ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران جنگ کے خلاف امریکہ میں شدید احتجاج، مظاہرین نے لگائے ’اینڈ دی وار‘ اور ’نو کنگز‘ کے نعرے
امریکہ میں منعقد ریلیوں میں 70 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے جس میں مظاہرین نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اورایران کے ساتھ جاری جنگ کے خلاف آواز اُٹھائی۔

مغربی ایشیا میں ایک ماہ سے جاری تنازع نے دنیا بھر میں کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس تنازع کی شروعات (28 فروری) کی بات کریں تو یہ ہر روز شدید ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے خوفناک حملوں کے درمیان ایران بھی اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں پر زوردار جوابی حملے کررہا ہے۔ ایک طرف میزائلوں اور ڈرون کی گرج کے درمیان یہ تنازع اب 30 ویں دن میں داخل ہوچکا ہے اور پورے خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
دوسری طرف امریکہ کے کئی حصوں میں ہفتہ کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر ’نوکنگز‘ کے عنوان سے ریلیاں منعقد کی گئیں جس میں لاکھوں شہریوں نے حصہ لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ریلیوں میں 70 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے جس میں لوگوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اورایران کے ساتھ جاری جنگ کے خلاف آواز اُٹھائی۔ یہ مظاہرے امریکہ کے سبھی بڑے شہروں اور چھوٹے قصبات میں ہوئے جن میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک دونوں ریاستوں کے لوگ شامل ہوئے۔
بتادیں کہ مظاہرین مظاہرین نے نعرے لگائے، پلے کارڈز دکھائے اور گانے بجانے ورقص کے ذریعہ اپنا احتجاج درج کرایا۔ نیویارک سٹی میں لوگ مڈٹاؤن مین ہیٹن سے مارچ کررہے تھے اور امیگریشن، ٹرمپ انتظامیہ اور ایران تنازع کے خلاف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ اسی طرح سان فرانسسکو میں مظاہرین ایمبارکیڈرو پلازہ سے سوک سینٹر کی طرف مارچ کررہے تھے اور امریکی جھنڈے اور مختلف تحریکوں جیسے یوکرین اور خواجہ سراؤں کے حقوق کی حمایت میں بینرز دکھارہے تھے۔
اتنا ہی نہیں سینٹ پال، مینیسوٹا میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں راک آرٹسٹ بروس اسپرنگسٹن نے مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مینیسوٹا کو پوری قوم کے لیے تحریک بتایا اور جنوری میں فیڈرل ایمیگریشن ایجنٹوں کے ذریعہ مارے گئے الیکس پریٹی اور رینی گڈ کو خراج تحسین پیش کیا۔ مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے بھی وفاقی امیگریشن پالیسیوں پر کڑی تنقید کی اور مقامی باشندوں کی ہمت اور کمیونٹی کی حمایت کی تعریف کی۔
مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد نے ’اینڈ دا وار‘ اور ’نو کنگز‘ کے نعرے لگارہے تھے جبکہ کچھ مقامات پر اسرائیلی حکومت کے خلاف بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بزرگ افراد نے شرکت کی اور ایران جنگ کے خلاف آواز اٹھائی۔ رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز بھی امریکہ کی مختلف ریاستوں میں مزید 3200 احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں اور منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس دوران مظاہرین نے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جبکہ منتظمین کے مطابق ملک کی 50 ریاستوں میں 3 ہزار سے زائد مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔ ریاست مینی سوٹا میں ہونے والی بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام سے ایران جنگ کے حوالے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اس جنگ کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں ’’نو کنگز‘‘ کے احتجاج کی یہ تیسری لہر ہے۔ گزشتہ سال دو بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جن میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ ان مظاہروں کی وجہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور سست معیشت جیسے مسائل تھے۔ اگرچہ فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں صدر ٹرمپ کے تقریباً 50 حامیوں اور مظاہرین کے درمیان زبانی جھڑپیں ہوئیں، تاہم احتجاج پرامن رہا اور عوام نے حکومتی پالیسیوں اور معاشی مسائل کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔