انٹرویو: ’تلخ حقائق کو نگلنے کے لیے آرٹ سب سے اثردار اور میٹھی گولی ہے‘، ملیکا سارابھائی

کہانی کہنے کے جشن ’کتھاستو‘ کے بہانے دانش حسین نے جب ملیکا سارابھائی سے طویل بات چیت کی تو سارابھائی کی وراثت تک قصے کہانیوں کے ویسے ہی ذخیرے نظر آئے جن کی بات ’کتھاستو‘ کرتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ملیکا سارابھائی</p></div>

ملیکا سارابھائی

user

قومی آوازبیورو

اپنے رقص میں ماہر اور رقص کے ذریعہ کہانی بیان کرنے کی صلاحیت رکھنے والی مشہور رقاصہ ملیکا سارابھائی کے ساتھ بات چیت کے الگ ہی تجربات ہوتے ہیں۔ بات چیت اگر قصہ گوئی جیسے ہنر کے بہانے ہو تو نئے در کھلنے لگتے ہیں۔ کہانی کہنے کے جشن ’کتھاستو‘ کے بہانے دانش حسین نے جب ملیکا سارابھائی سے طویل بات چیت کی تو آرٹ کو تبدیلی کی زبان کی شکل میں استعمال سے لے کر سارابھائی کی وراثت تک قصے کہانیوں کے ویسے ہی ذخیرے نظر آئے جن کی بات ’کتھاستو‘ کرتا ہے۔ یہاں پیش ہیں اس بات چیت کے اہم اقتباسات:

دانش: سب سے پہلے ’کتھاستو‘ جیسے پروگرام کے بارے میں آپ نے کب سوچا؟

ملیکا: ہمارے اسٹاف میں ایک خاتون ہے پریتی داس۔ پریتی خود ایک راوی (کہانی سنانے والی) ہے اور کچھ مشہور خاتون اسٹینڈ اَپ کامکس میں سے ایک۔ وہ جب ہمارے ساتھ آئی تو مان لیجیے یہ آئیڈیا بھی وہیں سے سب سے پہلے آیا۔ اسی کا مشورہ تھا کہ نٹرانی (احمد آباد میں عثمان پور کا مکت کاشی منچ) اس کے لیے ہمیشہ مناسب جگہ ہے، جہاں یہ جشن یعنی پروگرام کیا جانا چاہیے۔ یعنی یہ واقعی میں اسی کا نظریہ اور تصور ہے جہاں سے ہمیں راستہ ملا۔ پریتی خود ایک باصلاحیت راوی ہیں اور ملک بھر میں ان کے ایسے تمام رابطے ہیں اور ہمیں بنگلورو، چنئی و پونے سے ایسے کئی لوگ بھی مل گئے۔


دانش: کیوریشن کے عمل کے بارے میں کچھ بتائیں اور یہ بھی کہ فنکاروں اور خاکہ کو لے کر کس طرح فیصلے لیے گئے؟

ملیکا: ہم تنوع چاہتے تھے۔ اس لیے مثال کے طور پر وکرم (شری دھر) نے چیزوں اور موسیقی کے آلات پر توجہ مرکوز کی، اپنی کہانیوں کے ساتھ ان کی قواعد ٹھیک کی۔ اپرنا (جئے شنکر) اپنے جسم کی زبان کا زیادہ استعمال کرتی ہیں اور انگریزی میں بولتی ہیں۔ پھر ابھشیک (دُکھنڈے) ہیں جو خود بالکل نوجوان راوی ہیں اور مناظر و موسیقی کے ذریعہ ’چترکتھی‘ کی ایک شکل کو از سر نو زندہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ہم ناظرین کو سمجھانا چاہتے تھے کہ کہانی کہنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔ آپ کا کل بہت ڈرامائی تھا، آپ ہمیں ایک الگ صدی میں لے گئے، ایک الگ ماحول میں لے گئے، کچھ اشارے تھے، آپ نے جس طرح اپنا گلاس اٹھایا، آپ کی لائٹنگ و دیگر انتظام سب کچھ کتنا ڈرامائی تھا۔

آپ تو خود تھیٹر والے ہیں، جانتے ہی ہیں۔ لیکن کتنے ہی کہانی کہنے والے نہیں جانتے۔ ان کی کہانی کو متاثر کیے بغیر بھی آپ ایسا ماحول تیار کر سکتے ہیں جو ڈرامائی اور خوبصورت ہو۔ ایک فنکار کے طور پر مجھے نہیں لگتا کہ چنئی سنگیت اکادمی یا چدمبرم مندر اُتسو میں جیسا میں بھرت ناٹیم یا کچی پوڑی کروں گی ویسا ہی کسی کالج کے ناظرین کو بھی متوجہ کرے گا۔ آج ناظرین کو متوجہ کرنے کے لیے آرٹ کی مارکیٹنگ ضروری ہے اور جب ہم ٹیکنالوجی سے جدوجہد کے دور میں ہیں، تو کیوں نہ اس کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے؟ اگر ہم انھیں انسٹا پر ان کے پانچ سیکنڈ کے فوکس سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے ہم اور آپ یا دیگر فنکار بھی اس کے لائق سمجھتے ہیں تو ہمیں بازار کی سبھی ترکیبیں اختیار کرنی ہی ہوں گی۔

دانش: ان دنوں بیشتر لوگ ایبسٹریکٹ رقص کی شکلوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ رقص کی ایک استاد کی شکل میں آپ جانتی ہیں کہ یکش گان، بھرت ناٹیم، کتھکلی، کچی پوڑی وغیرہ لازمی طور سے کہانی بیان کرنے کے فارم ہیں، ایبسٹریکٹ نہیں۔ ایسے میں اگر آپ اسے زندہ رکھنے کے لیے اپنی خود کی جدوجہد پر نظر ڈالتی ہیں تو یہ اُتسو (کتھاستو) آپ کے نظریہ اور آپ کی سیاست سے کیسے اور کتنا میل کھاتا ہے؟

ملیکا: سبھی تو نہیں، لیکن کچھ کہانیاں اور قصہ گو یقینی طور پر ان نظریات سے میل کھاتے ہیں جو ’دَرپن کے اقدار‘ کو اختیار کرتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کے اقدار، جو (سبھی کے بارے میں) ایک متنوع ہندوستان، ایک آزاد ہندوستان، سوال اور ڈائیلاگ کرتا ہندوستان کے بارے میں ہے۔ ایک ایسا ہندوستان جہاں نظریات اور اظہارِ رائے کی آزادی سب سے اوپر ہے۔ ایک ہندو بھارت جہاں کسی بھی اہم نظریہ پر بحث ہو سکتی ہے، پالنا نہیں۔ بحث، سوال اٹھانا اور اندیشہ ظاہر کرنا۔ گیتا سے ویدانت تک، سبھی اندیشہ ظاہر کرنے یعنی سوال اٹھانے والوں اور انھیں سمجھانے والوں کے بارے میں ہیں۔ جیسا کہ ہم بات کر رہے ہیں کہ ہندوستان کند ہو گیا ہے اور منٹ در منٹ کند ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ کچھ انتہائی تلخ سچائیوں کو نگلنے کے لیے آرٹ ایک انتہائی اثردار اور میٹھی گولی ہے۔ کوئی کسی تقریب میں آ سکتا ہے اور اس سے اپنی زبردست عدم اتفاقی کا اظہار کر سکتا ہے۔ لیکن وہ اس کے ذریعہ سے بیٹھتے تو ہیں، کیونکہ یہ خوبصورت ہے۔ آپ نے ان کے ذہن میں کہیں ایک کیڑا ڈال دیا ہے کہ اس سے چھٹکارا نہیں ملنے والا۔ ابھی تک ان کے پاس ایک دیوار تھی، جہاں کوئی دوسرے نظریہ والا ایک ہی ٹیبل پر بیٹھنے کی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، لیکن پرفارمنس کے ذریعہ ہم یہ کر پاتے ہیں۔ جب میں لڑکیوں کو ہی ہر بار ایڈجسٹ کرنے کے لیے تیار کرنے کی بات کرتی یا کرنا چاہتی ہوں، تو جب اسے ریپرس کے ساتھ یا بھرت ناٹیم میں کرتی ہوں تو لوگ اس پر دھیان دیتے ہیں۔ ناظرین میں سے بڑی تعداد کچھ اس طرح رد عمل کرتی ہے کہ ’’ہم اچھی لڑکی نہیں بنیں گے۔‘‘ تو ہم ایک طرح سے وہی کر رہے ہیں جسے عام زبان میں اشتعال انگیز یا جارحانہ کہا جاتا ہے۔ یہ انھیں سونے کے پنجرے میں (جس میں وہ ہیں) کے بارے میں حیران کرتا ہے اور یہ بھی کہ کیا انھیں آزادی پر پابندی یا غلامی کی سجاوٹ پر دھیان بھی دینا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہی آرٹ کی طاقت ہے اور ہم یہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


دانش: آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آرٹس کے پھلنے پھولنے کے لیے یہ اصول ضروری ہیں؟ آرٹ کی شکلوں اور فن کے ذرائع کے لیے یہ کرتے ہی کیا ہیں؟

ملیکا: اسے اس کا صحیح معنی دیں۔ کہیں بھی، یہاں تک کہ قدیم غار کی تصویروں میں بھی، کیا آرٹ محض ایک موجود کے طور پر تھی۔ اگر آپ کھجوراہو کی تصویروں کو دیکھیں تو آپ ان سبھی جنسی پوزیشن کو دیکھتے پائیں گے کہ یہ ہوس پیدا کرنے کے لیے نہیں تھی۔ یہ لوگوں کو یہ محسوس کرنے کے لیے تھی کہ زندگی میں ایسے راستے ہیں جن سے آپ بچ نہیں سکتے۔ یہ صفر تک پہنچنے کے لیے پیاز کو چھیلنے جیسا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آرٹ اسی طرف جاتا ہے۔ اسے صرف تفریح کا ذریعہ بنانا، یعنی ایک بہت بڑے موقع سے محروم ہونا ہے۔ آج اقتدار پر قابض ظالم حکومتوں کی انارکی کا دور ہے جہاں ہماری آزادی چھینی جا رہی ہے اور تہذیب کی اس زمین کو تباہ کیا جا رہا ہے جس پر ہم کھڑے ہیں۔

دانش: آپ نے پیاز چھیلنے کا ایک بہت ہی دلچسپ منظر پیش کیا ہے۔ جب آپ نے تبدیلی کا اپنا یہ سفر شروع کیا اور اپنی وراثت سے ملی ’پیاز‘ کو چھیلنا شروع کیا تو یہ سب آپ کے لیے کیسا تھا؟

ملیکا: میرے لیے چھیلنے کا وہ عمل پیشہ ور رقص شروع کرنے کے سات یا آٹھ سال بعد شروع ہوا، جب میں پیٹر بروک اور ان کے مہابھارت سے جڑی۔ ایک رقاصہ کے طور پر گھریلو ہونے یعنی ماں کو اپنی ماں کی شکل میں، دَرپن کو دَرپن کی شکل میں رکھنا میرے لیے ایک حفاظتی شیلڈ جیسا تھا۔ 1984 میں جب مہابھارت میں شامل ہوئی، میرے پاس کوئی حفاظتی شیلڈ نہیں تھا۔ میں کمپنی کا واحد چہرہ تھی جس نے کبھی پیشہ ور تھیٹر نہیں کیا تھا۔ جو فرنچ کا ایک لفظ بھی نہیں جانتی تھی۔ تنہا میں ہی ہندوستانی تھی، اور میں نے واقعی مہابھارت کے کئی ایڈیشن پڑھ رکھے تھے۔ اتنا ہی نہیں، پانچ سال کی عمر سے ہی دروپدی میرا ایک پسندیدہ کردار رہی تھی۔ یہ ایک خوفناک عمل تھا۔ مجھے ان داخلی وسائل کا استعمال کرنا تھا جو مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ میرے پاس ہیں۔ مجھے ان کی خود کے اندر تلاش کرنی تھی۔ اور پھر مجھے دیگر لوگوں کو بھی اپنے نظریے، اپنے اندر کی طاقت کے تئیں پراعتماد کرنا پڑا۔ پیٹر کے ایک گرو تھے جن کا نام گرجیف (ارمینیائی فلسفی) تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک مرید یا عامل کو وہ حاصل کرنے کے لیے، جس کی اسے تلاش ہے، مضبوط ہونا ہوتا ہے۔ میں اس پس منظر سے آئی تھی جہاں ہر لمحہ خوشی حاصل کرنی ہوتی تھی۔ اب ان دونوں میں کوئی میل تو تھا نہیں۔ اس لیے پیٹر کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے ایک ایسے طریقے پر بات چیت کرنی پڑی جہاں میں مضبوط ہوئے بغیر خود کو پا سکوں۔ اور وہ بہت بہت، بہت ہی زیادہ تکلیف دہ تھا۔ اتنا کہ میں لگاتار فرار ہونے کی سوچتی۔ لیکن وہاں لگاتار بنے رہنا، پیٹر کا مجھے واقعی میں لگاتار ایک گوشے میں دھکیلنا، میرے اندر کی نئی گہرائی تلاش کرنے کا ذریعہ بن گیا، جو آخر میری تلاش کا ذریعہ بنا۔ اماں ایسا کبھی نہیں کر پاتیں۔ وہ مجھے بہت زیادہ پیار کرتی تھیں۔


دانش: آپ نے گہرائی کی بات کی۔ آپ جب ان گہرائیوں تک پہنچیں، اس وقت کو کیسے دیکھتی اور یاد کرتی ہیں؟

ملیکا: دو یا تین چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ تھا کہ میرا ہنر میری سرگرمی کا سب سے اچھا ثبوت تھا، اور میں اس زمین پر سبھی کو یکساں حقوق، سبھی طبقات، سبھی ذاتوں، سبھی جنسوں کے لیے یکساں جگہ کی سوچ رکھتی تھی۔ یہ ایک بات تھی، جو کہ میرے جسم اور میری صلاحیت لوگوں کو محتاط کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہ سب سے بڑی زبان ہے۔ دوسری یہ کہ میں جو کہنا چاہتی تھی وہ اہم تھا۔ اب لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں، کہ میں اچھی نظر آتی ہوں یا نہیں، میں اچھی اداکارہ ہوں یا نہیں، اچھا گاتی ہوں یا نہیں، یہ سب بے معنی تھا۔ یہ بہت بڑی آزادی تھی۔ میں آپ کو ایک مثال دیتی ہوں۔ میں نے ہندوستانی موسیقی تب سیکھی تھی جب محض سات سال کی تھی۔ میں نے ایس ایس سی میں ہندوستانی گلوکاری میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ 16 سال کی عمر میں جب فلموں میں آئی تو مجھے بتایا گیا کہ میری آواز بہت ترش اور کچھ زیادہ ہی مردانہ ہے۔ اور اسی لیے میں نے کبھی عوامی طور پر نہیں گایا۔ بروک کی مہابھارت سے باہر آنے کے ٹھیک بعد میں نے اپنی خود کی پیشکش ’شکتی- دی پاور آف وومن‘ کو جنم دیا، جہاں میں میرا کو ایک انقلابی کی شکل میں از سر نو پیش کرنا چاہتی تھی۔ میں نے خود سے کہا ’’میں کیسے میرا کروں اور گاؤں نہیں؟‘‘ مجھے اپنے آپ سے وہ طویل بات چیت یاد ہے: ’’ملیکا، آپ کے لیے کیا زیادہ اہم ہے؟ کہ لوگ آپ کو شاندار گلوکار کہیں یا کہ یہ قبول کریں کہ میرا انقلابی تھیں؟‘‘ یہی وہ وقت تھا جب میں واقعی میں اس چیز کو توڑ پائی، اپنے آپ کو یہ کہہ کر سمجھا پائی کہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ میرا سُر (ساز) میں گاتی بھی تھیں یا نہیں! بس یہ جانتے ہیں کہ انھوں نے گایا اور لوگ ان کے پیچھے چل پڑے۔ یہ زندگی کا ایک اور اہم مرحلہ تھا۔ جب تک قصہ گوئی ہو رہی ہے، جب تک میں اس کا ذریعہ ہوں اور وہ سننے والوں تک پہنچ رہی ہے، میں کامیاب ہوں۔ آخر کار میں جو کرنا چاہتی ہوں وہ سوچ کو لوگوں تک پہنچانا ہی تو ہے۔

دانش: مجھے اس بارے میں تھوڑا بتائیں کہ سارابھائی کی وراثت کا آپ پر کتنا اور کیسا اثر رہا ہے؟ ایک شخص کے طور پر آپ کی تشکیل میں اس کا کیا کردار رہا ہے؟ کیونکہ آپ ان سبھی اقدار کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔

ملیکا: اقدار کے بارے میں بات نہیں کی جاتی۔ اقدار تو جیے جاتے ہیں۔

(دانش حسین اداکار کے ساتھ ساتھ شاعر، قصہ گو اور ڈانس ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اردو کہانی کہنے کی پرانی شکل ’داستان گوئی‘ کو از سر نو زندہ کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */