاج الدین

ڈاکٹر محمد منہاج الدین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں اردو کے بچے بھی آن لائن کلاسز، آن لائن اسٹڈی مٹیریل، یوٹیوب لیکچرز، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی، کینوا وغیرہ کا استعمال جانتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>’گیا کالج، گیا جی‘ کے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر محمد منہاج الدین</p></div>
i

ڈاکٹر محمد منہاج الدین ’گیا کالج‘، گیا جی (مگدھ یونیورسٹی، بودھ گیا) میں صدر شعبۂ اردو ہیں۔ یہاں ان کی تقرری 11 ستمبر 2024 کو ہوئی، اور تب سے ہی وہ اردو کے طلبا میں اس زبان کے تئیں محبت پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ اس وقت وہ شعبہ میں تنہا استاذ ہیں، یعنی تدریسی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انھیں دیگر ذمہ داریاں بھی نبھانی ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ طلبا کی تعلیم میں ذرا بھی نقصان نہیں ہونے دیتے۔ ساتھ ہی ان کا مطالعہ کا شوق بھی دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ وہ رات کی تنہائی میں مطالعہ کرنا پسند کرتے ہیں اور جلد ہی ان کی کتاب ’پروفیسر اختر اورینوی کا لسانیاتی سرمایہ‘ منظر عام پر آنے والا ہے۔ ویسے ان کی مرتب کردہ کتاب ’شہاب ظفر اعظمی کا مطالعہ شعر‘ (شہاب ظفر اعظمی کی شاعری پر لکھے گئے تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ) پہلے ہی منظر عام پر آ چکی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>طلبا و طالبات کو پڑھاتے ہوئے ڈاکٹر محمد منہاج الدین</p></div>

طلبا و طالبات کو پڑھاتے ہوئے ڈاکٹر محمد منہاج الدین

مرحوم محمد زعیم الدین خان اور نجم النسا کے لخت جگر ڈاکٹر محمد منہاج کی پیدائش 30 مارچ 1986 کو بہار کے داناپور واقع ناصری گنج، پٹھان ٹولی میں ہوئی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم پٹھان ٹولی کی جامع مسجد واقع مکتب اور مسجد سے منسلک ’اردو پرائمری اسکول‘ سے حاصل کی۔ بچپن سے ہی انھیں اردو سے انسیت تھی، اس لیے ’بلدیوا ہائی اسکول‘ (داناپور) سے میٹرک اور ’آر پی ایس کالج‘ (داناپور) سے سائنس سبجیکٹ میں انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد ’بی ایس کالج‘ (داناپور) میں بی اے آنرس کے لیے اردو زبان کا انتخاب کیا۔ حالانکہ انھیں اس بات کا خوف ہمیشہ رہا کہ ذریعۂ معاش کے لیے اردو زبان مناسب نہیں ہے، لیکن یہ خوف جلد ہی ختم ہو گیا۔ کالج میں اردو کے استاد پروفیسر اسلام عشرت کی تحریک پر ڈاکٹر محمد منہاج نے آگے کی تعلیم کے لیے پٹنہ یونیورسٹی کا رخ کیا اور 2011 میں ایم اے (اردو) کی سند حاصل کر لی۔ 2012 میں نیٹ-جے آر ایف کے لیے کوالیفائی کرنے سے مزید حوصلہ بڑھا اور اردو زبان میں ہی پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ کیا۔ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کی نگرانی میں انھوں نے یہ مرحلہ بھی طے کیا اور 2019 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُس وقت وہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے خاندان کے ہی نہیں، بلکہ اپنے محلہ کے پہلے فرد تھے۔

———————————————————

<div class="paragraphs"><p>ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد منہاج الدین</p></div>

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد منہاج الدین


’گیا کالج‘ اور اس کے شعبۂ اردو کی بنیاد کب پڑی؟ یہاں شعبۂ اردو کی نشو و نما میں کن شخصیات کا اہم کردار رہا؟

گیا کالج کا قیام 8 فروری 1944 کو ہوا۔ کالج کی ابتدا تاریخی دریائے فلگو کے شمالی علاقہ مانپور واقع محلہ جنک پور میں اخوری پریم ناراین کے مکان سے ہوئی۔ 28 مارچ 1947 کو کالج اپنی عمارت میں منتقل ہوا، جہاں آج 57 ایکڑ کے وسیع و عریض احاطے میں بڑے ہی شان و شوکت سے ملک اور صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

جہاں تک شعبۂ اردو کی بات ہے، کالج کی بنیاد کے ساتھ شعبۂ اردو بھی 1944 میں قائم ہوا۔ اُس وقت پروفیسر معین الدین دردائی شعبہ کے قائم مقام صدر تھے۔ ان کے بعد پروفیسر رفا ہمدانی، پروفیسر اختر قادری، پروفیسر افصح ظفر نے شعبۂ اردو کو بام عروج تک پہنچانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ معروف محقق و ناقد پروفیسر وہاب اشرفی، پروفیسر علیم اللہ حالی اور ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ فکشن نگار پروفیسر حسین الحق نے بھی گیا کالج کے شعبۂ اردو کی علمی شناخت کو مستحکم کرنے اور ادبی مقام متعین کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

یہاں کے طلبا نے بھی اپنی کارکردگی سے شعبے کا نام روشن کیا ہے، جن میں پروفیسر احتشام حسنین (سابق وائس چانسلر، حیدر آباد سنٹرل یونیورسٹی)، محمود احمد (سابق ریجنل ڈائریکٹر، یونائٹیڈ کمرشیل بینک)، شفیع مشہدی (سابق چیئرمین، اردو مشاورتی بورڈ، حکومت بہار)، معصوم عزیز کاظمی (ریٹائرڈ آئی جی، بہار پولس)، پروفیسر جاوید حیات (سابق ڈائریکٹر، ڈی ڈی ای، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ)، پروفیسر زین رامش (صدر شعبۂ، اردو ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ) کے نام نمایاں ہیں۔

انٹرویو: ’ہم قوم کے معمار ہیں، ہماری ذمہ داری بڑی ہے اور جوابدہی زیادہ‘، ڈاکٹر محمد منہاج الدین

گیا کالج، گیا جی کا صدر دروازہ

بیشتر یونیورسٹیز اور کالجز میں شعبۂ اردو طالبات سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس کے پیچھے کیا وجہ نظر آتی ہے؟ اس تعلق سے گیا کالج میں شعبۂ اردو کی کیا صورت حال ہے؟

آپ نے بالکل درست فرمایا۔ آج روایتی مضامین کی صورتحال ہر جگہ یہی ہے۔ کلاسز میں طلبا سے زیادہ تعداد طالبات کی ہی ہوتی ہے۔ یہ صرف اردو کا معاملہ نہیں ہے۔ میں نے اپنے کالج میں یا صوبے کے بیشتر کالجز جنہیں میں جانتا ہوں، ان میں تمام روایتی مضامین کے کورسز (خصوصاً آرٹس کے کورسز) میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ دیکھی ہے۔

میں اگر بہار کے تعلق سے بتاؤں تو یہاں سرکاری کالجوں میں لڑکیوں کے لیے ایم اے تک کی پڑھائی مفت ہے۔ انہیں صرف امتحان کی فیس دینی ہوتی ہے جو بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی دوسری وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارے صوبے میں بیشتر خاندان غریب ہیں یا غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں میٹرک کے بعد لڑکوں کا پہلا مقصد ہوتا ہے کسی طرح ملازمت حاصل کرنا۔‌ ایک طبقہ ایسا ہے جو انجینئرنگ یا کسی دوسرے پروفیشنل کورسز میں داخلہ لے کر جلد از جلد سیٹلڈ ہونا چاہتا ہے۔ بچے ہوئے لڑکے روایتی مضامین میں بی اے اور ایم اے، یا پھر اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آگے پڑھتے ہیں۔

یہ بھی قابل غور ہے کہ ہماری حکومت نے پچھلے 25-20 سالوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے، جس کا فائدہ بھی ہوا ہے۔ لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے میٹرک سے لے کر بی اے تک امتحانات میں کامیابی کے بعد انہیں وظیفے کی شکل میں اتنی رقم دی جاتی ہے جس سے وہ آگے کی پڑھائی بغیر کسی فکر کے بآسانی پوری کر سکیں۔

جہاں تک شعبۂ اردو، گیا کالج کی طالبات کی کارکردگی کا سوال ہے، کئی لڑکیاں آج بہار کے مختلف اسکولوں میں اساتذہ کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ میں ایک ایسی طالبہ کے بارے میں بھی جانتا ہوں جو بہار پولیس میں سلیکٹ ہو چکی ہے۔ گویا کہ شعبۂ اردو میں لڑکیوں کی صرف تعداد زیادہ نہیں ہے، بلکہ وہ بامقصد پڑھائی کر رہی ہیں۔ کم از کم اعلی تعلیم حاصل کر یہ طالبات اپنی نسل کی آبیاری کا اہم فریضہ ضرور ادا کرتی ہیں۔

انٹرویو: ’ہم قوم کے معمار ہیں، ہماری ذمہ داری بڑی ہے اور جوابدہی زیادہ‘، ڈاکٹر محمد منہاج الدین

تقریری مقابلہ میں کامیاب طلبا و طالبات کے ساتھ ’گیا کالج‘ کے اساتذہ


تدریسی میدان میں آپ تقریباً 7 سالوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ کیا آپ کو محسوس نہیں ہوتا کہ اردو کے طالب علم اس زبان کے تئیں وہ محبت نہیں رکھتے جس کی ضرورت ہے؟

نہیں، یہ کہنا غلط ہوگا کہ اردو کے طلبا اردو سے محبت نہیں کرتے۔ یہ سبھی اردو سے محبت کرنے والے ہیں، اسی لیے اردو زندہ ہے۔ ہاں، آپ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کالجز میں جو بچے اردو پڑھتے ہیں، ان میں کچھ کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا ہوتا ہے۔ بیشتر بچے اردو کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ انھیں اس زبان سے لگاؤ ہے۔ اگر استاذ بہتر رہنمائی کریں تو یہ بچے نہ صرف اردو سیکھیں گے بلکہ اردو کے ذریعہ کامیابی کی داستانیں بھی رقم کریں گے۔

بہار میں اردو کے حالات کافی بہتر ہوئے ہیں، اور اس کے لیے حکومت بہار قابل تعریف ہے۔ حکومت نے اردو والوں کے لیے ملازمت کے بہترین مواقع فراہم کیے ہیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچے اردو پڑھ رہے ہیں۔ اردو تو ایسی زبان ہے کہ اگر کوئی ایک بار اچھی طرح سے پڑھ لے، اردو بولنا سیکھ جائے، تو اسے خود بخود اردو سے محبت ہو جاتی ہے۔ اور جنہیں اردو سے محبت ہوتی ہے وہ اردو کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ اردو کی شمع اردو پڑھنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ روشن رہے گی، شرط یہ ہے کہ ہم اساتذہ اپنے تدریسی فرائض ایمانداری سے انجام دیں۔ بچوں کی تعلیم کے ساتھ تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ ہم قوم کے معمار ہیں ہماری ذمہ داری بڑی ہے اور جوابدہی زیادہ ہے۔

انٹرویو: ’ہم قوم کے معمار ہیں، ہماری ذمہ داری بڑی ہے اور جوابدہی زیادہ‘، ڈاکٹر محمد منہاج الدین

تدریسی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر محمد منہاج الدین

کیا ’گیا کالج‘ میں شعبۂ اردو کے طلبا جدید ٹیکنالوجی سے آشنا ہیں؟ انھیں آن لائن کلاسز کرنے میں یا اے آئی کا استعمال کرنے میں کوئی دقت تو پیش نہیں آتی؟

آج کے عام بچوں کی طرح شعبۂ اردو، گیا کالج کے بچے بھی جدید ٹیکنالوجی سے آشنا ہیں۔ اردو کے بچے بھی آن لائن کلاسز، آن لائن اسٹڈی مٹیریل، یوٹیوب لیکچرز، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی، کینوا وغیرہ کا استعمال جانتے ہیں۔ کچھ بچے تو ایسے ہیں جو داخلہ فارم، امتحان فارم یا مقابلہ جاتی امتحانات کے فارم خود سے بھرتے ہیں۔ ہمیں بس ان بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال کا طریقہ بتانا ہوتا ہے۔ میں اکثر بچوں کو کلاس کے دوران لیکچرز میں اے آئی کے صحیح اور مستند استعمال کا طریقہ بتاتا ہوں، انہیں جدید ٹیکنالوجی اور  تعلیم میں معاون سافٹ ویئر کی جانکاری دیتا ہوں۔ ہمارے یہاں بی اے اور ایم اے دونوں کورسز میں بچوں کو ریسرچ پروجیکٹ لکھنا ہوتا ہے۔ میں بچوں کو بتاتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے اردو کمپوزنگ کس طرح کی جاتی ہے۔ میں انھیں لکھے ہوئے پروجکٹ کو بآسانی موبائل میں بول کر ٹائپ کرنے کا ہنر سکھاتا ہوں، جسے وہ بہ آسانی ایم ایس ورڈ میں یا ان پیج میں کنورٹ کر سکتے ہیں۔

جہاں تک آن لائن کلاسز کا سوال ہے، شعبۂ اردو، گیا کالج میں اس کا کامیاب انعقاد ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہاں بیشتر بچے دیہی علاقے سے آتے ہیں، جہاں نیٹورک کے ساتھ ساتھ محدود ڈاٹا بھی بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ اکثر بچے ایسے بھی ہیں جن کی فیملی میں صرف ایک یا دو موبائل ہیں۔ اگر بچے کے پاس موبائل ہے بھی تو اس میں رچارج نہیں ہوتا ہے۔ جو بچے کالج کے آس پاس کے علاقہ یا شہر کے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ بھی موبائل رچارج کا بڑا مسئلہ ہوتا ہے، کیونکہ ان کے گھر کی مالی حالت بہت اچھی نہیں ہوتی۔

انٹرویو: ’ہم قوم کے معمار ہیں، ہماری ذمہ داری بڑی ہے اور جوابدہی زیادہ‘، ڈاکٹر محمد منہاج الدین

’گیا کالج، گیا جی‘ میں ساہتیہ اکادمی کے اشتراک سے منعقد قومی سیمینار بعنوان ’اردو ادب میں آدیواسی تہذیب و ثقافت‘ کے موقع پر شعبہ کے طلبا کی حصہ داری


کیا آپ بہار میں اردو کے موجودہ حالات سے مطمئن ہیں؟ اپنے شاگردوں کو اُردو کے قریب لانے کے لیے ذاتی طور پر آپ کیا کرتے ہیں؟

مجھے لگتا ہے کہ سماجی سطح پر اردو کی صورت حال بہتر ہے، لیکن انتظامی سطح پر حالات تیزی سے بدتر ہو رہے ہیں۔ بیشتر مسلم گھروں میں بچوں کی عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو کی تعلیم پر توجہ دی جاتی ہے۔ کئی والدین تو گھر پر اردو اساتذہ رکھ کر بچوں کو اردو پڑھا رہے ہیں۔ ہمارے مدارس اور مکتب نے بھی اردو کی آبیاری اس طرح کی ہے کہ اردو کے جڑیں دن بہ دن مضبوط ہوتی گئی ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں میں جس طرح حکومت بہار نے اردو کو معاش سے جوڑا ہے، غیر اردو داں طبقہ بھی اپنے بچوں کو اردو پڑھانے پر آمادہ ہوئے ہیں۔ اس لیے اردو کے روشن اور تابناک مستقبل کے تئیں میں پرامید ہوں۔

میں اپنے شاگردوں کو اردو سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ لیکچر کا انداز بات چیت جیسا ہو اور دوران گفتگو تلفظ، املا اور لفظوں کی ادائیگی کا خاص خیال رکھا جائے۔ میں بچوں کی اصلاح بھی کرتا جاتا ہوں۔ علاوہ ازیں میں بچوں کے درمیان مضمون نگاری، مقالہ خوانی، بیت بازی کا مقابلہ کراتا ہوں، انہیں انعامات سے نوازتا ہوں۔ وقتاً فوقتاً کسی ماہر تعلیم، نامور استاذ یا اردو کے معروف شاعر و ادیب کو بلا کر خصوصی لیکچر کا انعقاد بھی کراتا ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ اس طرح کے پروگرام میں تمام ذمہ داریاں بچے ہی نبھائیں۔ نظامت سے لے کر اظہار تشکر تک سارے کام شعبے کے بچے ہی انجام دیتے ہیں، جس سے ان کے اندر کی جھجک ختم ہوتی جاتی ہے۔ ہاں، ایک اور کام ایسا ہے جس پر میں بہت توجہ دیتا ہوں۔ میں سبھی بچوں کو ان کے موبائل میں یا ان کے گھر کے موبائل میں ’اردو کی بورڈ‘ انسٹال کرنے کی صلاح دیتا ہوں۔ انھیں بیشتر واٹس ایپ چیٹنگ اور اردو والے سارے کام اردو رسم الخط میں ہی کرنے کی ترغیب دیتا ہوں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔