سپریم کورٹ کے فیصلے کو ٹرمپ نے بتایا ’شرمناک‘، ہندوستان امریکی تجارتی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں

ٹیرف کے جھٹکے کے بعد ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلے کے باوجود ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یعنی ٹرمپ کے مطابق ہندوستان پہلے کی طرح ٹیرف دیتا رہے گا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ممالک پرعائد ٹیرف منسوخ کرنے کے تاریخی فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس کے لیے ’بیک اپ پلان‘ ہے۔ ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق صدرٹرمپ اب اپنی اقتصادی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے متبادل راستے اختیار کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے6-3 کی اکثریت والے فیصلے میں چیف جسٹس جان رابرٹس کی سربراہی میں بنچ نے نچلی عدالت کے اس حکم کو برقرار رکھا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ نے 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کا استعمال کرتے ہوئے ٹیرف لگا کر اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔

 عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ یہ قانون صدر کو درآمدات کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار تو دیتا ہے لیکن ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں دیتا۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس وقت آیا جب ٹرمپ گورنروں سے ملاقات کر رہے تھے۔ اس تارخی فیصلے کا عالمی معیشت پر بڑا اثر پڑنے کا امکان ہے۔ آئی ای ای پی اے کے تحت صدر قومی ایمرجنسی کے دوران مالیاتی لین دین اور درآمدات اور برآمدات کو کنٹرول کر سکتے ہیں لیکن اس میں محصولات کا ذکر نہیں ہے۔ امریکہ کے سابقہ صدور اس قانون کو پابندیاں لگانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں جب کہ ٹیرف لگانے کے لیے استعمال کرنے والے ٹرمپ پہلے صدر تھے۔


 واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس سے کئی ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں، جن میں ہندوستان پر 50 فیصد تک ٹیرف بھی شامل ہے۔ اس کا ایک حصہ روس سے ہندوستان کی خام تیل کی درآمد پر عائد کیا گیا تھا، جسے ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین جنگ کی فنڈنگ ​​سے منسلک کیا تھا۔ تاہم ہندوستان اور امریکہ کے درمیان رواں ماہ ہونے والے تجارتی معاہدے کے بعد ہندوستان پر ٹیرف 18 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔ ٹیرف کے جھٹکے کے بعد ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلے کے باوجود ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یعنی ٹرمپ کے مطابق ہندوستان پہلے کی طرح ٹیرف دیتا رہے گا۔

 ٹرمپ نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ہندوستان کے ساتھ میرے تعلقات اچھے ہیں اور ہم ہندوستان کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں، ہندوستا ن روس سے تیل حاصل کر رہا تھا اور انہوں نے میرے کہنے پر اپنے تعلقات منقطع کر لیے کیونکہ ہم اس خوفناک جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر ماہ 25 ہزار لوگ مارے جا رہے ہیں۔


 سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کو پھردہرایا کہ انہوں نے گزشتہ موسم گرما میں ٹیرف کا استعمال کرکے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کو روکا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کو بھی روکا، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ 10 طیارے مار گرائے گئےتھے۔ یہ جنگ جاری تھی اور ہو سکتا تھا کہ ایٹمی جنگ میں بدل جائے۔ ابھی کل ہی پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے جنگ روک کر 3 کروڑ لوگوں کی جانیں بچائیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔