ماکن نے بی جے پی اور عآپ کی کھولی پول، کہا ہر محاذ پر دونوں فیل

اجے ماکن نے کہا کہ عآپ حکومت نے نہ تو کوئی نیا اسکول تعمیر کرایا اور نہ ہی کوئی نیا اسپتال بنوایا۔ جبکہ کانگریس نے پندرہ سالوں میں 14 نئے اسپتال تعمیر کرائے یعنی ہر سال ایک نیا اسپتال۔

تصویر قومی آواز/ویپن
تصویر قومی آواز/ویپن
user

سید خرم رضا

کانگریس نہ تو مرکز میں ہے اور نہ ہی ریاست کی کسی اکائی میں بر سر اقتدار ہے، اس کا کہنا ہے کہ دہلی والے کانگریس والی دلّی کو دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ مرکز کی بی جے پی اور دہلی کی کیجریوال حکومت ہر محاذ پر فیل ہو گئی ہیں۔ دہلی اسمبلی انتخابات پر دہلی اور مر کز کے سابق وزیر اجے ماکن نے ’قومی آواز‘ سے بات کرتے ہوئے تمام پہلؤوں پر تفصیلی گفتگو کی۔

سوال: دہلی میں انتخابی سرگرمیاں اب آخری دور میں داخل ہو چکی ہیں، کون سے مدے مرکزی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں؟

اجے ماکن: بنیادی مدے تو دہلی سے متعلق ہی ہونے چاہیے جبکہ بی جے پی اپنے اسٹار کیمپینرس کے ذریعہ ماحول میں زہر گھولنے کی کوشش کر رہی ہے اور ان کی پوری کوشش ہے کہ دہلی کا ماحول فرقہ وارانہ ہو جائے، وہ دہلی کے ماحول کو تشدد کی جانب لے جانا چاہتے ہیں، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ دہلی کے عوام بی جے پی کی اس سازش کو سمجھ رہے ہیں اور لگتا ہے کہ بی جے پی دہلی میں تیسرے مقام پر آئے گی۔ مقابلہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان ہوگا اور دہلی والے بی جے پی کو سبق سکھائیں گے۔

کانگریس جن مدوں کو لے کر عوام کے پاس جا رہی ہے وہ دہلی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کا مسئلہ ہے، دہلی کے اندر بے روزگاری کا مدا ہے، دہلی سے بہت ساری آلودگی پھیلانے والی انڈسٹریز منتقل ہونے کا مسئلہ ہے، پبلک ٹرانسپورٹ نظام کے خراب ہونے کا مسئلہ ہے، غیر منظور شدہ کالونیوں میں ترقیاتی کام ٹھپ ہونے کا مسئلہ ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جس کے لئے عآپ اور بی جے پی دونوں ذمہ دار ہیں۔

سوال: گزشتہ ایک ہفتہ میں وزیر اعظم سے لے کر بی جے کے تمام لیڈروں نے حقیقی مدوں کی جگہ شاہین باغ کو انتخابی مدا بنانے کی کوشش کی ہے۔ کیا بی جے پی اس میں کامیاب ہوئی ہے؟

اجے ماکن: جیسے میں نے کہا کہ بی جے پی کو بالکل کامیابی نہیں مل رہی۔ ہم نے بی جے پی کی منافرت پھیلانے والی کوششوں کی الیکشن کمیشن میں شکایت بھی کی ہے اور ہماری شکایت کے بعد الیکشن کمیشن نے انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کوانتخابی تشہیر سے معطل بھی کیا گیا۔ ہمیں امید ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے غیر جانبدارانہ کردار کا احترام کرے گا۔

سوال: عام آدمی پارٹی پر سہولیات مفت بانٹنے کا کانگریس الزام لگاتی رہی ہے، لیکن اب خود کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں عآپ سے آگے بڑھ کر دو سو کی جگہ تین سو یونٹ تک بجلی مفت دینے کا وعدہ کیا ہے، تو پھر کانگریس اور عآپ میں فرق کیا رہ گیا؟

اجے ماکن: ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مفت بجلی کیوں دی جا رہی ہے۔ ہم تنقید یہ کرتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے انتخابی منشور میں کہا تھا کہ سبسڈی کے ذریعہ نہیں، بلکہ ان بجلی کمپنیوں کے کام کرنے کے طریقہ کو بدل کر ریٹ کم کریں گے۔ انہوں نے خود اپنے منشور میں کہا تھا کہ اگر سبسڈی دینی بھی پڑے گی تو نجی کمپنی کو نہیں دیں گے، بلکہ سرکاری کمپنی یعنی ٹرانسکو کو دیں گے، لیکن اب گزشتہ پانچ سالوں میں انہوں نے نو ہزار کروڑ روپے سیدھے طور پر نجی کمپنیوں کو دیا ہے، صارف کو نہیں دیا۔ کانگریس کا یہ کہنا ہے کہ یہ نو ہزار کروڑ روپے سیدھے صارف کو جانا چاہیے تھا جیسے کانگریس حکومت کے دور میں مٹی کے تیل کے معاملہ میں ڈائریکٹ ٹرانسفر کے تحت صارف کو سیدھا فائدہ پہنچایا گیا تھا اور اگر یہ پیسہ ڈائریکٹ ٹرانسفر کےتحت دیا جائے گا تو اسی رقم میں تین سو یونٹ تک بجلی مفت ہو جائے گی۔

سوال:کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں بے روزگاری بھتہ کی بات کہی ہے کیا دہلی کیمعیشت اتنی مضبوط ہے کہ وہ اتنی بڑی رقم فراہم کر سکے؟

اجےماکن: بالکل، ہم نے اس کا پورا حساب لگایا ہے۔ ہم نے جس بے روزگاری بھتہ کی باتکہی ہے اس کا کیلکیولیشن ہے کہ ہماری 25 سال سے کم کیجو آبادی ہے وہ دہلی کی کل آبادی کا پچاس فیصد ہے اور 35 سالسے کم کی آبادی ہماری 65 فیصد ہے یعنی 15فیصد آبادی ہماری 25 سے 35 کے بیچ کی عمرکی ہے۔ سی ایم آئی کے اعداد شمار کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بے روزگاری کی جو شرحہے وہ 15 فیصد ہے۔ اگر ہم 25 سے 35 عمر کے بیچ کےتمام نوجوانوں کو گریجویٹ مان لیں جو ممکن نہیں ہے پھر بھی یہ تعداد ساڑھے چارلاکھ ہوتی ہے اور اگر ہم اوسط نکالیں تو فی فرد ہمیں چھ ہزار کروڑ روپے دینا پڑیںگے تو یہ رقم 3240 کروڑ روپے ہوتی ہے یعنی دہلی کے کل بجٹ کا یہپانچ فیصد ہے۔ دہلی کے نوجوانوں کو یہ بے روزگاری بھتہ ایسے ہی نہیں مل جائے گابلکہ ان کو سو دن کی اسکل ٹریننگ لینی پڑے گی تاکہ بعد میں ان کی باقاعدہ نوکری بھیلگ سکے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ نوجوانوں کو اسکل ٹریننگ دے سکیں اور پیسہ نہ ہونے کیوجہ سے وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں اور اپنے راستہ سے نہ بھٹکیں۔ بے روزگاری بھتہبہت ساری سماجی برائیوں سے بھی روکتا ہے۔

سوال:عام آدمی پارٹی حکومت کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ تعلیم اور طبی شعبہ میں اس نےبہت انقلابی کام کیا ہے۔ کانگریس کا اس پر کیا کہنا ہے؟

اجےماکن: اگر عآپ حکومت نے تعلیمی شعبہ میں بہت انقلابی کام کیا ہے تو اس کو ناپنے کامعیار ہے بارہویں جماعت میں کتنے بچے پاس ہوئے ہیں۔ سال 2014 تک کانگریس بر سر اقتدار تھی اور ہر سال سرکاری اسکولوں سے بارہویںجماعت کا امتحان پاس کرنے والے طلباء کی تعداد ایک لاکھ 47ہزار ہو گئی تھی لیکن اب سال در سال گھٹ کر سال 2018 میں یہ تعداد ایک لاکھ دو ہزار ہو گئی یعنی 45ہزار کم ہو گئی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس میں کیا انقلابی بات ہے کیونکہ سرکاریاسکولوں سے پاس ہونے والے طلباء کی تعداد تو کم ہوئی ہے۔ یہاں یہ بات دھیان رکھنےکی ہے کہ سال 2009 میں تعداد 77ہزار تھی اور سال 2014 تک بڑھ کر یہ تعداد ایک لاکھ 47ہزار ہو گئی تھی۔

اس حکومت نے نہ تو کوئی نیا اسکول تعمیر کرایا اور نہ ہی کوئی نیا اسپتال بنایا۔ جبکہکانگریس نے پندرہ سالوں میں 14 نئے اسپتال تعمیر کرائے یعنی ہر سال ایک نیا اسپتال،انہوں نے ایک نئی یونیورسٹی نہیں بنائی جبکہ ہم نے پانچ نئی یونیورسٹی بنائیں۔ ہمنے گرو گوبند سنگھ یونیورسٹی بنائی جس میں 85 فیصد دہلی کےبچوں کو داخلہ ملتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت نے زمین پر کچھ نہیں کیا لیکنتشہیر ایسی کی جیسے پتہ نہیں کیا کر دیا ہے۔

سوال:یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی نیا اسپتال نہیں بنایا گیا، لیکن پوری دنیا میں محلہکلینک کی تعریف ہو رہی ہے۔ یہ تعریف کیوں ہے جب کچھ اچھا نہیں کیا؟

اجےماکن: ان کا خود کہنا ہے کہ انہوں نے 185 محلہ کلینکبنائے ہیں جبکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ صرف یہ دیکھ لیں کہ سال 2014 میں کتنی سرکاری ڈسپنسری چل رہی تھیں اور اب کتنی ہیں۔ اب تک 115 سرکاری ڈسپنسری بند ہو چکی ہیں۔ کانگریس کے زمانہ میں دہلی میں کلڈسپنسری اور پرائمری ہیلتھ سینٹر کی تعداد 1370 تھی۔

اگرآپ محلہ کلینک اور ڈسپنسری کا مقابلہ کریں تو محلہ کلینک کا کنسیپٹ ہی صحیح نہیںہے۔ محلہ کلینک دن میں صرف چار گھنٹے کام کرتا ہے اور اس میں کام کرنے والے ڈاکٹرمستقل سرکاری ملازم نہیں ہوتے، ان کو پسیہ فی مریض کے حساب سے دیا جاتا ہے جس میںبدعنوانی کے پورے امکانات ہیں۔ ہم نے اس پر سوال پوچھے تھے جس کا حکومت نے کوئیجواب نہیں دیا، کیونکہ ہماری جانچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کچھ ڈاکٹر سوا لکھتک تنخواہ لے جاتے تھے یعنی 15 سیکنڈ میں ایک مریض یعنی ایک منٹ میں چار مریضدیکھ رہے ہیں۔ پارٹی ورکر کی جگہ پر پچیس سے تیس ہزار کے کرائے پر یہ کلینک چل رہےہیں۔ شنگلو کمیٹی نے باقاعدہ اس کی جانچ کی اور اس میں بڑی گڑ بڑیاں پائیں۔ ابدنیا بھر میں کسی کو کچھ چیزیں اوپر اوپر سے دکھا دو اور ان کو اندرونی حالت معلومنہ ہوں تو وہ تعریف کر ہی دیں گے اور شو کیس کے طور پر دو تین محلہ کلینک ان کودکھائے جاتے ہیں۔ اگر دکھانے ہیں تو وہ محلہ کلینک دکھائیں جس کے اندر گائے گھاس کھارہی ہیں جس کے اندر گھوڑے باندھے جا رہے ہیں۔

سوال:معیشت کا بہت برا حال ہے، بجٹ سے نا امیدی بڑھی ہے۔ ان انتخابات میں اس کو آپ کسطرح دیکھتے ہیں؟

اجےماکن: معیشت خراب ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے خرچ کرنے کی قووت کمہوئی ہے اور اس کی وجہ لوگوں کے پاس پیسہ نہ ہونا۔ نوٹ بندی اور غلط جی ایس ٹی کےنفاظ کی وجہ سے پیسہ کا سرکیولیشن رک گیا ہے۔ جب پیسہ نہیں ہے تو لوگ خریداری نہیںکر رہے اور جب خریداری نہیں ہو رہی تو ڈیمانڈ نہیں بڑھ رہی۔ دیہات میں عوام کے پاسپیسہ نہیں ہے۔ کانگریس نے گاؤں کے لئے منریگا جیسی اسکیم نکالی اور شہروں میںسرکاری ملازمین کے لئے چھٹی تنخواہ کمیشن لائے جس کی وجہ سے لوگوں کے ہاتھوں میںپیسہ رہا اور جب پیسہ آیا تو معیشت اچھی ہوئی۔ انہوں نے منریگا کا گلا گھونٹ دیااور سرکاری ملازم پریشان ہیں اسی لئے معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ اسی لئے بی جے پی عوامکے مسائل پر بات نہ کر کے شاہین باغ پر بات کر رہی ہے۔ یہ حکومت صرف کچھ سرمایہداروں کی سرکار ہے۔

سوال:انتخابات میں کانگریس کی اعلی قیادت نظر نہیں آ رہی۔ عآپ کی جانب سے خودکیجریوال نے مورچہ سنبھالا ہوا ہے دوسری جانب بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم،مرکزی وزیر اور ریاستوں کے وزیر اعلی جلسہ کر رہے ہیں، ایسا کیوں؟

اجےماکن: دہلی کے تمام رہنما اور کانگریس کے تمام وزراء اعلی چاہے وہ امریندر سنگھ ہوں،چاہے اشوک گہلوت ہوں سب تشہیر میں لگے ہوئے ہیں، سابق مرکزی وزراء غلام نبی آزادسمیت سب میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ ہماری اعلی قیادت آخری مرحلہ میں ہی تشہیر کرتیہے، لیکن میڈیا گھرانے جان بوجھ کر کانگریس کی تشہیر کو دکھانا نہیں چاہتے؟ اگلےدو دنوں میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی اجلاس کر رہے ہیں۔

next