’میری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھیں، بہت جلد واپس آؤں گی‘، بنگلہ دیش حکومت کو شیخ حسینہ کا انتباہ

شیخ حسینہ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ان کی واپسی کسی مقررہ تاریخ پر منحصر نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے بنگلہ دیش میں جمہوری ماحول، آزادیٔ اظہار، سیاسی حقوق اور قانون کی حکمرانی واپس آنا ضروری ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد اپنے وطن واپسی کریں گی۔ ہندوستان میں مقیم شیخ حسینہ نے ایک ای میل انٹرویو میں کہا کہ ان کی غیر موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ خاموش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے لیے مسلسل لڑ رہی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی سرگرم ہیں۔ شیخ حسینہ نے 2024 میں پھوٹنے والی طلبہ تحریک کے بعد اقتدار سے دستبردار ہو کر ہندوستان کو اپنا مسکن بنایا تھا۔ بنگلہ دیش میں ان کی پارٹی عوامی لیگ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش واقع انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے انہیں موت کی سزا بھی سنائی ہے۔

حسینہ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ان کی واپسی کسی مقررہ تاریخ پر منحصر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بنگلہ دیش میں جمہوری ماحول، آزادیٔ اظہار، سیاسی حقوق اور قانون کی حکمرانی واپس آنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ان کی واپسی کے لیے نہیں بلکہ ملک کی آزادی اور عوامی بھلائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ حسینہ نے بتایا کہ ان پر 19 بار جان لیوا حملے ہو چکے ہیں لیکن وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹیں۔ عوامی لیگ پر پابندی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ عوام کی جماعت ہے اور اسے محض کاغذی حکم نامے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عوامی لیگ پر پابندی لگا کر اسے ختم کیا جا سکتا تو بنگلہ دیش کا جنم ہی نہیں ہوتا۔


شیخ حسینہ نے کہا کہ بنگلہ دیش میں اب بھی لاکھوں حامی اور ہزاروں رہنما پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت عوامی لیگ سے خوفزدہ ہے، اسی لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔ شیخ حسینہ کے بغیر پارٹی اور عوامی لیگ کے اندر تبدیلیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پارٹی جمہوری طریقے سے چلتی ہے، اگر کسی لیڈر پر الزامات لگتے ہیں تو پارٹی خود کارروائی کرتی ہے۔ حالانکہ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارٹی اپوزیشن کی سازشوں کے دباؤ میں نہیں ٹوٹے گی۔

شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کی حکومت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے عوامی لیگ کے رہنماؤں اور حامیوں کے خلاف سیاسی نسل کشی کی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 600 رہنما اور کارکنان مارے گئے اور 1.50 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں کو اپنی جان بچانے کے لیے ملک چھوڑنا پڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش میں جیسے ہی ایک عام جمہوری ماحول قائم ہوگا، سبھی رہنما واپس آئیں گے۔


ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں حسینہ نے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخی ہیں۔ ہندوستان نہ صرف ہمارا پڑوسی ہے بلکہ اس نے بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ حالانکہ طویل عرصے سے ہمارے ملک میں کچھ سیاسی اور بنیاد پرست گروہ ہندوستان مخالف بیان بازی کا سہارا لے کر سیاست کر رہے ہیں۔ محمد یونس کی عبوری حکومت نے بھی ایسا ہی کیا۔