مواخذہ کی کارروائی سنیٹ سے آئینی قرار، ٹرمپ اپنے وکیل سے سخت نالاں

سابق صدر ٹرمپ کے وکلاء نے سنیٹروں پر زور دیا تھا کہ وہ مواخذے کو غیر آئینی اور واضح طور پر جھوٹا الزام قرار دے کر مسترد کریں، لیکن سنیٹروں نے ان کی اپیل مسترد کردی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / Getty Images
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکی سنیٹ نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پوری طرح آئینی ہے۔ سنیٹ نے منگل کے روز 56-44 تناسب سے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹنگ کی۔ ریپبلکن پارٹی کے چھ قانون سازوں نے بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں ووٹ دیا۔

خیال رہے کہ سابق صدر کے وکلاء نے سنیٹروں پر زور دیا تھا کہ وہ مواخذے کو غیر آئینی اور واضح طور پر جھوٹا الزام قرار دے کر مسترد کریں, لیکن سنیٹروں نے ان کی اپیل مسترد کردی اور مواخذہ کو آئینی قرار دے دیا۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا 6 جنوری کو کیپٹل ہل میں ہونے والے تشدد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔


ادھر، ڈونالڈ ٹرمپ نے مواخذے کے مقدمہ پر بحث کے پہلے دن اپنے دفاعی وکیل کے دلائل پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سی این این نے اس معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ اپنے وکیل بروس کینٹر کی ابتدائی دلیل سے اتنے مایوس ہوگئے تھے کہ وہ تقریباً چیخ اٹھے تھے۔ ریپبلکن پارٹی کے قانون سازوں جیسے بل کیسڈی، جان کارنن اور ٹیڈ کروز نے پہلے ہی اس بات پر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی سرعام تنقید کی ہے کہ وہ سماعت کے دوران ٹھوس دلیل نہیں پیش کرسکی کہ سابق صدر کے خلاف مواخذہ کی سماعت آئینی ہے یا نہیں۔

واضح ر ہے کہ ٹرمپ کے حامیوں نے 6 جنوری کو واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی بلڈنگ کیپٹل ہل پر حملہ کرکے املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ یہ پُرتشدد واقعہ ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس کے قریب ہزاروں حامیوں سے خطاب کرنے کے بعد پیش آیا تھا۔


مظاہرے کے دوران ہونے والے تشدد میں دو خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ پولیس نے اس سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ ٹرمپ پر کیپٹل ہل میں تشدد بھڑکانے کا الزام ہے، جس کی وجہ سے ان کے خلاف مواخذہ کی تحریک لائے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔