ہم کورونا جیسی ایک اور وبا کے قریب کھڑے ہیں: ڈبلیو ایچ او

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریوسس نے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کو ہمارے وقت کے سب سے بڑے صحت خطرات میں سے ایک بتایا ہے۔

ٹیڈروس ادہانوم گیبریوسس، تصویر آئی اے این ایس
ٹیڈروس ادہانوم گیبریوسس، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ایک طرف کورونا انفیکشن نے پوری دنیا کو بے حال کر رکھا ہے، اور دوسری طرف میڈیکل شعبہ کے سامنے ایک بہت بڑی پریشانی کھڑی ہے۔ اس پریشانی سے متعلق ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’کورونا وائرس جیسی خطرناک تو نہیں، لیکن ہم اس جیسی ہی ایک اور پریشانی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اگر ہم نہیں سنبھلے تو میڈیکل ورلڈ میں کی گئی ایک صدی کی محنت برباد ہو جائے گی۔‘‘

دراصل ڈبلیو ایچ او نے بڑھتے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کو لے کر فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس وہ حالت ہے جب کسی انفیکشن یا زخم کے لیے بنی دوا کا اثر کم ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انفیکشن یا زخم کے لیے ذمہ دار بیکٹیریا اس دوا کے سامنے اپنی امیونٹی مضبوط کر رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس بڑھنا کووڈ-19 وبا کی طرح ہی خطرناک ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریوسس نے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کو ہمارے وقت کے سب سے بڑے صحت خطرات میں سے ایک بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حالات اس وقت پیدا ہوں گے جب بیماری پھیلانے والے بیکٹیریا موجودہ دواؤں کو بے اثر کر دیں گے، جس میں اینٹی بایوٹک، اینٹی وائرل یا اینٹی فنگل علاج شامل ہیں، جو معمولی چوٹوں اور عام انفیکشن کو بھی خطرناک شکل میں بدل سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next