روس- یوکرین جنگ کا خاتمہ قریب! ولادیمیر پوتن نے کہا ’موجودہ حالات کے لیے مغربی اشرافیہ ذمہ دار‘

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے بیان میں کہا کہ مغرب کو امید تھی کہ وہ چند مہینوں میں روس کو کچل دیں گے اور اس کی ریاستی طاقت کو تباہ کر دیں گے لیکن وہ اس میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ولادیمیر زیلنسکی/ولادیمیر پوتن</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ’وکٹری پریڈ‘ کے بعد بڑا دعویٰ کیا ہے۔ پوتن کا خیال ہے کہ یوکرین کے ساتھ جاری تنازع اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔ انہوں نے اس جنگ کو بھڑکانے کے لیے مغربی ممالک کے ’گلوبلسٹ ونگ‘ کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔ پوتن کے مطابق مغربی ممالک نے یوکرین کو اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کے مفادات کو پوری طرح نظر انداز کیا گیا اور یوکرین کے ہاتھوں روسی فوج نے حملہ کروایا گیا۔

صدر پوتن نے سال 2022 کے استنبول سمجھوتے کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اس وقت یوکرین سمجھوتے کے لیے تیار تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے ابتدائی دستاویزات پر دستخط بھی کردیئے تھے لیکن بعد میں فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک کے دباؤ میں آکر قدم پیچھے کھینچ لئے۔ پوتن نے کہا کہ صدر میکرون اور اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم نے یوکرین کو یہ کہہ کر روکا کہ یہ ایک غیر منصفانہ سمجھوتہ ہے۔ پوتن نے سوال کیا کہ جب یوکرینی نمائندہ وفد خود تیار تھا تو بیرونی قوتیں اسے غیر منصفانہ کیسے کہہ سکتی ہیں؟ ان کے مطابق مغربی فوجی امداد نے ہی اس جنگ کو اتنا کھینچا ہے۔


جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے پر پوتن نے محتاط امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کو امید تھی کہ وہ چند مہینوں میں روس کو کچل دیں گے اور اس کی ریاستی طاقت کو تباہ کر دیں گے لیکن وہ اس میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ اب وہ خود اس دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ پوتن نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ یورپ میں مستقبل میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہوں گی اور ایسی طاقتیں اقتدار میں آئیں گی جو روس کے ساتھ بہتر تعلقات کو ترجیح دیں گی۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ’یوم فتح‘ کے موقع پر بھی کہا کہ انہوں نے یوکرینی جنگ کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے ہندوستان، چین اور امریکہ جیسے اہم  ممالک کو اعتماد میں لیا ہے۔ پوتن نے کہا کہ امن کی جانب آگے بڑھنے کے لیے ان ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ اس سفارتی اقدام کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد میدان جنگ میں انسانی امداد کی سہولت فراہم کرنا اور تناؤ کو کم کرنا ہے۔


پوتن نے کہا کہ یہ قدم نازی ازم پر تاریخی فتح کے اعزاز کے لیے ضروری تھا۔ انہوں نے کیف میں غیر ملکی سفارت خانوں کی حفاظت کی بھی یقین دہانی کرائی۔ پوتن نے اس عمل میں ہندوستان اور چین جیسے ’’دوست ممالک‘‘ کی شرکت کو عالمی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔ اگرچہ جنگ بندی صرف 3 دن کے لیے ہے لیکن اسے مستقبل میں ایک مستقل امن معاہدے کی جانب بڑی ابتدائی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

روسی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ یہ عارضی امن معاہدہ روس کے یوم فتح کی تقریبات کے موقع پر ہوا۔ ٹرمپ کے مطابق صدر پوتن اور یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اس مختصر جنگ بندی پر متفق ہوئے۔ حالانکہ عالمی برادری اب بھی اس جنگ کے دیرپا حل اور بات چیت کے ذریعے امن کی بحالی کی امید رکھتی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔