شیخ حسینہ کو 10 سال اور ان کی بھتیجی ٹیولپ صدیقی کو 4 سال قید کی سنائی گئی سزا، پلاٹ گھوٹالہ معاملہ میں آیا فیصلہ

گزشتہ سال شیخ حسینہ کو بدعنوانی کے 4 معاملوں میں 26 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی بیٹی صائمہ، بیٹے صجیب، بہن ریحانہ اور بھتیجی ٹیولپ کو بھی 4-4 معاملوں میں سے ایک میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایک خصوصی عدالت نے ڈھاکہ میں پورباچل پلاٹ گھوٹالہ سے متعلق درج 2 مقدمات میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو 10 سال قید اور ان کی بھتیجی و برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو 4 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ڈھاکہ کی خصوصی جج کی عدالت-4 کے جج محمد ربیع العالم نے حسینہ کی دوسری بھتیجی ازمینہ صدیق اور بھتیجے رادوان مجیب صدیق بابی کو بھی 2 مقدمات میں سے ایک میں 7 سال جیل کی سزا سنائی۔

اے سی سی کے سرکاری وکیل میر احمد علی سلام نے اس تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے دوپہر تقریباً 12.20 بجے فیصلہ سنایا۔ حسینہ اور ان کے 3 اہل خانہ کے علاوہ عدالت نے 2 مقدمات میں 11 دیگر ملزمین کو 10 سال قید اور ایک دیگر کو 2 سال جیل کی سزا سنائی۔ ازمینہ اور بابی سمیت باقی 8 ملزمین پر 1-1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو انہیں 6 ماہ مزید جیل میں رہنا ہوگا۔


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 27 نومبر سے یکم دسمبر کے درمیان، شیخ حسینہ کو 4 بدعنوانی کے مقدمات میں 26 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی بیٹی صائمہ واجد ور بیٹے صجیب واجد جوئے، بہن شیخ ریحانہ اور بھتیجی ٹیولپ کو بھی 4-4 مقدمات میں سے ایک میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) کی جانب سے دائر ہر مقدمے کی سماعت 15 پیشیوں کے اندر مکمل ہو گئی تھی۔ عدالتی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سماعت کے دوران مجموعی طور پر 39 افراد نے مقدمات میں گواہی دی۔ دیگر کے علاوہ، گواہوں میں اے سی سی کے 3 افسران، راجُک کے 3 اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک دفتری معاون، ہاؤسنگ اور پبلک ورکس وزارت کے ایک جوائنٹ سکریٹری کے علاوہ 3 ملازمین، ڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن کے 4 ملازمین اور چیف ایڈوائزر آفس کے 3 ملازمین شامل ہیں۔

78 سالہ حسینہ اور ان کے 3 اہل خانہ کے علاوہ ملزمان میں سابق ہاؤسنگ اور پبلک ورکس اسٹیٹ منسٹر شریف احمد، سابق سکریٹری شاہد اللہ خانڈیکر اور قاضی وسیع الدین، سابق ایڈیشنل سکریٹری ایم ڈی ولی اللہ، سابق انتظامی افسر سیف الاسلام سرکار اور سابق سینئر اسسٹنٹ سکریٹری پوربی گولدار شامل ہیں۔ دیگر ملزمان میں راجُک کے سابق چیئرمین انیس الرحمٰن میاں، سابق اراکین محمد خورشید عالم، تنمے داس، محمد ناصر الدین، شمس الدین احمد چودھری اور نورالاسلام، موجودہ ڈائریکٹر قمرالاسلام، سابق ڈائریکٹر شیخ شاہین الاسلام، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر نائب علی شریف، سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر مظہر الاسلام اور فاریہ سلطانہ، وزیر اعظم دفتر کے سابق سکریٹری محمد صلاح الدین شامل ہیں۔


واضح رہے کہ گزشتہ سال 12 سے 14 جنوری کے درمیان اے سی سی نے پورباچل نیو ٹاؤن پروجیکٹ کے تحت پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں اپنے ڈھاکہ انٹیگریٹڈ ڈسٹرکٹ آفس-1 میں 6 الگ الگ مقدمات درج کیے۔ ان میں حسینہ کو تمام 6 مقدمات میں ایک مشترکہ ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ اسی سال 31 جولائی کو حسینہ، ریحانہ، جوئے، بابی، ٹیولپ اور ازمینہ سمیت 29 افراد کے خلاف ان کے اپنے اپنے مقدمات میں الزامات طے کیے گئے تھے۔ اینٹی کرپشن ادارے نے الزام لگایا کہ حسینہ نے سینئر راجُک افسران کے ساتھ ملی بھگت کر کے پورباچل نیو ٹاؤن پروجیکٹ کے سیکٹر 27 کے ڈپلومیٹک زون میں اپنے، جوئے، صائمہ، ریحانہ، بابی اور ازمینہ کے لیے غیر قانونی طریقے سے 6 پلاٹ، ہر ایک 10 کٹھہ کے، حاصل کر لیے تھے۔ حالانکہ موجودہ قواعد کے تحت وہ اس کے اہل نہیں تھے۔