جنوبی کوریا کا ایران کے منجمد مالی اثاثے جاری کرنے کا فیصلہ

عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ ایران حالیہ برسوں میں ’کورین بینکوں کے عدم تعاون‘ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے حصول کے لئے اپنی قانونی کوششیں جاری رکھے گا۔

تصویر بشکریہ ایرنا ur.irna.ir
تصویر بشکریہ ایرنا ur.irna.ir
user

یو این آئی

سیول: اپنے بینکوں میں منجمد کیے گئے ایران کے اربوں ڈالر میں سے ایک حصہ جاری کرنے پر جنوبی کوریا نے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا نے تہران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے کئی عرصے سے اپنے بینکوں میں ایران کے اربوں ڈالر منجمد کر رکھے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں ایران کے سینٹرل بینک (سی بی آئی) نے کہا کہ تہران میں جنوبی کوریا کے سفیر ریو جیانگ ہیون نے سفارتخانے میں ایک اجلاس میں نئی پیش رفت کا اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں وسائل کو مطلوبہ مقامات پر کس طرح منتقل کیا جائے اور مرکزی بینک کے وسائل کے حجم کے بارے میں ضروری معاہدے بھی کیے گئے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنوبی کوریا میں ایران کے تقریباً 10 ارب ڈالر تھے۔ مرکزی بینک کے مطابق جنوبی کوریا کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک ایران کو اپنے تمام مسدود وسائل تک رسائی کی اجازت دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ سی بی آئی کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے جیانگ ہن کو بتایا کہ ایران نے نئی پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ لیکن ایران حالیہ برسوں میں ’کورین بینکوں کے عدم تعاون‘ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے حصول کے لئے اپنی قانونی کوششیں جاری رکھے گا۔ ایران نے ’ماحولیاتی آلودگی‘ کی وجہ سے جنوری کے اوائل میں جنوبی کوریا کے ایک تیل بردار بحری جہاز کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔

تہران کا مؤقف تھا کہ اس مسئلے کو سیاست کے پس منظر میں نہ دیکھا جائے اور اس کا تعلق مسدود شدہ فنڈز سے نہیں ہے۔ بحری جہاز اور منجمد رقم کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لئے جنوبی کوریا کا ایک وفد کچھ دن بعد تہران پہنچا لیکن وہ کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ بعد ازاں ایران تیل بردار جہاز کے عملے کی رہائی پر راضی ہوگیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔