کیوبا میں ’جی اے ای ایس اے‘ سمیت متعدد تنظیموں پر امریکی پابندیاں عائد، ایندھن اور خوراک کا بحران سنگین ہونے کا خدشہ
ماہرین کے مطابق جی اے ای ایس اے کا کیوبا کی معیشت پر گہرا اثر ہے۔ یہ گروپ ملک کی خوردہ تجارت، ہوٹلوں، ٹریول ایجنسیوں، کار رینٹل سروسز اور یہاں تک کہ کرنسی ایکسچینج نیٹ ورکس کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔

امریکہ نے کیوبا پر اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں کیوبا کے عوام پر نہیں بلکہ وہاں کے اقتدار سے وابستہ اقتصادی نیٹ ورک پر لگائی گئی ہیں۔
نئی پابندیوں کا سب س بڑا نشانہ جی اے ای ایس اے بنا ہے، جو کیوبا کی انقلابی مسلح افواج کے زیر انتظام ایک بڑا کاروباری گروپ ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا کی کمپنی شیرٹ انٹر نیشنل کے ساتھ جوائنٹ وینچر ’موا نیکل‘ پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس کے بعد شیرٹ انٹرنیشنل نے کیوبا سے اپنا کاروبار سمیٹنے کا اعلان کردیا جس سے جزیرائی ملک میں اس کی 32 سال پرانی موجودگی ختم ہو جائے گی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ان پابندیوں سے کیوبا کی پہلے سے ہی کمزور معیشت پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ محقق لی شلینکر نے کہا کہ نئے قانونی اختیارات کے تحت امریکہ اب تیسرے ممالک کی کمپنیوں اور شہریوں کے خلاف بھی کارروائی کر سکے گا۔ اس کے تحت کمپنیوں کے امریکی اثاثے منجمد کئے جا سکتے ہیں اور ان کے سرمایہ کاروں اور ملازمین کے امریکہ کے سفر پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
کیوبا کے امور کے ماہر اور ماہر اقتصادیات پاویل وڈال نے ان اقدامات کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ ان کے بقول، کیوبا کی معیشت پہلے ہی تقریباً ٹھپ پڑچکی ہے اور جنوری سے امریکہ کی طرف سے ایندھن کی سپلائی روکے جانے کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پابندیاں جی اے سے وابستہ غیر ملکی شراکت داروں کی واپسی کا باعث بھی بن سکتی ہیں، کیونکہ کئی کمپنیاں امریکی پابندیوں کو چیلنج کرنے کا خطرہ اٹھائیں گی۔
ماہرین کے مطابق جی اے ای ایس اے کا کیوبا کی معیشت پر گہرا اثر ہے۔ یہ گروپ ملک کی خوردہ تجارت، ہوٹلوں، ٹریول ایجنسیوں، کار رینٹل سروسز، مالیاتی اداروں اور یہاں تک کہ کرنسی ایکسچینج نیٹ ورکس کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ جی اے ای ایس اے کیوبا کی جی ڈی پی کے تقریباً 40 فیصد حصے پر اثر رکھتا ہے۔
یہ کاروباری ڈھانچہ کیوبا کی فوج نے 1990 کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے اور امریکی پابندیوں کے بعد قائم کیا تھا۔ طویل عرصے تک اس کی قیادت سابق صدر راؤل کاسترو کے داماد لوئس البرٹو روڈریگو لوپیز کالیجا نی کی۔ ان کی موت کے بعد اینیا گیلرمینا لاسٹریس کو جی اے ای ایس اے کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا، جنہیں اب امریکی بلیک لسٹ میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
وہیں کیوبا کی حکومت نے امریکی پابندیوں کو اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔ ہوانا کا کہنا ہے کہ امریکہ سیاسی دباؤ بنانے کے لیے کیوبا کی معیشت کو کمزور کر رہا ہے اور اس سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیوبا پہلے سے ہی بجلی اور پانی کی بھاری کٹوتی، ایندھن کی قلت اور خوراک کی فراہمی کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں نئی امریکی پابندیوں سے وہاں کی معیشت اور انسانی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
