فائزر کی ویکسین لگانے سے 13 اسرائیلیوں کو لقوے کی شکایت

اطلاعات کے مطابق وزارت صحت نے کہا ہے کہ اگر ان لوگوں کی حالت بہتر ہوتی ہے تو اس کے بعد ہی انہیں کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز دی جائے گی۔

فائزر، تصویر یو این آئی
فائزر، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

یروشلم: اسرائیل میں فائزر کمپنی کی کورونا سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جانے کے بعد کم از کم 13 افراد کے چہرے میں ہلکے لقوے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ وزارت صحت کے عہدیداروں نے یہ اطلاع دی ہے۔ وائی نیٹ کے مطابق ڈاکٹروں کا اندازہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور انہوں نے اس طرح کے مضر اثرات کے پیش نظر اس ویکسین کی دوسری ڈوز کو لگائے جانے پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزارت صحت نے کہا ہے کہ اگر ان لوگوں کی حالت بہتر ہوتی ہے تو اس کے بعد ہی انہیں کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز دی جائے گی۔ گزشتہ سال نومبر میں اسرائیلی حکومت نے 80 لاکھ کورونا ویکسین ڈوز کے لئے فائزر اور بائیواینٹیک کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور جب سے ملک میں کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ہیں تب سے اب تک 20 لاکھ سے زیادہ افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔ کورونا ویکسین کے بعد دو بزرگ اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں نے اطلاع دی ہے کہ کورونا ویکسین لینے کے بعد 96 افراد شدید پیچیدگیوں کے شکار ہوگئے ہیں اور 24 افراد مستقل طور پر معذوری کے شکار ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ 225 افراد کو اسپتالوں میں داخل ہونا پڑا اور 1388 افراد کو ہنگامی ہیلتھ خدمات کی ضرورت پڑی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next