وینس چاہتے تھے روس سے لڑنے کے لیے ہندوستان اپنی فوج بھیجے، ٹرمپ ہنس کر بولے ’ایسا نہیں ہوگا...‘، ایک کتاب میں دعویٰ

کتاب کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق پی ایم مودی انہیں بہت پسند کرتے تھے اور ان سے ملنا چاہتے تھے، لیکن ہندوستانی کبھی کسی چیز کے لیے پیسے نہیں دیتے۔

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
i

ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، تو وہیں دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان 4 سال سے زائد عرصے سے جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے بھی عالمی سطح پر کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ اس تنازع کو ختم کرانے کی اب تک کی تمام کوششیں بھی ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اس صورتحال میں معروف صحافیوں میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان کی لکھی نئی کتاب ’رجیم چینج‘ سرخیوں میں آ گئی ہے۔

منگل کے روز شائع ہوئی اس نئی کتاب میں ہندوستان، امریکہ اور یوکرین جنگ کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کتاب میں لکھا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس چاہتے تھے کہ یوکرین کی مدد کے لیے ہندوستان اپنے فوجی بھیجے، لیکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسے ہنس کر ٹال دیا۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر وائٹ ہاؤس میں ہوئی بحث کے دوران امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے مشورہ دیا کہ یوکرین میں امن فوج کے طور پر ہندوستان یا سعودی عرب کے فوجیوں کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔


نیو یارک ٹائمز کے صحافیوں میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان کی نئی کتاب ’رجیم چینج: انسائیڈ دی امپیریل پریزیڈینسی آف ڈونالڈ ٹرمپ‘ کے مطابق یہ باتیں ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے اوائل میں کہی گئی تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے حلف برداری کے محض 10 دن بعد اوول آفس میں ایک میٹنگ طلب کی جس میں صدر ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ مشیروں کو ریٹائرڈ آرمی لیفٹیننٹ جنرل کیتھ کیلوگ بریفنگ دے رہے تھے۔ صدر نے کیلوگ کو یوکرین اور روس کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی مقرر کیا تھا۔

ہیبرمین اور سوان لکھتے ہیں کہ بحث کے دوران کیلوگ نے ’این امریکی فرسٹ پلان: ٹرمپس ہسٹورک پیس ڈیل فار ایشیا-یوکرین وار‘ نام کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز میں کہا گیا تھا کہ امریکہ یوکرین میں مقبوضہ علاقوں کے بارے میں روس کے دعوؤں کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرے گا لیکن اس میں ایک بڑی رعایت یہ رہے گی کہ یوکرین طاقت کے ذریعے کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس خیال کے ساتھ میٹنگ میں غیر ناٹو امن فوج کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔


کتاب میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر وینس نے پوچھا کہ کیا دوسرے ممالک کے فوجی ہیں جو اس کام کے لیے آسکتے ہیں؟ اس کے بعد انہوں نے ’’سعودی عرب یا ہندوستان‘‘ سے فوجیوں کو بلانے کا مشورہ دیا۔ کتاب میں صدر کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ  ٹرمپ مسکرائے اور کہا کہ ’’ہندوستانی ایسا نہیں کریں گے، وہ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے۔‘‘

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ کتاب کے مطابق ٹرمپ نے کہا ’’ پی ایم مودی انہیں بہت پسند کرتے تھے اور ان سے ملنا چاہتے تھے، لیکن ہندوستانی کبھی کسی چیز کے لیے پیسے نہیں دیتے۔‘‘ کتاب کے ایک اور باب میں ٹیرف پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ پھر ہندوستان کا ذکر کرتے ہیں۔ ’’اسپیشل گورنمنٹ ایمپلائی‘‘ کے طور پر کام کرچکے ارب پتی کاروباری ایلون مسک کا کابینی سکریٹریوں کے ساتھ تنازع کے کچھ دنوں بعد 10 مارچ کو وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی سی ای او کونسل کی میٹنگ ہوئی۔ روزویلٹ روم میں منعقد اس میٹنگ میں کئی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔


امریکی کامرس سکریٹری ہاورڈ لٹنک نے افسران سے پوچھا کہ ’’ آپ کو امریکہ میں نئی ​​فیکٹریاں بنانے کے لیے قائل کرنے کی خاطر ہمیں کیا کرنا ہوگا؟‘‘ اسی میٹنگ میں ٹیرف پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ہندوستان کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ہندوستان امریکی اشیاء پر 175 فیصد تک ڈیوٹی لگاتا ہے۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت ٹرمپ نے کہا کہ ’’جو لوگ یہاں سامان نہیں بنائیں گے، انہیں بھاری ٹیرف دینا ہوگا۔ 20 فیصد نہیں، بلکہ 100 فیصد۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے ساتھ بہت نا انصافی ہوتی ہے۔ چین ہم پر 150 سے 200 فیصد اور ہندوستان 175 فیصد تک ٹیرف لگاتا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔