ساٹھ سال بعد کورونا سے زیادہ خطرناک وبا پھیلنے کا خدشہ!

محققین نے مستقبل کے خطرے کی پیشن گوئی کرنے کے لئے گزشتہ 400 برسوں میں دنیا بھر کی لا علاج بیماریوں کے پھیلاؤ پر تحقیق کی ہے

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

روم: کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے۔ ابھی اس انفیکشن سے پوری طرح نجات نہیں ملی ہے کہ ماہرین صحت نے ایک ایسی ہی دیگر بیماری کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اٹلی میں پڈوا یونیورسٹی کے ماہرین کی ٹیم نے ایک تحقیق کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ آج سے 60 سال بعد یعنی 2080 میں دنیا بھر میں کورونا وائرس سے بھی خطرناک وبا پھیلے گی۔

محققین نے مستقبل کے خطرے کی پیشن گوئی کرنے کے لئے گزشتہ 400 سالوں میں دنیا بھر کی لا علاج بیماریوں کے پھیلاؤ پر تحقیق کی ہے۔ انہوں نے پایا کہ متعدد بیماریاں اتنی خطرناک نہیں ہیں جتنا پہلے مانی گئی تھیں۔ آنے والے وقت میں ان کے اور زیادہ ہونے کے امکان ہیں اور اگلی وبا تک 2080 تک اپنے پیر پسارے گی۔ محققین نے پایا کہ کورونا اور عالمی سطح پر یکساں اثر رکھنے والی وبا کا امکان کسی بھی سال میں تقریباً 2 فیصد ہے۔


محققین نے بڑھتے جوکھم کے پیچھے کی وجوہات معلوم نہیں کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافہ، کھانے پینے میں تبدیلی، ماحولیات میں گراوٹ اور انسانوں اور بیماریوں کے محافظ جانوروں کے بیچ لگاتار زیادہ روابط کی وجہ سے ایسا ہونے کے امکان ہیں۔ ٹیم نے یہ بھی پایا کہ ایک اور بڑی وبا کا امکان بڑھ رہا ہے۔ ہمیں مستقبل کے جوکھم کے لئے بہتر طریقہ سے تیار رہنا چاہئے۔

تحقیق کے کے نتائج پروسیڈنگز آف دی نیشنل آکادمی آف سائنسز جنرل میں شائع ہوئے ہیں۔ اس کے مصنف مارکو مرانی اور ان کی ٹیم نے اس میں نئے اسٹیٹکس کے طریقوں کا استعمال کیا۔ ان کے تجزیہ میں گزشتہ چار صدیوں میں طاؤن، چیچک، ہیضہ، ٹائفائیڈ اور نئے نئے فلو شامل تھے۔ سائنسدانوں نے پایا کہ ماضی میں وبا کے دوہراؤ میں اہم تبدیلی آئی ہے۔ جس سے انہیں ایسے واقعات کے دوہراؤ کے امکان کا اندازہ لگانے میں مدد ملی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔