’غریبوں، دلتوں، پسماندوں کے لیے ضرورت پڑی تو 1000 بار جیل جاؤں گا‘

اجے کمار للو کا کہنا ہے کہ ”یو پی میں گھوٹالے پر گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صوبے میں ’گھوٹالہ راج‘ ہے۔ پولس بھرتی گھوٹالہ، پی ایف گھوٹالہ، یو پی ایس سی گھوٹالہ اور اب ٹیچر گھوٹالہ۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشو دیپک

اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے کمار للو تقریباً ایک مہینے بعد بدھ کے روز جیل سے رہا ہوئے۔ للو کو 21 مئی کو لکھنؤ پولس نے آگرہ سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ مہاجر مزدوروں کو بس دستیاب کرانے کے مطالبہ کو لے کر سڑک پر دھرنا دے رہے تھے۔ اس سے پہلے آگرہ پولس نے انھیں گرفتار کیا تھا۔ حالانکہ انھیں فوراً اس معاملے میں ضمانت مل گئی تھی۔ ضمانت ملنے کے کچھ ہی گھنٹے بعد لکھنؤ پولس کی ایک ٹیم نے للو کو نام نہاد فرضی واڑے کے الزام میں گرفتار کر جیل میں ڈال دیا۔ اجے کمار للو پر الزام ہے کہ انھوں نے مہاجر مزدوروں کو کانگریس کے ذریعہ دی جانے والی بسوں کی فٹ نس کے بارے میں یو پی حکومت کو غلط جانکاری دی۔ ایف آئی آر کے مطابق للو نے دستاویزوں میں بھی فرضی واڑا کیا۔ اس درمیان للو نے دو بار ضمانت کے لیے درخواست دی لیکن دونوں بار ان کی ضمانت عرضی پہلے سیشن کورٹ سے اور پھر بعد میں الٰہ آباد کورٹ کی لکھنؤ بنچ سے خارج ہو گئی۔ 17 جون کو ضمانت کے لیے تیسری کوشش میں انھیں کامیابی ملی۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد اجے کمار نے پہلا انٹرویو 'قومی آواز' کے نمائندہ کو دیا۔ پیش ہیں اس انٹرویو کے اہم اقتباسات...

آپ کے جیل جانے اور رہا ہونے کے درمیان کئی بڑے واقعات ایک ساتھ پیش آئے۔ ملک کے اندر کورونا وبا عروج پر ہے، سرحد پر چین کے ساتھ تصادم چل رہا ہے، یو پی میں بڑا ایجوکیشن گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ ان واقعات کے تئیں آپ کا سیاسی رد عمل کیا ہونے والا ہے؟

سب سے پہلے تو میں اتر پردیش کانگریس کی جانب سے لداخ میں شہید ہوئے فوجی جوانوں کے تئیں دل سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ اب جہاں تک رد عمل کی بات ہے تو میں آپ کو بتا دوں کہ وہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہو یا پھر یو پی میں، ہر جگہ ان کا عوام مخالف چہرہ سامنے آ چکا ہے۔ کورونا وبا نے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو، مودی-یوگی حکومت کی ناقابلیت کو اچھی طرح اجاگر کر دیا ہے۔ ان کے چہرے سے نقاب اتر چکی ہے۔

یوگی حکومت نہ تو ٹھیک سے نظام سنبھال سکتی ہے، نہ لوگوں کو روزگار دے سکتی ہے اور نہ ہی ملازمت۔ حتیٰ کہ غریبوں کی بھلائی کے لیے بھی کام نہیں کر سکتی۔ اگر پرینکا گاندھی نے غریب مزدوروں کو گھر پہنچانے کے لیے ہزار بسوں کا انتظام کرنے کے لیے کہا تھا تو اس میں غلط کیا تھا! آخر یوگی حکومت نے بسوں کو چلانے کی اجازت کیوں نہیں دی؟ کیونکہ یوگی حکومت کانگریس سے ڈرتی ہے۔ ان کی سوچ ہی غریبوں کے خلاف ہے۔ یہ غریب مخالف حکومت ہے جو استحصال کرنے پر یقین کرتی ہے۔

یو پی حکومت کا دعویٰ ہے کہ آپ نے بسوں کی فٹ نس کے بارے میں غلط جانکاری دی اور دستاویزوں کے ساتھ بھی چھیڑخانی کی۔

چلیے ایک منٹ کے لیے ہم یو پی حکومت کے اس دعوے کو درست مان لیتے ہیں تو یو پی حکومت نے خود اپنی جانچ کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ 850 سے اوپر بس اور ان کے دستاویزات ٹھیک تھے، پھر انہی بسوں کو چلانے دیتے۔ کیوں نہیں چلنے دیں؟ کیونکہ یوگی حکومت ڈر گئی تھی۔ ویسے بتا دوں کہ راجستھان کے نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ نے پریس کانفرنس کر کے کہا تھا کہ بسوں کے دستاویز مصدقہ ہیں۔ درحقیقت یوگی حکومت نے اس معاملے میں عوام کو گمراہ کیا ہے۔

یو پی میں مدھیہ پردیش کے ویاپم کی طرح ایک ایجوکیشن گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن پارٹی کے لیڈر ہونے کے ناطے آپ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

یو پی میں گھوٹالے پر گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صوبے میں ‘گھوٹالہ راج’ ہے۔ پولس بھرتی گھوٹالہ، پی ایف گھوٹالہ، این آر ایچ ایم گھوٹالہ، یو پی ایس سی گھوٹالہ اور اب ٹیچر گھوٹالہ کوئی بھی گھوٹالہ بغیر سیاسی تحفظ کے نہیں ہو سکتا۔ ہم اس کے خلاف زوردار مہم چلائیں گے۔ کانگریس پارٹی یوگی کے جنگل راج کے خلاف ایوان سے لے کر سڑک تک تحریک چلائے گی۔ گھوٹالوں کے خلاف، بدعنوانی کے خلاف، دلت-غریب پر مظالم کے خلاف بھی کانگریس تحریک شروع کرے گی۔

اگر آپ کو پکڑ کر پھر سے جیل میں ڈال دیا گیا تب؟

دیکھیے، جیل کی مضبوط سے مضبوط دیواریں بھی ہمارے فولادی ارادوں کو نہیں جھکا سکتیں۔ ہم راہل گاندھی کے سپاہی ہیں، ہم کانگریس کے سپاہی ہیں۔ ہم لڑتے ہوئے ہی بنے ہیں۔ آزادی کی تحریک جب شروع ہوئی تھی اس وقت سے لڑ رہے ہیں۔ وہ ہماری سب سے بڑی وراثت ہے۔ ہم وہیں سے ترغیب لیتے ہیں۔ ہر ظلم، استحصال، جبر کے خلاف میں لڑتا رہوں گا، چاہے ایک ہزار بار ہی کیوں نہ جیل جانا پڑے۔

جیلوں کے اندر کورونا وبا پھیلنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے ساتھ جیل کے اندر کیسا سلوک کیا گیا؟

میں جیل میں عام قیدیوں کی طرح ہی رہتا تھا۔ میں جس بیرک میں تھا وہاں کل 14 قیدی تھے۔ میں عام قیدیوں کی طرح ہی صبح چائے کے لیے لائن میں لگتا تھا، پھر ناشتہ وغیرہ کے بعد کچھ کام کرتا تھا۔ صاف صفائی کا کام میں خود کرتا تھا۔ دوپہر میں آرام کرتا تھا۔ موقع ملنے پر پڑھائی لکھائی بھی کرتا تھا۔ باقی اوقات میں عام قیدیوں کے ساتھ بات چیت اور ان کی زندگی کو جاننے سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔

آپ کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے ‘قومی آواز’ میں ایک طویل مضمون لکھا۔ کیا اس بارے میں آپ کو معلوم ہے؟

میرے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے میں ہماری لیڈر پرینکا گاندھی وڈرا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جیل سے باہر آنے کے بعد پتہ چلا کہ کانگریس پارٹی کے کارکنان نے میری رہائی کو لے کر مہم چلائی، دھرنا دیا، مظاہرہ کیا۔ بہت سے کارکنان گرفتار بھی ہوئے۔ میں سب لوگوں کو دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان سب لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ کانگریس پارٹی کو یو پی کی آواز بنا کر ہی دم لوں گا۔ اس کے لیے چاہے مجھے اپنی جان کیوں نہ قربان کرنی پڑے۔

next