طالبان، داعش، القاعدہ، پاسداران انقلاب اور حماس پر نئی امریکی پابندیاں

امریکی وزیر خزانہ نے مائیک پومپیو کی موجودگی میں واضح کیا کہ نئی پابندیاں دنیا بھر میں دہشت گردی کرنیوالوں کی شناخت متعین کریں گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکہ نے منگل کے روز مختلف ’دہشت گرد‘ تنظیموں اور ان کے مددگاروں پر نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے جن میں فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے منسلک افراد بھی شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق لبنان کی حزب اللہ، القاعدہ اور داعش سمیت دیگر تنظیموں سے وابستہ کئی افراد کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکہ کے محکمہ خزانہ کی طرف سے یہ پابندیاں نائن الیون کی 18 ویں برسی کے موقع پر لگائی گئی ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں کا ہدف حماس، القاعدہ، داعش اور ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب سے منسلک 15 افراد شامل ہیں۔ یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک نئے انتظامی حکم نامے کے تحت لگائی گئی ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ محسود کی قیادت میں کالعدم ٹی ٹی پی نے پاکستان بھر میں متعدد ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان کا سربراہ امریکہ اور افغانستان کی فورسز کے خلاف لڑنے پر یقین رکھتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ملک بھر میں اپنے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں افراد کو ہلاک اور زخمی کیا ہے۔

وزیر خزانہ سٹیو منوچن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد سے امریکی حکومت نے اپنی انسداد دہشت گردی سے متعلق کوششوں کو مستقلاً ابھرتے ہوئے خطرات پر مرکوز کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انسداد دہشت گردی کے انتظامی حکمنامے نے ہمارے اختیارات کو تقویت فراہم کی جس سے ہم دہشت گرد گروہوں کے مالی امور اور ان کے لیڈروں کو ہدف بنا سکتے ہیں۔

جن افراد پر پابندیاں لگی ہیں ان میں ترکی میں مقیم حماس کے مالی امور کے سربراہ ظاہر جبرین اور قدس فورس کے چیف سعید آزادی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ برازیل میں مقیم القاعدہ کا رکن اور ملاوی کا باشندہ بھی شامل ہے جو داعش کی افغانستان میں شاخ کے لیے بھرتیاں کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فلپائن میں مقیم داعش سے منسلک ایک کارندہ بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ افراد کے ساتھ ساتھ کئی ایکس چینج ہاؤسز اور جنوبی ترکی میں ایک جیولری کمپنی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم نامے کی زد میں آنے والوں کی امریکا میں موجود جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں اور امریکیوں کو عمومی طور پر ان کے ساتھ کاروبار کرنے کی ممانعت ہو گی۔