کورونا: امریکی صدر ٹرمپ کی صحافی سے نوک جھونک، غصہ میں پریس کانفرنس چھوڑی

صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا تھا کہ وہ بارہا دیگر ممالک سے زیادہ ٹیسٹنگ کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں، پھر امریکہ میں اموات کا سلسلہ بدستور جاری کیوں ہے؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایشیائی امریکی رپورٹر کے ساتھ تیکھی نوک جھونک کے بعد پریس کانفرس کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا۔ یہ واقعہ کل اس وقت پیش آیا جب وہ کورونا وائرس کے بحران پر پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ اسی اثنا میں ’سی بی ایس‘ کی نمائندہ ویزیا جیانگ نے ان سے پوچھا کہ وہ بار بار اس بات کو کیوں دوہراتے رہتے ہیں کہ امریکہ وائرس کی ٹیسٹنگ کے معاملے میں باقی ممالک سے بہتر کام کر رہا ہے۔ ویزیا جیانگ نے کہا کہ ’’دنیا کے ساتھ یہ مقابلہ کیوں جب امریکی اب بھی مارے جا رہے ہیں۔‘‘

اس پر ڈونلڈ ٹرمپ بھڑک اٹھے۔ انہوں نے کہا، ’’دنیا میں ہر جگہ لوگ مر رہے ہیں اور شاید یہ سوال آپ کو چین سے پوچھنا چاہیے۔ مجھ سے مت پوچھو، چین سے پوچھو۔ ٹھیک ہے؟‘‘ اس کے بعد چین سے امریکہ آنے والی ویزیا جیانگ نے پھر ڈونالڈ ٹرمپ سے پوچھا، ’’سر آپ مجھ سے ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘

جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ’’میں ہر اس فرد سے کہہ رہا ہوں جو مجھ سے ایسا برا سوال پوچھے گا؟ اس کے بعد ویزیا جیانگ کچھ کہہ ہی رہی تھیں کہ امریکی صدر نے ایک اور صحافی سے سوال پوچھنے کو کہا۔ یہ صحافی سوالات پوچھ ہی رہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اچانک وہاں سے چلے گئے۔

اس واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی جانے لگی اور ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #StandWithWeijiaJiang (میں ویزیا جیانگ کے ساتھ ہوں) ٹرینڈ ہونے لگا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کی میڈیا کے ساتھ تلخی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی وہ کئی مواقع پر صحافیوں سے بھڑ چکے ہیں۔ غور طلب ہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے 80 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 13 لاکھ سے زیادہ افراد اس کے انفیکشن میں مبتلا ہیں۔ یہ ملک اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔