اتراکھنڈ سانحہ: اب تک 32 لاشیں برآمد، 34 افراد کو بحفاظت نکالنے کی کوششیں جاری

اتراکھنڈ میں گلیشیر ٹوٹنے سے پیش آئے سانحہ کے بعد سرنگ میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لئے کوششیں لگاتار جاری ہیں، اب تک 32 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں

IANS
IANS
user

قومی آوازبیورو

دہرادون: اتراکھنڈ میں گلیشیر ٹوٹنے سے پیش آئے سانحہ کے بعد سرنگ میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لئے کوششیں لگاتار جاری ہیں۔ تپوون پاور پراجیکٹ کی ٹنل میں پھنسے 34 مزدوروں کو نکالنے کے لئے ریسکو آپریشن چلایا جا رہا ہے۔ ٹنل کے ایک طرف سے فوج اور آئی ٹی بی پی کے جوان ریسکو آپریشن چلا رہے ہیں جبکہ دوسری طرفس سے فضائیہ کے خصوصی دستے کو اتار کر راستہ بنانے کا کام کیا جا رہا ہے۔

گلیشیر ٹوٹنے سے آئے سیلاب سے رشی گنگا اور تپوون پاور پراجیکٹ میں بہہ گیے تقریباً 200 افراد کو این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ تاحال 32 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں، جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ریسکیو آپریشن کے لیے ڈرون کیمرے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔


تپوون کی ٹنل سے جی سی بی مشینیں لگاتار مٹی نکالنے کا کام کر رہی ہیں۔ ریسکیو ٹیم کو یہاں 180 میٹر تک مٹی کو ہٹانا ہے، جبکہ ابھی تک 120 میٹر تک کا ملبہ ہٹایا جا چکا ہے۔ مزید 60 میٹر مٹی ہٹایے جانے کے بعد ہی مزدوروں کے ملنے کی امید ہے۔

لاپتہ ہونے والے افراد میں بیشتر یوپی سے ہیں، اس لیے یوپی حکومت نے ہریدوار میں کنٹرول روم قائم کیا ہے، جہاں وزیر اعلیٰ یوگی نے تین وزرا کو تعینات کیا ہے، جو کہ حالات پر نظر بنایے ہویے ہیں۔ تپوون سے آگے وادی نیتی کو جانے والی سڑک اور پلوں کی مرمت کا کام بی آر او نے شروع کر دیا ہے۔ وادی کے 11 گاؤں کا رابطہ پلوں کے بہہ جانے کی وجہ سے باہری دنیا سے منقطع ہو گیا ہے۔ یہاں آئی تی بی پی اور فضائیہ کے ذریعے رسد پہنچائی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔