امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ سے ایک تہائی عملہ برطرف، بین الاقوامی صحافیوں میں مایوسی
اخبار کے مالک جیف بیزوس نے اس تازہ فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ اخبار کو منافع بخش بنائے، جس کی وجہ سے انہیں نیوز روم میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکہ کی معروف اخبار کمپنی’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے بدھ کے روز اپنے تقریباً ایک تہائی عملے کو ملازمت سے برطرف کردیا جس کی وجہ سے اس کے نیوز روم کو ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے اور کمپنی کی بین الاقوامی کوریج میں بھی نمایاں طور پر کافی کمی آئی ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کئے جانے سے صحافیوں میں تشویش اور مایوسی پھیل گئی ہے۔ اس موقع پرکئی صحافیوں نے کہا کہ ادارے کے اس قدام سے عالمی خبروں کی کوریج کمزور ہوگی جبکہ عالمی بحران میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
خارجہ امور کے سینئر کالم نگار ایشان تھرور نے، جو برطرف کیے جانے والوں میں شامل تھے، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مجھے آج واشنگٹن پوسٹ سے نکال دیا گیا، ساتھ ہی زیادہ تر بین الاقوامی عملے اور بہت سے دوسرے شاندار ساتھی بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مجھے اپنے نیوز روم اور خاص طور پر ان شاندار صحافیوں کی طرف سے بہت دکھ ہوا جنہوں نے پوسٹ کے لیے بین الاقوامی سطح پر کام کیا، ایڈیٹرس اور نامہ نگار جو گزشتہ تقریباً12 برسوں سے میرے ساتھی رہے ہیں۔
تھرور نے بتایا کہ انہوں نے جنوری 2017 میں ’ورلڈ ویو‘ کالم شروع کیا تھا تاکہ قارئین کو دنیا اور امریکہ کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے۔ انہوں نے اس بات پر اظہار تشکر کیا کہ ان کے کالم کو گزشتہ برسوں میں نصف ملین وفادار صارفین پڑھے رہے۔ بین الاقوامی عملے کی برطرفی کا اثر بہت بڑا ہے۔ ایوان فیگان بام نے بتایا کہ اخبار نے اپنے ایشیا ایڈیٹر، نئی دہلی بیورو چیف، سڈنی بیورو چیف، قاہرہ بیورو چیف، پورے مشرق وسطیٰ کی رپورٹنگ ٹیم، چین، ایران، ترکیہ کے نامہ نگاروں اور کئی دیگرعملے کے ارکان کو فارغ کر دیا گیا ہے۔
فیگان بام نے کہا کہ دنیا ہر منٹ امریکہ پرمرکوز ہونے کی بجائے اور کم ہورہی ہے جبکہ پہلے سے زیادہ امریکہ مرکوز ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ فیصلہ ایک افسوسناک لیکن درست عکاس ہے۔ اینا فیفیلڈ، جنہیں ایشیا ایڈیٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، نے کہا کہ حیرت انگیز صحافیوں اور انسانوں کے ساتھ کام کرنا بڑا اعزاز ہے۔ پرنشو ورما نئی دہلی کے بیورو چیف تھے، انہوں نے اسے ’اعزاز کی بات‘ قرار دیا۔ ملازمین سے کہاگیا کہ آج گھر پر رہیں۔ ایگزیکٹو ایڈیٹر میٹ مرے نے ایک داخلی میمو میں کہا کہ یہ اقدامات نیوز روم میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں سمیت تقریبا تمام خبروں کے محکموں کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کوریج کافی کم ہوجائے گی حالانکہ کچھ غیر ملکی بیورو کو حکمت عملی کے ساتھ برقرار رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : واشنگٹن پوسٹ میں برطرفیاں، مشتعل ملازمین کا ہڑتال کا اعلان
برطرفیوں میں میٹرو ڈیسک میں بڑی کٹوتی، اسپورٹس سیکشن کا تقریباً مکمل طورپر بندہونا، کتب سیکشن کا بند ہونااور روزانہ ’پوسٹ رپورٹس‘ پوڈ کاسٹ کی منسوخی شامل ہیں۔ کاروباری حوالے سے بھی بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم نو’ ہمارے صحافتی مشن کی سروس میں مستقبل محفوظ کرنے اور استحکام فراہم کرنے میں مدد کرے گا‘ لیکن کئی ملازمین نے عوامی طورسے شبہات کا اظہار کیاہے۔
ایمیزون بیٹ کی رپورٹر کیرولین او ڈونوون نے لکھا کہ میں باہر ہوں، اور کئی بہترین لوگ بھی نوکری سے نکالے گئے ہیں، یہ بھیانک ہے۔ ایمینوئل فیلٹن، ریس اور نسل کے رپورٹر ہیں، نے کہا کہ یہ کوئی مالی فیصلہ نہیں تھا یہ ایک نظریاتی فیصلہ تھا۔ اخبار کے مالک جیف بیزوس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ اخبار کو منافع بخش بنائے، جس کی وجہ سے انہیں نیوز روم میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹی بیرن نے کہا کہ یہ ’دنیا کے سب سے بڑے نیوز ادارے میں سیاہ ترین دنوں میں سے ایک‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری چیلنجز تھے لیکن اوپر سے لئے گئے غلط فیصلوں نے انہیں مزید بگاڑ دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔