’واشنگٹن پوسٹ‘ پھر شدید بحران کا شکار، ملازمین کی برطرفی کے بعد پبلشر ول لیوس کا استعفیٰ

کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے مشہوراخبار’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کی مشکلات مبینہ طور پر اس وقت مزید بڑھ گئیں جب جیف بیزوس نے صدارتی انتخابات کے دوران کملا ہیرس کی حمایت کرنے والے ایک اداریے کو روک دیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>لوگو واشنگٹن پوسٹ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 امریکی اخبار’ واشنگٹن پوسٹ‘ کے پبلشر اور سی ای او ول لیوس نے ہفتے کے روز اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کمپنی کی جانب سے کی گئی چھٹنی (لے آف) کے 3 دن بعد کیا ہے۔ عملے کو بھیجے گئےایک ای میل میں لیوس نے کہا کہ واشنگٹن پوسٹ میں دو سال کی تبدیلی کے بعد اب میرے لیے الگ ہونے کا صحیح وقت ہے۔ انہوں نے اخبار کےمالک جیف بیزوس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشکل فیصلے اخبار کے پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

ملازمین کی اس برطرفی کے نتیجے میں اخبار کے نیوز روم میں 300 سے زیادہ صحافیوں اور عملے کے ارکان کی نوکری چلی گئی ہے جو کل عملے کا تقریباً 30-33 فیصد ہے۔ لیوس اور بیزوس دونوں عملے کی میٹنگ سے غیر حاضر تھے جب برطرفی کا اعلان کیا گیا جس سے عملے میں ناراضگی پھیل گئی تھی۔


برطانوی نژاد ول لیوس نے جنوری 2024 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا لیکن انھوں نے اپنی اس مدت کے دوران شروع سے ہی بڑے نشیب وفراز کا سامنا کیا۔ ان کی قیادت میں تنظیم نو کے منصوبے ناکام ہو گئے اور سابق ایڈیٹر سیلی بزبی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ ول کی رخصتی کے بعد اب یہ عہدہ جیف ڈی اونوفریو کے حوالے کر دیا گیا ہے، جنہوں نے گزشتہ جون میں کمپنی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اخبار کی مشکلات مبینہ طور پر اس وقت مزید بڑھ گئیں جب جیف بیزوس نے صدارتی انتخابات کے دوران کملا ہیرس کی حمایت کرنے والے ایک اداریے کو روک دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد واشنگٹن پوسٹ کے ہزاروں صارفین نے اپنی سبسکرپشن منسوخ کر دیں۔ اخبار کے ادارتی صفحات کو زیادہ قدامت پسند سمت میں منتقل کرنے کی کوششوں نے بھی عملے اور قارئین میں ناراضگی کو ہوا دی۔ بھاری مالی نقصانات اور ڈیجیٹل ٹریفک میں کمی نے اخبار کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔