پنجاب سے دہلی پہنچی بارات کا ’چالان‘ سے ہوا استقبال، دولہے کو دینے پڑے 2000 روپے

اینووا کار میں آگے کی سیٹ پر بیٹھے دولہے نے ماسک نہیں لگایا تھا۔ پیچھے کی سیٹ پر تین لوگوں کی جگہ ہوتی ہے، لیکن وہاں چار خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ انھوں نے بھی ماسک نہیں پہنے تھے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

دہلی میں کورونا کے بڑھتے معاملوں کو دیکھ کر کئی طرح کی سختیاں کی گئی ہیں، جس کا خمیازہ پنجاب سے دہلی پہنچی ایک بارات کو بھگتنا پڑا۔ اس بارات کا استقبال راجدھانی دہلی میں ’چالان کاٹ کر‘ ہوا، کیونکہ انھوں نے کورونا کو لے کر دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کار میں بیٹھ کر آئے دولہے اور باراتیوں نے ماسک بھی نہیں لگایا تھا اور سیٹ سے زیادہ لوگ بھی سواری کر رہے تھے۔ باراتی اور دولہا لگاتار چالان نہ کاٹنے کی گزارش کرتے رہے، لیکن پولس نے ان کی ایک نہ سنی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دولہے کو اپنی جیب سے 2000 روپے ادا کرنے پڑے۔

میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق پنجاب سے دولہے کو لے کر باراتیوں کی اینووا کار دہلی پہنچی تھی۔ بارات کو پانڈو نگر جانا تھا، تبھی گیتا کالونی ایس ڈی ایم دفتر کے پاس محکمہ کی نظر کار پر پڑی۔ آگے کی سیٹ پر بیٹھے دولہے نے ماسک نہیں لگایا تھا۔ پیچھے کی سیٹ پر تین لوگوں کی جگہ ہوتی ہے، لیکن وہاں چار خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ انھوں نے بھی ماسک نہیں پہنے تھے۔ یہ دیکھ کر گاڑی کو رکوایا گیا اور سوشل ڈسٹنسنگ پر عمل نہیں کرنے کے ساتھ ساتھ ماسک نہ لگانے کے لیے دولہے کی گاڑی کا 2000 روپے کا چالان کر دیا گیا۔ حالانکہ چالان کے دوران دولہا اور باراتی اپنی مجبوریاں بتاتے رہے لیکن چالان کی ادائیگی انھیں کرنی ہی پڑی۔ چالان ہونے کے بعد دولہے نے منھ پر رومال بھی باندھ لیا۔

چالان کاٹے جانے کے بعد کار کے ڈرائیور نے بتایا کہ پنجاب سے بارات نکلی تھی تو دو گاڑیاں تھیں، لیکن دوسری گاڑی خراب ہونے کے بعد کچھ سواریوں کو اس گاڑی میں بٹھا لیا گیا تھا۔ لیکن کورونا کے بڑھتے معاملوں کے درمیان دہلی انتظامیہ نے کئی طرح کی سختیاں کی ہیں، اور وہ اس میں کسی طرح کی نرمی نہیں کرنا چاہتے، اس لیے دولہے سے چالان وصول کیا گیا۔

next